صوبوں کی بات ہو تو عزت غیرت آجاتی ہے، مصطفی کمال
شیئر کریں
بچے گٹر میں گریں تو کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے،
پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے رقبے کئی ممالک بڑے ہیں،وزیر برائے صحت
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لڑائی ہو رہی ہے، ہمارے فوجی افسر شہید ہو رہے ہیں،
اس جنگ میں بیرونی عناصر شامل ہیں، ہمیں اس نظام کو بھی جڑ سے بہتر کرنا ہوگا، خطاب
……………………………………..
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ صوبوں کی بات ہو تو عزت غیرت آجاتی ہے، بچے گٹر میں گریں تو کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟
پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہاکہ پاک بھارت جنگ ہوئی جس میں اللہ نے پاکستان کو فتح دی، پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کو 6 دنوں میں شکست دی، دنیا نے سوچ لیا کہ دفاع کے اعتبار سے پاکستان سے اچھا کوئی دوست نہیں ہوسکتا، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم نے تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچایا۔
مصطفی کمال نے کہا کہ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے، 8884 ارب روپے وفاق ہر سال صوبوں کو بانٹ دیتا ہے، اتنی بڑی رقم 4 وزرائے اعلی کو مل جاتی ہے، لیکن فنڈز یوسیز تک جانے کا نظام نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا صوبے کئی ممالک سے بڑے ہیں، سندھ 165 ممالک سے بڑا ہے جبکہ بلوچستان 180 ممالک کے رقبوں سے بڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کے عوام 3 کروڑ 70 لاکھ تھے تو 4 صوبے تھے، اب ساڑھے 26 کروڑ آبادی ہو چکی، اب بھی چار صوبے ہیں، سری لنکا کے 9، ایران کے 23 اور بھارت کے بھی کئی صوبے ہیں، صوبے بنانے سے ملک ٹوٹتا نہیں مزید مضبوط ہوتا ہے، کچھ تو ایسا ہے کہ یہ نظام غدار پیدا کر رہا ہے لوگ بندوق اٹھا لیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہاکہ آج خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لڑائی ہو رہی ہے، ہمارے فوجی افسر شہید ہو رہے ہیں، اس جنگ میں بیرونی عناصر شامل ہیں، ہمیں اس نظام کو بھی جڑ سے بہتر کرنا ہوگا۔
مصطفی کمال نے کہاکہ صوبوں کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ عزت اور غیرت کی بات ہے، جب گٹر میں گر کر بچے مرتے ہیں تو اس وقت کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 14 گھنٹے کام کر رہے ہیں، ان کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہے، آپ وزیراعظم سے ادھر ادھر کی بات نہیں کرسکتے، وہ 3بار وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں، اب وزیراعظم کا کام تو گٹر ڈھکن لگانا نہیں، نظام کو مضبوط بنانا ہوگا، ساری جماعتیں بیٹھ کر بات کریں موجودہ معاملات کا آئینی حل نکالیں۔


