میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
روزنامہ جرأت کی خبر کے بعد صحافی کو دھمکیاں

روزنامہ جرأت کی خبر کے بعد صحافی کو دھمکیاں

ویب ڈیسک
جمعرات, ۴ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

دھمکیاں دینے والا شخص سندھ حکومت کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے منسلک سرکاری اہلکار نکلا
دھمکیاں اور گالم گلوچ کے مرتکب شخص نے خود کو اہم اداروں سے منسلک ظاہر کرنے کی کوشش کی

روزنامہ جرأت میں ایک متاثرہ خاتون کی جانب سے مبینہ خفیہ نکاح، شرعی و قانونی حقوق سے محرومی اور تحفظ سے متعلق الزامات پر مبنی خبر کی اشاعت کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آ گیا ہے ۔ خبر کے بعد نمائندہ جرأت عبدالغفور سروہی کو مبینہ طور پر دھمکی آمیز گفتگو اور نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد معاملہ صحافتی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل ماروی شیخ نامی خاتون نے روزنامہ جرأت سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا زین العابدین چنہ کے ساتھ نکاح ہوا، تاہم انہیں مبینہ طور پر ازدواجی، شرعی اور قانونی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے ۔ خاتون نے اپنی گفتگو میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اگر انہیں تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہو سکتی ہیں۔خبر کی اشاعت کے بعد صحافتی اصولوں کے مطابق دوسرے فریق کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا۔ روزنامہ جرأت کے مطابق مؤقف لینے کے دوران صحافی کو مبینہ طور پر سخت زبان، گالم گلوچ اور دھمکی آمیز انداز کا سامنا کرنا پڑا۔ (اس حوالے سے آڈیو ریکارڈنگ اور دیگر ریکارڈ محفوظ ہے )۔دستیاب معلومات کے مطابق رابطے کے دوران متعلقہ شخص نے خود کو بعض اہم اداروں سے منسلک ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد ازاں حاصل ہونے والی دستاویزات اور ریکارڈ کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ شخص سندھ حکومت کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ایک سرکاری اہلکار ہے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق اپنی متعلقہ سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے ۔صحافتی ذرائع کے مطابق خبر کی اشاعت کے بعد پیش آنے والی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور خبر کے دونوں پہلو سامنے لانے کے بنیادی صحافتی اصولوں پر بحث چھیڑ دی ہے ۔روزنامہ جرأت کا مؤقف ہے کہ خبر متاثرہ خاتون کے بیان، دستیاب معلومات اور صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق شائع کی گئی تھی، جبکہ متعلقہ فریق کو بھی مؤقف دینے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگر زین العابدین چنہ یا کسی دوسرے متعلقہ فریق کی جانب سے باضابطہ وضاحت یا مؤقف موصول ہوتا ہے تو صحافتی روایت اور توازن کے اصول کے تحت اسے بھی مکمل طور پر شائع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ مذکورہ معاملے میں سامنے آنے والے تمام الزامات اور دعوؤں کا حتمی تعین متعلقہ قانونی و انتظامی فورمز اور تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا، جبکہ تمام فریقین کو قانون کے تحت جواب اور دفاع کا حق حاصل ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں