انسان طاقت کے سائے میں قید ہے!
شیئر کریں
ول ڈیورنٹ کہتا ہے”دنیا میں سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان مر جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل کے باوجود بار بار ایک ہی غلطی دہراتا ہے”۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت پوری شدت سے سامنے آتی ہے کہ انسان نے تہذیبیں ضرور تعمیر کیں، مگر اپنے اندر چھپے خوف، لالچ، اقتدار کی ہوس اور اجتماعی حماقت پر کبھی مکمل قابو نہ پا سکا۔ مصر کے فرعون ہوں، رومی سلطنت، منگول فتوحات، نوآبادیاتی طاقتیں، پہلی اور دوسری عالمی جنگیں یا جدید ریاستیں، ہر دور میں طاقت نے خود کو عقل کا نام دیا، اور ظلم کو قومی مفاد کا لباس پہنایا۔ اسی انسانی المیے کو امریکی ادیب Joseph Hellerنے اپنے شہرآفاق ناول22 Catch-میں اس شدت کے ساتھ بیان کیا کہ یہ صرف جنگ پر لکھا گیا ناول نہیں رہا، بلکہ پوری انسانی تہذیب کے تضادات کی علامت بن گیا۔22 Catch-کا مرکزی کردار Yossarian ایک ایسا سپاہی ہے جو جنگ میں مرنا نہیں چاہتا۔ اس کی خواہش نہ اقتدار ہے، نہ شہرت، نہ تمغے؛ وہ صرف زندہ رہنا چاہتا ہے۔ لیکن ریاست، فوجی نظام اور طاقت کے ادارے اس کی اس فطری خواہش کو بھی جرم بنا دیتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ جنگ سے بچنا چاہتا ہے تو شاید وہ پاگل ہے، مگر اگر وہ اپنی جان بچانے کے لیے درخواست دیتا ہے تو یہی درخواست اس کے عقلمند ہونے کا ثبوت بن جاتی ہے، اور اس لیے اسے دوبارہ جنگ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ یہی وہ ظالمانہ منطق ہے جسے22 Catch-کہا جاتا ہے۔
ایک ایسا قانون جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، کیونکہ راستہ بھی اسی قانون کے قبضے میں ہوتا ہے۔یہ صرف ناول کی کہانی نہیں، بلکہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ تاریخ بار بار ایسے ”کیچ ٹوئنٹی ٹو” پیدا کرتی رہی ہے جہاں عام انسان ہر حال میں ہارتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو ظلم بڑھتا ہے، اگر بولے تو سزا ملتی ہے۔ اگر وہ جنگ میں جائے تو مرے، اگر انکار کرے تو غدار کہلائے۔ اگر سچ کہے تو دشمن قرار پائے، اور اگر جھوٹ بولے تو ضمیر مر جائے۔ یہی وہ تضاد ہے جس میں انسانی تہذیب صدیوں سے قید ہے۔نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان صرف نفرت کی وجہ سے جنگ نہیں کرتا؛ وہ اکثر خوف کی وجہ سے جنگ کرتا ہے۔ خوف اسے اپنے اختیار سے دستبردار کر دیتا ہے۔
ایرک فروم نے لکھا کہ انسان آزادی سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ آزادی ذمہ داری مانگتی ہے۔ اسی لیے وہ طاقتور کے پیچھے چلنے میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، چاہے وہ طاقتور اسے تباہی کی طرف ہی کیوں نہ لے جا رہا ہو۔-22 Catchاسی اجتماعی نفسیات کی تشریح ہے۔ سگمنڈ فرائڈ نے انسان کے اندر موجود تباہ کن جبلت کی بات کی، جبکہ Carl Jungنے اجتماعی لاشعور کے تاریک سایوں کا ذکر کیا۔ جب پورا معاشرہ ایک ہی خوف، ایک ہی نفرت اور ایک ہی بیانیے کے زیرِ اثر آ جائے تو انفرادی عقل مفلوج ہونے لگتی ہے۔ پھر لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں اور صرف اطاعت کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تاریخ کے بڑے سانحات جنم لیتے ہیں۔
یہ ناول سرمایہ، طاقت اور جنگ کے باہمی تعلق کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی؛ اس کے پیچھے منافع، اسلحہ، سیاست، تشہیر اور اقتدار کی پوری معیشت کھڑی ہوتی ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی جنگیں عوام کے نام پر لڑی گئیں، مگر ان کے ثمرات ہمیشہ طاقتور طبقوں نے سمیٹے۔ مرنے والا ہمیشہ عام انسان تھا، اور فیصلے کرنے والے ہمیشہ محفوظ کمروں میں بیٹھے رہے۔Albert Camusنے کہا تھا کہ جب دنیا بے معنی محسوس ہونے لگے تو انسان کے سامنے دو راستے رہ جاتے ہیں؛ یا تو وہ اس بے معنویت کے سامنے ہتھیار ڈال دے، یا پھر اپنی انسانیت بچانے کے لیے مزاحمت کرے۔
Yossarianاسی مزاحمت کی علامت ہے۔ وہ جنگ جیتنے نہیں، انسان بنے رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی اصل بغاوت بندوق کے خلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو انسان کو صرف ایک نمبر، ایک سپاہی یا ایک مہرہ سمجھتی ہے۔اگر ہم پوری انسانی تاریخ کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ22 Catch- کسی ایک جنگ کی کہانی نہیں بلکہ ہر دور کی کہانی ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی قوم پرستی کے نام پر، کبھی نظریے کے نام پر اور کبھی سلامتی کے نام پر انسان کو ایسے دائروں میں قید کیا گیا جہاں ہر راستہ اسی طاقت کی طرف جاتا تھا جس سے وہ نجات چاہتا تھا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کس جنگ میں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی انسان رہ گئے ہیں، یا ہم صرف ایسے نظاموں کے خاموش پرزے بن چکے ہیں جو ہمیں جینے کا حق بھی اپنی اجازت سے دیتے ہیں۔ یہی سوال 22 Catch- کو ایک ناول سے بڑھ کر انسانی تاریخ کا آئینہ بنا دیتا ہے۔Joseph Heller نے ایک ایسے نظام کی تصویر کشی کی جہاں انسان ہر راستے سے شکست کھاتا ہے۔ اگر وہ اپنی جان بچانا چاہے تو اسے بزدل کہا جاتا ہے، اگر وہ جنگ میں جائے تو موت اس کی منتظر ہوتی ہے۔
یہی ”کیچ ٹوئنٹی ٹو” ہے؛ ایک ایسا شیطانی دائرہ جہاں ہر انتخاب انسان کو اسی انجام تک لے جاتا ہے جس سے وہ بچنا چاہتا ہے۔اگر اس ناول کو پاکستان کی تاریخ کے آئینے میں پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف ایک ناول نہیں پڑھ رہے، بلکہ اپنی اجتماعی زندگی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ یہاں بھی ایک عام شہری کئی دہائیوں سے اپنے ہی22 Catch- میں قید ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو اس کے حقوق سلب ہوتے رہتے ہیں، اگر وہ آواز اٹھائے تو اسے مختلف الزامات، دباؤ یا مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ روزگار مانگے تو سفارش اور تعلقات کی دیوار سامنے آ جاتی ہے، اور اگر وہ میرٹ کی بات کرے تو اسے ”حقیقت پسند” بننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر وہ انصاف چاہے تو برسوں انتظار کرے، اور اگر مایوس ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ صبر کرو۔ گویا ہر راستہ اسی بند گلی میں جا کر ختم ہوتا ہے جس کا نام پاکستان کا دائمی22 Catch- ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد عوام کو بتایا گیا کہ یہ ملک انصاف، مساوات اور خوشحالی کا خواب پورا کرے گا، لیکن تاریخ کے سفر میں بار بار ایسا
محسوس ہوا کہ ریاست کے ادارے عوام کی خدمت سے زیادہ اپنی بقا اور طاقت کے تحفظ میں مصروف ہو گئے۔ ہر حکومت نے اصلاحات،
تبدیلی، احتساب اور ترقی کے وعدے کیے، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی مسائل کی نوعیت کم ہی بدلی۔ چہرے بدلتے رہے، مگر نظام کی
پیچیدگیاں اکثر وہی رہیں۔پاکستانی انسان کی نفسیات بھی اسی مسلسل عدمِ تحفظ میں تشکیل پاتی رہی ہے۔ جب ایک معاشرہ طویل عرصے
تک غیر یقینی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا سامنا کرتا ہے تو لوگوں میں خوف، بے اعتمادی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ پھر لوگ اصولوں
سے زیادہ تعلقات، قانون سے زیادہ سفارش، اور مستقبل سے زیادہ آج کی بقا کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔Yossarian صرف
جنگ سے نہیں لڑ رہا تھا؛ وہ ایک ایسے نظام سے لڑ رہا تھا جو انسان کی جان سے زیادہ اپنے ضابطوں کو اہم سمجھتا تھا۔ پاکستان کا عام شہری بھی
اکثر ایسے سوال پوچھتا ہے جن کے جواب اسے نہیں ملتے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کیوں مشکل ہے؟ محنت کے باوجود خوشحالی
کیوں دور ہے؟ قانون سب کے لیے برابر کیوں محسوس نہیں ہوتا؟ یہ سوالات مختلف افراد مختلف انداز میں جواب دیتے ہیں، مگر ان کا وجود
خود اس احساس کی علامت ہے کہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد ایک بنیادی سرمایہ ہوتا ہے۔ کافکا نے The Trial میں ایک ایسے
انسان کی تصویر کھینچی تھی جو جرم جانے بغیر سزا کے نظام میں پھنس جاتا ہے۔ Joseph Heller نے 22 Catch- میں دکھایا کہ
انسان ایسی منطق میں قید ہو سکتا ہے جہاں ہر دلیل اسی کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی پاکستانی شہری کو بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ
وہ پیچیدہ ضابطوں، بیوروکریسی، سیاسی کشمکش اور معاشی مشکلات کے ایسے جال میں کھڑا ہے جہاں نکلنے کا راستہ واضح نہیں۔طاقت کی ایک
نفسیات ہوتی ہے۔ جب حکمران طبقات خود کو ریاست سمجھنے لگتے ہیں تو تنقید انہیں دشمنی محسوس ہونے لگتی ہے، اختلاف بیوفائی دکھائی دیتا ہے، اور سوال خطرہ بن جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کیفیت کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی۔ بہت سی ریاستوں نے یہی غلطی دہرائی، اور آخرکار انہیں اپنے اداروں کو زیادہ جواب دہ، شفاف اور عوام دوست بنانا پڑا۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف معاشی یا
سیاسی نہیں، بلکہ اعتماد کا بحران بھی ہے۔ جب نوجوان یہ محسوس کرے کہ اس کی محنت کا صلہ یقینی نہیں، جب کسان اپنی پیداوار کے باوجود
پریشان ہو، جب مزدور اپنی مزدوری سے بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، اور جب تعلیم یافتہ طبقہ بھی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا
شکار ہو، تو ریاست اور معاشرے دونوں کو سنجیدگی سے اپنے راستے پر غور کرنا پڑتا ہے۔22 Catch- ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی بھی قوم
صرف اسلحے، نعروں یا طاقت سے مضبوط نہیں بنتی۔ مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جہاں قانون کا مقصد انسان کی عزت کی حفاظت ہو، جہاں
ادارے عوام کے اعتماد سے طاقت حاصل کریں، جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور جہاں نوجوان کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت اس کی
تقدیر بدل سکتی ہے۔پاکستان کی اصل جنگ کسی بیرونی دشمن سے پہلے اپنے ان دائروں کو توڑنے کی ہے جہاں عام شہری خود کو بے بس محسوس
کرتا ہے۔ جب تک انصاف آسان، مواقع منصفانہ، ادارے جواب دہ اور اقتدار قانون کے تابع نہیں ہوتے، تب تک ہر نئی نسل اپنے حصے
کا ایک نیا 22 Catch- جیتی رہے گی۔ اور شاید کسی قوم کی سب سے بڑی شکست یہی ہوتی ہے کہ اس کے لوگ خواب دیکھنا چھوڑ دیں،
کیونکہ جس دن خواب مر جائیں، اس دن ریاستیں نقشوں پر تو باقی رہتی ہیں، مگر قومیں اندر سے خالی ہو جاتی ہیں۔
٭٭٭٭


