نیشنل بینک کا سالانہ جنرل اجلاس بدترین بے ضابطگیوں کا شکار
شیئر کریں
صدر رحمت حسنی نے خلاف ضابطہ اپنے لیے 120 ملین پرفارمنس بونس کی مد میں منظور کرا لیے
شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائی حکومت کی منظوری سے مشروط ، کورم نامکمل ، چیئرمین غیر موجود
نیشنل بینک آف پاکستان کا سالانہ جنرل اجلاس (اے جی ایم) بدترین بے ضابطگیوں کے باعث بینکاری حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ اجلاس میں نیشنل بینک کے صدر رحمت حسنی نے خلاف ضابطہ اپنے لیے 120 ملین روپے پرفارمنس کی مد میں منظور کرا لیے جبکہ وہ پہلے سے ہی ماہانہ دس ملین روپے تنخواہ کی مد میں وصول رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کا سالانہ جنرل اجلاس (اے جی ایم )30؍مارچ کو منعقد ہوا جس کا کورم سرے سے مکمل ہی نہ تھا۔ مذکورہ اجلاس میں بورڈ کے چیئرمین موجود ہی نہ تھے، چنانچہ خود صدر نیشنل بینک رحمت حسنی نے غیر قانونی طور پراس نامکمل اجلاس میںبطور چیئرمین فرائض انجام دیے جو مکمل طور پر اُن کو غیر قانونی فائدے پہنچانے پر منتج ہوا۔ مذکورہ اجلاس میں صدر یا سی ای او کے علاوہ صرف ایک ڈائریکٹر ہی موجود تھے، اطلاعات کے مطابق مذکورہ ڈائریکٹر نے بھی اجلاس کی تمام کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔واضح رہے کہ مذکورہ 77ویںاے جی ایم سے قبل روایتی طور پر اس سے قبل76ویں اے جی ایم کے منٹس کو بھی شرکاء میں زیر گردش نہیں لایا گیا۔جو شیئر ہولڈرز کو اگلے فیصلوں کے جائزہ لینے یا غور کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔حیرت انگیز طور پر شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائی کا آئٹم منظور تو کر لیا گیا مگر اسے حکومت کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا جبکہ صدر نیشنل بینک نے چیئرمین اور دیگر ڈائریکٹر زکی عدم موجودگی کے باوجود اجلاس کی غیر قانونی صدارت کرتے ہوئے خود کو پہنچانے والے فائدے حکومت کی منظوری سے مشروط کیے بغیر آناً فاناً منظور کر الیے۔ جس میں سال2023، 2024اور 2025 کے لیے خود اُن کا اپنا پرفارمنس بونس شامل تھا جوکل 120 ملین روپے کے قریب تھا۔ واضح رہے کہ بینکاری کے حلقوں میں اس اجلاس اور اس میں ہونے والے تمام فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے، جو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے خطرے سے بھی دوچار ہیں۔


