میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یہ شب گزیدہ سحر!

یہ شب گزیدہ سحر!

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

قوم اِس سال اپنی آزادی کی79ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ہرسال ماہِ اگست قوم کیلئے مُسرت و شادمانی اورمّلی جوش و جذبے کا ساماں لے کر آتا ہے بوڑھے بچے جوان مرد اور خواتین سبھی وطنِ عزیز سے محبت و عقیدت سے سرشار نظر آتے ہیں۔ہر سال جب اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے، تو فضاؤں میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار، گلی محلوں میں قومی نغموں کی گونج اور بچوں کے ہاتھوں میں لہراتے پرچم ایک الگ ہی ولولہ پیدا کرتے ہیں اوریہ اِس دن کی یاد ہے کہ جب برِ صغیر کے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر انگریز اور ہندو راج سے آزادی ملی۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی بے لوث، مخلصانہ اور دلیرانہ قیادت و رہنمائی ہی کا نتیجہ تھا کہ تحریکِ پاکستان کو 14اگست1947کو کامیابی نصیب ہوئی۔ برِصغیر میں مُسلم حکمرانی کی ایک لمبی تاریخ ہے جس کا آغاز 712 سے ہوتا ہے، جب محض 17سالہ نوجوان محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ اور ملتان میں اپنی حکومت قائم کی۔ 11ویں اور12ویں صدی میں محمود غزنوی اور سلطان محمد شہاب الدین غوری کا دورتھا۔ 1206 میں قطب الدین ایبک نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ 1526میں ظہیر الدین محمد بابر نے مغل ایمپائر کی بنیاد رکھی۔ 1707میں اورنگزیب کی وفات کے بعد حکمرانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کا شدید فقدان واضح طور پر نظر آنے لگا۔حصولِ اقتدار کی خاطر جنگ و جدل ایک معمول بن گیا،مورخین نے مغل حکمرانوں کی نااہلیوں اور عیش و عشرت والے طرزِ زندگی کو تاریخ کے اوراق میں واضح طور پر رقم کیا ہے۔مغل حکمرانوں کی شاہ خرچیوں نے خزانے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیاتھا، اقربا پروری اور مالی بد اعمالیوں کا دور دورہ تھا اس کے ساتھ انتظامی کمزوریوں اور قوت فیصلہ کی کمی نے دن بدن اقتدار کے دن گننے شروع کر دیے۔۔ میرٹ کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا بس ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر حکومتیں چلتی رہیں۔ نا اہلی اور بھر پور کوتاہیوں کا نتیجہ آخر کار1857میں بہادر شاہ ظفر کی اقتدار سے ذلت آمیز رخصتی کی شکل میں نکلا اور یوں مغل حکمرانوں کے 330سالہ اقتدار کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں 1905 میں بنگال کو تقسیم کر دیا گیا۔ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی جبکہ مغربی بنگال میں ہندو اکثریت میں تھے۔ مسلمان اِس تقسیم پر خاصے خوش تھے مگر ہندوؤں کو یہ تقسیم ہضم نہ ہوئی۔ کانگریس نے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ بالآخر 12دسمبر 1911 کو برطانوی راج نے بادشاہ جارج پنجم کے دورے کے موقع پر احتجاج سے بچنے کیلئے تقسیم بنگال کو منسوخ کر دیا۔ اِس سے مسلمانوں میں شدید مایوسی اور بددلی پھیل گئی۔ برِصغیر کی سیاسی تاریخ اور مسلمانوں کی جدوجہد میں ایک اہم ترین موڑ اور مرحلہ اُس وقت آیا جب یکم اکتوبر 1906کو مسلمان زعماء کے ایک35رکنی نمائندہ وفد نے سر آغا خان کی قیادت میں شملہ میں وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کر کے مسلمانوں کیلئے ایک جُداگانہ طرزِ انتخاب کا مطالبہ کر دیا۔

درحقیقت مسلمانوں نے پہلی بار منظم انداز میں اپنے سیاسی حقوق کا قومی سطح پر مطالبہ کیا اِس وفد کی کامیابی نے مسلمانوں کو اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کا حوصلہ اور عزم دیا۔ 30دسمبر 1906کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت وقار الملک نے کی۔ نواب سلیم اللہ نے مسلم لیگ کی تجویز دی جس کی حکیم اجمل خان اور مولانا ظفر علی خان نے تائید کی۔دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ برِ صغیر کے مسلمانوں کی سب سے مضبوط اور موثر آواز بن گئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور سر آغا خان کے قائل کرنے پر 1913میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1930میں الہ آباد میں علامہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کیلئے الگ وطن کا باقائدہ مطالبہ کر دیا۔ 1933 میں چوہدری رحمت علی نے الگ وطن کا نام پاکستان تجویز کیا۔ 1940میں قرارداد لاہور منظور ہوئی جسے شیرِ بنگال فضل الحق نے پیش کیا۔ 1946کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی تمام نشستیں جیت لیں اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔مسلمان قائدین کی کاوشیں رنگ لے آئیں اور برطانوی پارلیمنٹ نے انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ منظور کر لیا۔ اس طرح 14اگست 1947کو پاکستان معرض ِوجود میں آگیا۔وطنِ عزیز کے قیام کے بعد بد قسمتی سے قائد اعظم جلد ہی ہم سے بچھڑ گئے ایک اور ظلم یہ ہوا کہ لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا،سردار عبدالرب نشتر 1958میں ہم سے بچھڑ گئے ۔

1947 میں جب قائداعظم محمد علی جناح اور ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد خطہ حاصل کیا تھا، تو اس کا خواب ایک ایسا فلاحی ریاست
کا تھا جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو، غریب اور امیر کا فرق مٹ جائے، اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق باآسانی میسر ہوں، لیکن آج، 2026 میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور اپنے موجودہ نظام کا جائزہ لیتے ہیں، تو جشنِ آزادی کی یہ چمک دمک کہیں نہ کہیں ایک گہرے
سائے اور اداسی میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے وہی پاکستان بنایا تھا جس کا خواب ہمارے آبا و اجداد
نے دیکھا تھا؟ آج کا المیہ یہ ہے کہ یہاں غریب اور امیر کے درمیان خلیج دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور اشرافیہ اور صاحبِ اقتدار طبقے کی
عیاشیاں کم ہونے میں نہیں آتیں، جبکہ غریب آدمی کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولتیں بھی حاصل کرنا ایک پہاڑ سر کرنے
کے مترادف ہے۔ سرکاری اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ غریب مریض علاج کے منتظر دم توڑ جاتے ہیں،14 اگست 1947 کوجب پاکستان
ایک عظیم الشان ریاست کے طور پر وجود میں آیا تو ہمارے سیاستدانوں اور جرنیلوں کے سامنے ریاستوں کے عظیم الشان نمونے تھے۔ وہ ان
میں سے جس نمونے کی پیروی کرتے کامیاب ہوتے۔ بلکہ تاریخ ساز ہوجاتے۔ مسلمانوں کی حیثیت سے ہمارے سامنے ریاست کا سب
سے عظیم الشان نمونہ رسول اکرمؐ کی قائم کردہ ریاست مدینہ تھی۔ اس ریاست کا آئین بھی قرآن تھا اور قانون بھی قرآن تھا۔ اس کے نتیجے
میں پاکستان ایسی ‘‘ہارڈ اسٹیٹ’’ بنتا کہ ساری دنیا اس پر رشک کرتی۔

ہمارے سامنے ریاست کا دوسرا نمونہ خلافت راشدہ کا تھا۔ اس ریاست کے انسان ‘‘خدا مرکز’’ تھے۔ ‘‘رسول مرکز’’ تھے۔ اس ریاست
میں عدل تھا۔ خوشحالی تھی، قانون کی پاسداری تھی، پاکستان کے جرنیل اور ان کے پیدا کردہ سیاست دان ریاست کے اس نمونے کو اپنا آئیڈئیل بناتے تو بھی پاکستان ساری دنیا کے لیے نمونہ عمل بن جاتا۔ ہمارے لیے ریاست کا چوتھا ماڈل خود قائداعظم کا زمانہ تھا۔
قائداعظم کا موٹو ایک خدا، ایک کتاب اور ایک رسول تھا۔ قائد اعظم کی قانون پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ کراچی میں سفر کررہے تھے۔ اس
زمانے میں کراچی میں سرکلر ریلوے موجود تھی۔ قائداعظم کی گاڑی ایک کراسنگ سے گزرنے والی تھی کہ اس کی آمد کا وقت ہوگیا اور پھاٹک
بند کردیا گیا۔ قائداعظم کے سیکریٹری نے پھاٹک بند کرنے والے چوکیدار سے کہا کہ پھاٹک کھول دو اور قائداعظم کی گاڑی کو گزرنے دو مگر
قائداعظم نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا قانون سب کے لیے برابر ہے۔ ہمارے لیے ہارڈ اسٹیٹ کا نمونہ امریکہ اور یورپ کی ریاستیں تھیں۔ ان ریاستوں میں کوئی شخص آئین قانون اور جمہوریت سے بالاتر نہیں تھا۔ ان اصولوں کی پاسداری نے امریکہ کو
دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنایا تھا۔ ان اصولوں کی پاسداری نے یورپ کو ترقی یافتہ بنایا تھا۔ ہمارے لیے ریاست کا نمونہ سوویت
یونین اور چین تھے۔ اگرچہ یہ دونوں سوشلسٹ ریاستیں تھیں مگر وہاں قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔ ان ریاستوں میں کوئی بیروزگار نہیں
تھا، کوئی بھوکا نہیں ہوتا تھا، تعلیم سب کے لیے تھی، سب کا علاج مفت ہوتا تھا، مگر بدقسمتی سے پاکستانی سیاستدانوں اوران کے تخت الٹ کر
اقتدار پر قابض ہونے والے اپنے تئیں سب سے زیادہ محب وطن حلقوں میں سے کسی نے ریاست کا اتباع نہ کیا۔ انہوں نے ان میں سے
کسی ریاست کی پیروی نہیں کی۔ انھوں نے ریاست پاکستان میں کبھی آئین اور قانون کو بالادست نہیں ہونے دیا۔ پاکستان اسلام کے نام
پر وجود میں آیا تھا مگرانھوں نے کبھی پاکستان میں اسلام کو بالادست کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جنرل ایوب نے تو حد ہی کردی، انہوں نے
اقتدار پر قابض ہوتے ہی ملک پر سیکولر ازم مسلط کردیا۔ انہوں نے سود کو عام کردیا۔ انہوں نے ملک و قوم پر ایسے عائلی قوانین تھوپے جو
اسلام کی ضد تھے۔ وہ امریکہ اور یورپ کو اپنا آئیڈیلکہتے تھے مگر نہ انہیں امریکہ اور یورپ کی جمہوریت ایک آنکھ بھاتی تھی، نہ انہیں امریکہ
اور یورپ کی آزادی اظہار پسند تھی۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی 1954 کے آئین کو معطل کردیا اور کالے قوانین کے ذریعے آزاد
پریس کا گلا گھونٹ دیا۔ ان کا آئیڈیل ہارڈ اسٹیٹ نہیں ایسی سافٹ اسٹیٹ تھی جس کا خدا بھی وہ خود ہوں۔ جس کی عدالت ان کے بوٹوں
تلے دبی ہوئی ہو، جس کے اخبارات اور رسائلان کے ہیڈکوارٹر سے نازل ہونے والی ہدایات کی روشنی میں کام کرتے ہوں۔ جنرل ایوب
کی حب الوطنی اتنی پست تھی کہ انہوں نے قائداعظم کی بہن اور مادرِ ملت کہلانے والی فاطمہ جناح کے خلاف اخبارات میں آدھے آدھے
صفحات کے ایسے اشتہارات شائع کرائے جن میں مادر ملت کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ جنرل ضیا الحق کہنے کو اسلام پسند تھے، چنانچہ ان
کا ریاستی نمونہ ریاست مدینہ اور خلافت راشدہ کو ہونا چاہیے تھا۔ ایسا ہوتا تو پاکستان ایک مثالی ریاست بن کر اُبھرتا۔ مگر جنرل ضیا الحق نے
اقتدار پر قبضہ کرتے ہی جمہوریت اور سیاست پر شب خون مارا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کرلی حق کی آواز بلند کرنے
والے صحافیوں اور ان کے حامیوں کو کوڑے لگائے گئے۔ انہوں نے 1973کے آئین کو معطل کردیا۔ انہوں نے بھٹو کے مقدمے میں
انصاف کے قتل کی انتہا کردی۔ دنیا جانتی تھی اور بعد ازاں انصاف کرنے کے بجائے مقتدر قوتوں کے حکم پر فیصلہ دینے والے اعلیٰ عدالتوں
کے جج حضرات نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ بھٹواس قتل کے ذمے دار نہیں تھے جس قتل کے الزام میں انہیں سزائے موت دی گئی ان کو
سزا دے کر دراصل انصاف کو قتل کیاگیاتھا۔ جنرل ضیا الحق نے ملک میں اسلام کے نظام صلوٰۃ کو مذاق بنادیا۔ انہوں نے ایسا نظام زکوٰۃ
متعارف کرایا جو اپنی اصل میں سودی تھا۔ جنرل ضیا الحق نے ایسا جعلی ریفرنڈم کرایا جس میں 5 فی صد لوگوں نے بھی حصہ نہیں لیا۔ مگر اس
کے باوجود جنرل ضیا الحق نے اپنی غیر معمولی کامیابی کا اعلان کردیا۔ان حقائقسے اس بات کی بخوبی عکاسی ہوتیہے ہیں کہ پاکستان 78 سال
میں بھی ہارڈ اسٹیٹ کیوں نہ بن سکا۔ بلاشبہ اس کی ذمے دار سول حکومتیں اور خاص طورپر وہ سول حکومتیں جو آمروں کے سائے تلے
برسراقتدار آئیں یا لائی گئیں جن کی پرورش آمروں کی گود میں ہوئی ۔ آج بھی وطنِ عزیز کئی محاذوں پر کامیابیوں کے باوجود کئی سنگین مسائل
سے دوچار ہے۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ہمارا نوجوان ڈگریاں لئے روزگار کی تلاش میں
مارا مارا پھر رہا ہے۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سسٹم کی کمزوری کی آوازیں تو اب ان سرکاری ایوانوں سے بھی آنے لگی ہیں جو
ایک خاص مقصد کے تحت جمہوریت کا گلاگھونٹ کر قائم یا آباد کئے گئے ہیں۔ میرٹ اور گورننس کے مسائل حد درجہ شدت اختیار کر چکے
ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا ملک قرضوں تلے ڈوب چکا ہے اور حالات کی بہتری کی بظاہرکوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ مگر مایوسی اور نااُمیدی گناہ
ہے۔ زندہ قوموں کے سامنے ایسے مسائل کوئی معنی اور حیثیت نہیں رکھتے۔ الحمدللہ ہماری قوم پڑھی لکھی اور باشعور ہے ملک کو مسائل کے بھنور
سے نکا لنے کیلئے ہمارا نوجوان پُرعزم اور بلند حوصلہ ہے۔پاکستان کو مسائل اور مشکلات سے نکالناکوئی بڑی سائنس نہیں اس کیلئے گنتی کے کچھ
بنیادی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس کیلئے نظام اور طرزِِحکومت میں شفافیت ناگزیر ہے، خاندانی اور موروثی جمہوریت کو ہر صورت خیر باد کہنا ہو گا۔ اقربا پروری اور سفارش کے کلچر کا قلع قمع کر نا ہو گا۔ مالی بد عنوانی کے ناسُور کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ شاہانہ اور پُر تعیش طرزِ زندگی کا باب بند کرنا ہوگا۔ نظامِ تعلیم کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات کرناہوں گے۔قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لیے سرکاری اللے تللے بند کرنا ہوں گے۔ بیوروکریٹس کو لاکھوں کی تنخواہ کے ساتھ لاکھوں کے الاؤنسز دینے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا ،بیوروکریٹ بھی اسی دھرتی کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ انھیں سمجھاناہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس ملک کے عوام کی خدمت کیلئے منتخب کیاہے۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے عیش وطرب میں کمی کردیں تاکہ اس ملک کے محدود وسائل کے ثمرات غریب عوام تک پہنچ سکیں۔ملک میں غریبوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے اس ملک کے سرکاری اخراجات وزرا ،مشیروں او ر معاونین کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ یوم آزادی منانے کا اصل مزہ تو تب ہی ہے جب ہم صدقِ دل سے یہ عہد کر یں کہ ہم مادرِ وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے۔ یومِ آزادی در اصل تجدیدِ عہد کا دن ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں