میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یہودی فوج کی فلسطین پر بمباری سے 128 مسلمان شہید

یہودی فوج کی فلسطین پر بمباری سے 128 مسلمان شہید

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۶ جولائی ۲۰۲۵

شیئر کریں

نہتے مسلم خوراک کے منتظر تھے ، صہیونی فوج نے فضائی اور زمینی حملوں سے نشانہ بنایا
24 گھنٹوں میں بچوں، خواتین اورنوجوانوں کا قتل عام کیا گیا ، عالمی بے حسی برقرار

غزہ پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ شدید تر ہو گیا ہے،24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 128 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ حملے 14 جولائی کی سہ پہر سے شروع ہوئے اور 15 جولائی کی شام تک وقفے وقفے سے جاری رہے، جن میں شہری علاقوں، امدادی مراکز اور رفیوجی کیمپوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ رفح، دیر البلح اور خان یونس کے گردونواح میں فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ توپ خانے کے حملے بھی رپورٹ ہوئے،غزہ کی وزارت صحت کے مطابق بمباری کا مرکز وہ علاقے تھے جہاں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی، خاص طور پر رفح میں منصوبہ بند "ہیومینٹیئرین زون” کے اطراف۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا جہاں امداد تقسیم کی جا رہی تھی، جس سے خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔ لبنان کے بیقاع ویلی اور شام کے صوبہ سویدا میں بھی اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں، جس سے اس تنازع کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔اسرائیل کی جانب سے تاحال حملوں کے محرکات پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم بین الاقوامی سطح پر ان کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ رفح میں "ہیومینٹیئرین سٹی” کے منصوبے کو اسرائیلی اور عالمی رہنماں کی جانب سے "غیر انسانی” اور "جبری حراستی” تصور دیا جا رہا ہے، جب کہ جنگ بندی کے لیے قطر میں جاری مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں