میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ادارہ ترقیات سہون ،61کروڑ50لاکھ کی گرانٹ ٹھکانے لگانے کی تیاری مکمل

ادارہ ترقیات سہون ،61کروڑ50لاکھ کی گرانٹ ٹھکانے لگانے کی تیاری مکمل

ویب ڈیسک
پیر, ۸ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈائریکٹر جنرل نے اپنے پی ایس کو انتظامی اور مالی معاملات کے اختیارات سونپ دیے
مردہ اور نوکری چھوڑ کر جانیوالے ملازمین کیتنخواہ اور واجبات کی ادائیگی کیلئے فہرست تیار
ادارہ ترقیات سہون جامشورو کو ملنے والی61کروڑ50لاکھ کی گرانٹ ٹھکانے لگانے کیلئے تیاری مکمل۔ڈائریکٹر جنرل نے اپنے پی ایس کو انتظامی اور مالی معاملات کے اختیارات سونپ دیٔے۔ملازمین کی تنخواہ اور واجبات کی ادائیگی کیلئے فہرست تیار۔ملازمین کی فہرست میں بڑے پیمانے پر مردہ اور نوکری چھوڑ کر جانے والے ملازمین کی بڑی تعداد شامل کیٔے جانے کا انکشاف۔ادارے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے 321ملازمین کو سر پلس پول میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔گرانٹ ملنے کے باوجود ملازمین تنخواہ اور واجبات سے محروم۔تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات سہون جامشورو کو سندھ حکومت کی جانب سے ادارے کے ملازمین کی تنخواہیں واجبات اور ڈیولپمنٹ کیلئے 615ملین روپے کی خطیر رقم بطور گرانٹ جاری کردی گئی ہے جس کو ٹھکانے لگانے کیلئے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر زاہد شر نے اپنے پی ایس راجہ اوڈھ کو ڈی ڈی او پاور دیکر کر انتظامی اور مالی معاملات سونپ دیٔے ہیں۔ڈی جی کے پی ایس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 14ویں اسکیل میں تھے جنہوں نے غیرقانونی طور پر ترقی حاصل کی ہے جن کو ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ منجمنٹ۔ پی ایس ڈی جی کا عہدہ حاصل ہونے کے ساتھ ڈی جی کے ڈی ڈی او پاور بھی حاصل ہیں جس وجہ سے وہ ادارے میں انتظامی اور مالی معاملات میں خودمختیار بنے ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی گرانٹ کیلئے ادارے کے ملازمین کی فہرست بھی راجہ اوڈھ نے تیار کرکے ارسال کی ہے جس میں ادارے کے 481ملازمین کو ظاہر کیا گیا ہے جبکہ ادارے کے بائیومیٹرک نظام میں صرف 250 کے قریب ملازمین کا ریکارڈ موجود تھا مگر گرانٹ کی بڑے رقم کو ملازمین کی تنخواہ اور واجبات کے نام پر نکلوا کر ہڑپ کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملازمین کی فہرست میں درج ناموں میں بڑی تعداد فوت یا ادارہ چھوڑ کر جانے والے افراد کی بتائی جاتی ہے جوکہ صرف کاغذوں میں ادارے کے ملازم ہیں۔دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی گرانٹ ادارے کے اکاونٹ میں ہونے کے باوجود ہنوز ملازمین کو تنخواہیں اور واجبات ادا نہیں کیٔے گئے ہیں۔ایمپلائز یونین کے رہنماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارے کی جانب سے تنخواہ اور واجبات کیلئے 25فیصد رشوت طلب کی جارہی ہے جس وجہ سے ملازمین کو تنخواہ اور واجبات سے محروم رکھا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ادارے کو مالی بحران سے بچانے اور پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے 321ملازمین کو سرپلس پول کے ذریعے دیگر اداروں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کیلئے پی ایس راجہ اوڈھ نے ملازمین کی فہرست مرتب کرنا شروع کردی ہے جس میں غیرقانونی ترقیاں اور بھرتی ہونے والے ملازمین کو فائدہ پہنچایا جائیگا جس کیلئے باقاعدہ لین دین شروع کردیا گیا ہے۔غیرقانونی ترقی اور بھرتی ہونے والے سرپلس پول کے ذریعے دیگر اداروں میں جاکر مکمل قانونی طور پر فٹ ہوجائیں گے۔اس سلسلے میں ڈی جی ایس ڈی اے زاہد شر اور پی ایس راجہ اوڈھ سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر دونوں افراد نے موقوف دینے سے انکار کردیا ہے۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں