میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قبولیت کی شکست ،مقبولیت کی جیت

قبولیت کی شکست ،مقبولیت کی جیت

جرات ڈیسک
جمعرات, ۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

کیا سسٹم عمران خان سے قبولیت مانگ رہا ہے؟

ایک وقت تھا جب سسٹم کے نائی کہتے تھے کہ عمران خان کے پاس جتنی مرضی عوامی مقبولیت ہو جب تک اسے بڑے گھر سے قبولیت نہیں ملے گی تب تک عمران خان کا سیاست میں واپس آنا ناممکن ہے۔ لیکن آج حالات بہت زیادہ بدل چکے ہیں، آج سسٹم عمران خان سے قبولیت کی بھیک مانگ رہا ہے اور عمران خان یہ بھیک دینے کو آج تیار دکھائی نہیں دیتا، آج اسٹیبلشمنٹ ڈیل کی نئی نئی آفرز کے ذریعے عمران خان سے سسٹم کے لیے توثیق مانگ رہی ہے۔
2022 میں رجیم چینج کے بعد عمران خان نے اسمبلیوں سے استعفے دیے تو تنقید کی گئی، سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس میں عمران خان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ پارلیمنٹ میں رہتے تو ان ترامیم پر بھرپور آواز اٹھا سکتے تھے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مینڈیٹ چوری ہونے کے باوجود عمران خان نے اسمبلیوں میں رہنے کو ترجیح دی اور پارلیمانی نظام کے اندر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی سے مخصوص نشستیں تک چھین لی گئیں، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے بیوی بچوں اور گھر کی عورتوں کو اغوا کر کے آئینی ترمیم کی گئی ، تیسرے نمبر سے جج کو اٹھا کر چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کا آئینی بینچ بنایا گیا، پارلیمنٹ کے اندر کمانڈو ایکشن کر کے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اغوا کیا گیا، پی ٹی آئی کے دو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شبلی فراز کو اڈیالہ جیل ناکے پر چوکی کے اے ایس آئی نے چھ گھنٹے تک محبوس رکھا۔ نو مئی کے جعلی مقدمات میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی کے تین اپوزیشن لیڈروں کو نااہل کروا دیا گیا۔

اس تمام عرصے میں پی ٹی آئی کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا گیا ، اسلام آباد میں اپنا جمہوری حق مانگنے پر پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ پی ٹی آئی کے تقریباً 20 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو نااہل کروا دیا گیا۔ پی ٹی آئی سے گلگت بلتستان الیکشن بھی چھین لیا گیا اور اب آزاد کشمیر میں بھی وہی سب کچھ دہرانے کی تیاریاں ہیں ،ان سب کے باوجود اب عمران خان کو پارلیمنٹ میں کیوں رہنا چاہیے؟عمران خان جتنا اس پارلیمنٹ میں رہے گا وہ اس نظام کو سہارا دے گا۔ عمران خان نے جب جب نظام اور الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو پاکستان کی عوام نے اس بائیکاٹ پر لبیک کہا ، سر تسلیم خم کیا۔ لاہور میں حماد اظہر نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تو اس کے حلقے میں ضمنی الیکشن کے دوران ٹرن آؤٹ صرف 5.6 فیصد تھا جسے بعد میں الیکشن کمیشن نے بڑھایا یعنی 95 فیصد عوام نے اس الیکشن کو مسترد کر دیا تھا جس میں پی ٹی آئی حصہ نہیں لے رہی تھی، تو پھر عمران خان اس سسٹم کو سہارا کیوں دے؟

عمران خان اس سسٹم کی آکسیجن کیوں بنے؟ اس سسٹم کو عمران خان سے قبولیت درکار ہے،اب عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے قبولیت کی کوئی ضرورت نہیں، جب اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھے ہوئے تھی تب شاید قدرت نے خاموشی سے گول پوسٹ تبدیل کر دیئے، اس لیے پی ٹی آئی کا بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے، اگر پارلیمنٹ اپنی حیثیت کو اتنا تباہ نہ کرتی تو پھر بھی کوئی مثبت نتیجے کی امید کی جا سکتی تھی لیکن موجودہ حالات میں سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا ، پارلیمانی نظام وفات پا چکا، اب اس کی لاش گل سڑ رہی ہے۔

عمران خان کو مائنس کرنے کیلئے کون کون ساحربہ نہیں آزمایا گیا ،امریکہ میں لے پالک ڈاکٹروں کی تقریب سجائی گئی ،تقریب میں ایک پوسٹر لگایا گیا ، پوسٹر پر تمام قومی ہیروز کی تصویریں لگائی گئیں ، مگر اس میں عمران خان کی تصویر کا چہرہ مسخ کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ آئیکونک تصویر تھی جب انہوں نے اپنی آخری گیند پر وکٹ لے کر پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنوایا تھا، اور ان کے چہرے پر جو رونق تھی، اسے بھی مسخ کر دیا گیا۔

آپا نثار فاطمہ کے بیٹے نے یہ کیا ،جو پاکستان کا ماما بنتا ہے کہ ہم وہ نسل ہیں جنہوں نے تیسری نسل میں بھی پاکستان کی خدمت کی ، مگر تاریخ کی سچائی جھوٹ کی کالک پر پوچا پھیر دیتی ہے،موصوف کے نانا چوہدری عبدالرحمان جو پاکستان بننے اور بنانے والے کے مخالف تھے 1945میں قائد اعظم کے خلاف الیکشن لڑا، یعنی قائد اعظم کے امیدوار لائل پور کے زاہد سرفراز کے چچا اور فیصل آباد سے موجودہ ایم این اے پی ٹی آئی علی سرفراز کے دادا کے خلاف جالندھر سے احسن اقبال کے نانا نے الیکشن لڑا ،ن لیگ والوں کی کیا بات ہے گوجرانوالہ سے ان کے ایک ایم این اے خرم دستگیر خان کے والد دستگیر خان نے فاطمہ جناح کا نشان کتیاکے گلے میں ڈالا ۔ ان کا ٹریک ریکارڈ ہی ایسا ہے۔ مگر جس آئیکونک تصویر میں انہوں نے پاکستان کو ورلڈ چیمپئن بنوا کر اپنے چہرے پر رونق سجائی تھی، اس چہرے کو بھی مسخ کر کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی۔جس چہرے پر ہتھکڑیاں، مقدمے اور دھمکیاں اثر نہ کریں، وہ لوہے کا نہیں، شیر کا چہرہ ہوتا ہے گیدڑ اس کے سامنے آتے ہی دم دبا لیتے ہیں۔ ایسا چہرہ محض چہرہ نہیں رہتا۔ وہ خود ایک تاریخ اور ایک تحریک بن جاتا ہے۔ جسے نہ مٹایا جا سکتا ہے، نہ مسخ کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان کا چہرہ اب صرف ایک شخصیت کا نہیں۔ یہ ایک نظریے کا چہرہ ہے۔ ایک تحریک کا نام ،تین سال کے ریاستی جبر نے جس پر خوف کا سایہ تک نہ ڈالا، وہ چہرہ آج شیر کا چہرہ بن چکا ہے۔ اور بزدل گیدڑ؟ ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کر سکیں۔ اگر کبھی غلطی سے نظر مل بھی جائے تو انہیں اپنے کردار کا جنازہ نظر آتا ہے۔

یاد رکھو! جس چہرے کو مٹانے کے لیے پوری ریاست اپنی طاقت جھونک دے، وہ چہرہ دراصل قوم کا چہرہ بن چکا ہوتا ہے۔ اور قوم کے چہروں کو مسخ نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ سسٹم اس سے قبولیت مانگ رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں