میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کی نئی قیادت کا امتحان

ایران کی نئی قیادت کا امتحان

جرات ڈیسک
جمعرات, ۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً 4 ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر جلوس کی شکل میں آزادی اسکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کرکے منزل تک پہنچ گیا ہے۔

اس تقریب میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک تھی۔ جلوس کو آزادی ا سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کر نے میں10 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔ بعد یہ تابوت قم پہنچائے گئے جہاں سے اب انھیں شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام اور حضرت علی کے روضۂ مبارک والے شہر نجف منتقل کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفی خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی نجف اور عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تقریبات عراق کے شہروں کربلا اور نجف میں منعقد کی جائیں گی۔اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کو جمعرات کو مشہد میں حرمِ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ایران اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے یہ دور دراصل ایران کی نئی قیادت کا امتحان ہے۔ پورا ملک اپنے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو الوداع کہہ رہا ہے۔ خامنہ ای 4 ماہ سے زائد عرصہ پہلے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ تباہ کن فضائی حملوں کے پہلے روز شہید ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں ایرانی حکومت کی قیادت کا بڑا حصہ ختم ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جنگ کا آغاز ہوا تھا۔جس کے بعدبھی ایرانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور ٹرمپ کی خواہش اور توقعات کے برعکس پرانی قیادت کی جگہ نئی قیادت آ گئی ہے اور نئے چہروں کے ساتھ ایک نیا انداز بھی سامنے آیا ہے جس کے اپنے اثرات ہوں گے۔امریکہ اور اسرائیل نے ملک کے بہت سے سابق رہنماؤں کونشانہ بنا کر یہ تصور کیاتھا کہ اب ان کی جگہ وہ اپنی پسند کے مطابق کٹھ پتلیوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھاکر ان سے اپنی پسند کے فیصلے کراسکیں گے۔ اس مقصد کیلئے سابق شاہ کے بیٹے اسرائیلی رہنماؤں کی آشیرباد حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے، لیکن ایرانی عوام نے کسی طرح کی تاخیر اور اختلاف کے بغیر نئی قیادت کو اقتدار سونپ دیا ۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی جگہ لینے والے لوگ اپنی جانیں ہارنے والے رہنماؤں سے بھی زیادہ مضبوط حریف ثابت ہوں گے؟

گزشتہ ماہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں ایک عشائیے کے دوران ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تو بہت سے لوگوں نے اسے ایک ستم ظریفی قرار دیا تھا جنگ بندی کے ایک معاہدے اور اس مقام کے انتخاب نے اس ڈیڑھ صفحے کے معاہدے کا موازنہ اس معاہد ورسائی سے کرا دیا جس پر پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر 1919 میں دستخط کیے گئے تھے۔ 1919 کے معاہدے نے یورپ کی ازسرِنو تشکیل کی تھی، لیکن بھاری ہرجانوں کے مطالبات نے جرمنی میں غصے اور تلخی کو جنم دیا اور صرف 20 برس بعد ایک اور عالمی جنگ کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تقریباً 3 ہفتے بعد جنگ بندی تو ابھی تک برقرار ہے۔ لیکن جنگ کی وجوہات اب بھی حل نہ ہونے کے باعث، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پہلے کی طرح غیر یقینی ہے۔یہ جنگ اس سے کہیں زیادہ اہم اور بڑی ہے جتنا عالمی رہنما اب تک اسے سمجھتے رہے ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر پے در پے دھچکوں کے بعد عام رائے یہ تھی کہ ایران بہت کمزور حالت میں ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کو کئی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔ایسے میں یہ خیال کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ڈٹا رہ سکے گا، حقیقت سے دور لگتا تھا۔لیکن ایران اب بھی قائم ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایران دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کو بند کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پرانے رہنماؤں کی جگہ اب ا یک بالکل نئی نسل اقتدار میں آ گئی ہے۔ اس نسل کا ایک واضح ایجنڈا ہے۔ اس نے جنگ کو سنبھالا اور اب وہ امن کے دور کو بھی سنبھالے گی۔ نئی قیادت ایسے لوگوں پر مشتمل نہیں جنھیں واشنگٹن عموماً ‘انتہا پسند نظریاتی رہنما’ کہتا ہے بلکہ یہ زیادہ تر بعد از انقلاب دور کے رہنما ہیں جن کی توجہ ریاست کو برقرار رکھنے پر ہے اور جو اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن انداز میں کام کرنے کو تیار ہیں ۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای سے 30 سال چھوٹے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں جب علی خامنہ ای کو نشانا بنایا گیا تو خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جسمانی طور پر خاصے کمزور ہو چکے تھے۔ صدر مسعود پزشکیان 71 برس کے ہیں لیکن 1979 کا انقلاب برپا کرنے والی نسل اب اقتدار میں نہیں رہی۔2 اہم شخصیات، پارلیمان کے ا سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف، اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی، دونوں کی عمریں 60 برس سے زیادہ ہیں۔اب ایران کی باگ ڈور کوئی 86 سالہ شخص نہیں چلا رہا۔ عام طورپر خیال کیا جارہا تھا کہ نظام میں تبدیلی کی رفتار کو سست رکھنے والی بڑی رکاوٹ علی خامنہ ای تھے۔کئی دہائیوں تک محتاط مزاج رکھنے والے خامنہ ای نے ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائے رکھی جسے بعض اوقات ‘نہ جنگ، نہ امن’ کہا جاتا تھا لیکن اب ان کے جانشین زیادہ جرات مندانہ انداز اختیار کر چکے ہیں۔ انھوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور پھر چند ہی ہفتوں بعد ایسی شرائط پر جو بظاہر تہران کے لیے ذلت آمیز نہیں تھیں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر بھی آمادہ ہو گئے ۔انھوں نے دکھایا ہے کہ وہ پچھلی نسل کے مقابلے میں جنگ میں زیادہ جارحانہ انداز اپنانے کے لیے تیار ہیں۔اس سال، امریکہ اور اسرائیل کے بڑے حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں کئی امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جن میں بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر اور قطر کا العدید فضائی اڈہ بھی شامل تھا۔کویت میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنانے، جہازوں پر حملے کرنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے ایران کی حکمت عملی نے وائٹ ہاؤس کو بظاہرحیران کر دیا۔کئی دہائیوں سے واشنگٹن اپنے فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے ذریعے ایران کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں ایران کے سخت ردِعمل سے ظاہر ہوا کہ امریکہ کی یہ حکمتِ عملی اب پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔خلیج میں بہت سے ممالک کو امید تھی کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے انھیں تحفظ دیں گے انھوں نے تصور بھی نہیں کیاتھا کہ ان ہی اڈوں کی وجہ سے ان کو ہدف بنا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اب امریکی سیکورٹی تحفظ اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں اوررپورٹس کے مطابق بیشتر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک نامعلوم سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 2023 میں کئی دہائیوں کی دشمنی کے بعد تہران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے والا سعودی عرب ایک مفاہمتی سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہا ہے جس میں ایران اور خلیجی ممالک کو اکٹھا کیا جائے گا ۔تجزیہ کار اور ماہرین موجودہ صورتحال کو اہم موقع’ قرار دیتے ہیں جس میں پرانے حریف ایک دوسرے کے ساتھ نئے تعلقات پر غور کر رہے ہیں اس نوعیت کی بڑی جنگیں بالآخر شطرنج کی بساط کی ترتیب بدل دیتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی یہی ہونے والا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ مدد راستے میں ہے۔انھوں نے ایرانیوں سے کہا تھاکہ جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں تو آپ اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں ۔ یہ آپ کے لیے ممکن ہو گا۔لیکن اب تک ایسے وعدے حقیقت ثابت نہیں ہوئے۔ خلیج میں حالیہ کشیدگی کے باوجود تہران نے امریکہ کے ساتھ ایک سفارتی عمل شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں جنھیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی بنیادی طور پر بدلے ہوئے تعلقات قرار دے چکے ہیں۔تہران میں ایک نئی نسل اقتدار میں آ گئی ہے، لیکن اس نے ابھی تک عوام کو زیادہ آزادی یا زیادہ خوشحال مستقبل کی امید نہیں دی۔نئی قیادت کی پوری توجہ اپنی بقا پر ہے، اس لیے وہ اختلافِ رائے کے بارے میں کسی مختلف رویے کی توقع نہیں کرتی۔اب وہ سڑکوں پر ہونے والے عوامی ردِعمل پر بہت، بہت گہری نظر رکھیں گے،جنوری میں بڑے پیمانے پر خونریزی کے بعد حکومت نے یہ دکھایا ہے کہ وہ کم از کم ملک کی خودمختاری کا دفاع کر سکتی ہے۔موجودہ صورت حال میں بجاطورپر یہ سوال پیداہوتاہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کا مقابلہ کرنے کے بعد ایران کی نئی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حکومت کی کمزور پڑنے والی ساکھ کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے؟ایران کیلئے یہ کسی حد تک ماؤ کے بعد کے چین جیسا لمحہ ہے یعنی جس میں پورا نظام سمجھتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ بدلنا ہوگا۔ نئی قیادت جانتی ہے کہ اسے عوام کے ساتھ ایک نیا سماجی معاہدہ کرنا ہوگا۔یہ ایک اہم موڑ ہے، جہاں ایران اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر ماضی کی یقینی صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے درمیان ایک نازک مقام پر کھڑا ہے۔ایک امکان یہ بھی ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدہ نہ ہو سکے، بات چیت لمبی ہوتی جائے اور صدر ٹرمپ بے صبرے ہو جائیں اور پھر کہیں ٹھیک ہے، اب تیسرے مرحلے کا وقت آ گیا ہے۔اس صورت حال میں ماہرین میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ مستقبل یقینی ہے۔ایران اس کے مشرقِ وسطیٰ کے ہمسایہ ممالک اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں کے کشیدہ تعلقات نے گہرے شکوک و شبہات اور تقریباً مکمل عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔

ناکامی کے امکانات بھی بہت ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات، آبنائے ہرمز کا مستقبل، لبنان کی جنگ، اور مختلف فریقوں میں موجود سخت گیر سوچ شامل ہیں۔6 ہنگامہ خیز مہینوں کے بعداگرچہ اب یہ خطہ کسی حد تک بدلا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس موقع کو بہتر صورتحال میں بدلنے کے لیے بہت سی چیزوں کا درست ہونا ضروری ہے۔اب دیکھنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کی نئی قیادت کس قدر دانشمندی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں