میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہم زہر کے درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں !

ہم زہر کے درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں !

جرات ڈیسک
جمعرات, ۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ولیم بلیک نے لکھا تھا: ‘‘میرے غضب سے ایک زہر کا درخت اُگا’’۔ بظاہر یہ ایک شاعر کی تخیلاتی سطر محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ انسانی نفسیات، سماج اور تاریخ کے ان تاریک گوشوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں دبے ہوئے جذبات خاموشی سے اپنی شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔

انسانی زندگی میں غصہ ایک فطری جذبہ ہے۔ یہ ہمارے دکھ، ناانصافی اور محرومی کا ردِعمل ہوتا ہے۔ مسئلہ غصے کے وجود میں نہیں بلکہ اس کے انجام میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان اپنے زخموں کو سمجھنے کے بجائے ان پر خاموشی کی چادر ڈال دیتا ہے، جب وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفانوں کا سامنا کرنے کے بجائے انہیں دل کے اندھیروں میں قید کر دیتا ہے، تب وہ جذبات ختم نہیں ہوتے۔ وہ زمین میں دفن کیے گئے بیجوں کی طرح جڑیں پکڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ولیم بلیک کا ‘‘زہر کا درخت’’ دراصل اسی انسانی المیے کی علامت ہے۔ نفرت، حسد، انتقام اور ناراضگی کبھی اچانک جنم نہیں لیتے۔ وہ برسوں کی خاموشیوں، ان کہی شکایتوں اور دل میں چھپائے گئے زخموں سے پروان چڑھتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا ہے، لیکن حقیقت میں وہ انہیں خوراک فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ ہر دبی ہوئی شکایت ایک قطرہ آب بن جاتی ہے اور ہر خاموش انتقام ایک نئی شاخ پیدا کر دیتا ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ہونے والی بہت سی تباہیوں کی جڑ میں یہی دبے ہوئے جذبات کارفرما تھے۔ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑیں جاتیں، وہ پہلے دلوں میں جنم لیتی ہیں۔ قوموں کی نفرتیں، معاشروں کی تقسیم اور خاندانوں کی ٹوٹ پھوٹ اکثر ان احساسات کا نتیجہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے اور حل کرنے کے بجائے دفن کر دیا گیا تھا۔ جو زخم وقت پر صاف نہ کیے جائیں، وہ ناسور بن جاتے ہیں اور جو جذبات وقت پر بیان نہ کیے جائیں، وہ زہر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔فلسفہ بھی یہی بتاتا ہے کہ انسان کی نجات انکار میں نہیں بلکہ شعور میں ہے۔ اپنے غصے کو پہچان لینا، اپنی تکلیف کو قبول کر لینا اور اپنے زخموں کا سامنا کرنا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی بلوغت کی علامت ہے۔ جو انسان اپنے اندر کے اندھیروں کو دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے، وہی روشنی کی قدر بھی جان سکتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنے دل کے تاریک گوشوں سے نظریں چرا لیتا ہے، وہ اکثر انہی اندھیروں کا اسیر بن جاتا ہے۔آج کا انسان بھی اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی چمکتی ہوئی دنیا میں لوگ مسکراتے چہروں کے پیچھے اپنے خوف، محرومیوں اور غصوں کو چھپا رہے ہیں۔ باہر سے سب کچھ خوبصورت دکھائی دیتا ہے، مگر اندر کہیں زہر کے درخت پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ترقی یافتہ دنیا میں بھی اضطراب، نفرت اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔

ولیم بلیک کی یہ سطر ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔ خطرناک چیز ہمیشہ وہ غصہ نہیں ہوتا جو زبان پر آ جائے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے دل میں زندہ رکھا جائے۔ کیونکہ دبے ہوئے جذبات مرتے نہیں، وہ صرف اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔ اور جب وہ واپس آتے ہیں تو اکثر پہلے سے زیادہ طاقتور، زیادہ منظم اور زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔زندگی کا اصل ہنر جذبات کو دفن کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا ہے۔ کیونکہ انسان کے اندر اگنے والے زہر کے درخت باہر کی دنیا کو نقصان پہنچانے سے پہلے اس کے اپنے وجود کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ولیم بلیک نے لکھا تھا: "میرے غضب سے ایک زہر کا درخت اُگا” ۔میں جب پاکستان کی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف ایک نظم نہیں، ایک قومی سوانح عمری ہے۔ یہاں بھی کہیں ایک درخت اُگا تھا۔ کوئی عام درخت نہیں۔ ایک زہریلا درخت۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسے کسی ایک انسان کے غصے نے نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی خاموش محرومیوں، ٹوٹے ہوئے خوابوں، دبائی گئی سچائیوں اور مسلسل دھوکے نے پروان چڑھایا۔ ہم نے اس درخت کو پانی نہیں دیا، ہم نے اسے اپنے خون سے سینچا ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد اس قوم کو بار بار بتایا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تھوڑا انتظار کرو۔ قربانی دو۔ خاموش رہو۔ سوال نہ کرو۔ حالات بہتر ہونے والے ہیں۔ لیکن ہر گزرتے عشرے کے ساتھ عوام کی امید کا ایک حصہ مرتا گیا اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نئی پرتیں چڑھاتے گئے۔ یوں ایک اجتماعی ناراضی جنم لیتی گئی۔ وہ ناراضی جو جلسوں میں نظر نہیں آتی۔ وہ ناراضی جو اخبارات کی سرخی نہیں بنتی۔ وہ ناراضی جو مزدور کی خاموش آنکھوں، کسان کے سوکھے کھیتوں، نوجوان کی ہجرت، طالب علم کی بے یقینی اور عام آدمی کی ٹوٹی ہوئی خودداری میں چھپی ہوتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں لوگوں کے دکھوں کو کبھی زبان نہیں مل سکی۔ یہاں ہر بحران کو دبا دیا گیا۔ ہر سوال کو ملتوی کر دیا گیا۔ ہر سچ کو قومی مفاد کے کسی صندوق میں بند کر دیا گیا۔ اور ہر دفن کیا گیا سچ زمین کے نیچے جڑ بناتا رہا۔ ہماری تاریخ دراصل انہی جڑوں کی تاریخ ہے۔ ایک نسل نے محرومی ورثے میں دی، دوسری نے مایوسی وصول کی، تیسری نے بے یقینی کو اپنا مقدر سمجھ لیا۔

آج پاکستانی سماج کو دیکھیں تو ہر طرف ایک عجیب تلخی بکھری ہوئی ہے۔ سڑک پر، دفتر میں، سیاست میں،گھروں میں،حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں بھی۔ لوگ ایک دوسرے سے نہیں لڑ رہے، وہ اپنی اپنی شکستوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہ شکستیں جو برسوں سے ان کے اندر جمع ہیں۔ یہی وہ زہر ہے جس کے بارے میں بلیک نے خبردار کیا تھا۔ کیونکہ زہر ہمیشہ قتل نہیں کرتا، کبھی کبھی وہ انسان کو زندہ رکھتا ہے تاکہ وہ روز تھوڑا تھوڑا مرتا رہے۔پاکستان شاید اسی کیفیت کا نام بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ زندہ ہیں مگر آسودہ نہیں۔ بولتے ہیں مگر سنے نہیں جاتے۔ ووٹ دیتے ہیں مگر مالک نہیں بنتے۔ محنت کرتے ہیں مگر پھل نہیں پاتے۔ خواب دیکھتے ہیں مگر تعبیر دوسروں کے حصے میں جاتی ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ نہیں کہ ہمارے پاس مسائل بہت ہیں۔ خوفناک بات یہ ہے کہ ہم ان مسائل کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں۔ غلامی جب معمول بن جائے تو زنجیریں دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب زہر کے درخت کی سب سے خطرناک شاخیں وجود میں آتی ہیں اور ان کا سایہ پورے معاشرے پر پھیل جاتا ہے۔

آج پاکستان میں شاید سب سے بڑی ضرورت معاشی پیکیج، سیاسی اتحاد یا نئے نعروں کی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم آئینے کے سامنے کھڑی ہو اور خود سے پوچھے: ہم آخر اتنے تلخ کیوں ہو گئے ہیں؟ ہم ایک دوسرے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ ہم سچ سننے سے اتنا گھبراتے کیوں ہیں؟ کیونکہ جس دن یہ سوال ایمانداری سے پوچھ لیا گیا، اسی دن اس زہر کے درخت کی جڑیں ہلنا شروع ہو جائیں گی۔ ورنہ تاریخ کا فیصلہ بے رحم ہوتا ہے۔ درخت اگر بہت بڑا ہو جائے تو اس کا زہر صرف پھلوں میں نہیں رہتا، وہ زمین میں اتر جاتا ہے۔ اور پھر پوری فصلیں زہریلی پیدا ہونے لگتی ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں