میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آزادی: نعمت ، امانت اور ہماری ذمہ داری

آزادی: نعمت ، امانت اور ہماری ذمہ داری

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۴ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

14 اگست یومِ آزادی محض کیلنڈر کا ایک دن نہیں بلکہ ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس کے پس منظر میں بے شمار قربانیاں،
ہجرتوں کا کرب، بچھڑتے خاندان، اجڑتے گھر، شہیدوں کا لہو، ماؤں کی دعائیں اور ایک آزاد وطن کا خواب پوشیدہ ہے ۔ یہ دن ہمیں صرف خوشی منانے اور جشن منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ ہمیں اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھنے ، اپنے حال کا جائزہ لینے اور اپنے مستقبل
کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت بھی دیتا ہے ۔ آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کی حقیقی قدر وہی قوم جان سکتی ہے جس نے غلامی
کی اذیت کو محسوس کیا ہو۔ اپنی مرضی سے زندگی گزارنے ، اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنے ، اپنے سیاسی و اجتماعی مستقبل کا فیصلہ کرنے
اور اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھنے کا اختیار کسی بھی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ غلامی میں انسان زندہ تو رہ سکتا ہے
مگر اس کی آزادیِ فکر، اجتماعی خودمختاری اور قومی تشخص محدود ہو جاتا ہے ۔

آزاد قومیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں، اپنی ترجیحات طے کرتی ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تعمیر کرتی ہیں۔برصغیر کے
مسلمانوں نے اس حقیقت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس کے لیے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد بھی کی۔ پاکستان کا قیام کسی اتفاق، حادثے یا
اچانک رونما ہونے والے واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک طویل سیاسی، فکری اور اجتماعی جدوجہد کا ثمر تھا۔ علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے
جداگانہ تشخص اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے فکری رہنمائی فراہم کی، جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو منظم
قیادت فراہم کرتے ہوئے ایک واضح منزل کی طرف آگے بڑھایا۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس جدوجہد میں اپنا وقت، مال، سکون اور بعض
اوقات اپنی جان تک قربان کی۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان کی آزادی کسی کھیل کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ آزادی نہ کسی ایک دن
کی خواہش سے حاصل ہوئی، نہ صرف نعروں سے ملی اور نہ ہی محض سیاسی تقریروں سے وجود میں آئی۔ اس کے لیے نسلوں نے جدوجہد کی،
قربانیاں دیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے مستقبل کو ایک آزاد وطن کے خواب کے ساتھ وابستہ کیا۔

1947ء کی ہجرت اس جدوجہد کا سب سے دردناک باب ہے ۔ لاکھوں انسان اپنے آبائی گھروں، زمینوں، کاروباروں اور یادوں کو چھوڑ کر ایک ایسے وطن کی طرف روانہ ہوئے جس کے بارے میں انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ خاندان بچھڑے ، بستیاں اجڑیں، قافلے لٹے ، بے شمار انسان راستے میں مارے گئے اور ہزاروں ماؤں نے اپنے لختِ جگر کھو دیے ۔ بہت سے لوگوں نے پاکستان پہنچ کر اپنی زندگی دوبارہ صفر سے شروع کی۔ جن لوگوں نے پاکستان کے قیام کے لیے قربانیاں دیں، ان کے سامنے ذاتی مفاد نہیں بلکہ ایک قومی مقصد تھا۔ ان کے دل میں ایک ایسے وطن کا تصور تھا جہاں وہ اپنی تہذیب، مذہب، شناخت اور اجتماعی اقدار کے مطابق باوقار زندگی گزار سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم آج سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس پرچم کے سبز و سفید رنگ صرف ایک قومی علامت نہیں بلکہ ایک پوری تاریخ کی قربانیوں، امیدوں، خوابوں اور جدوجہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔لیکن 79 برس کے اس سفر کے بعد ایک سوال ہمارے سامنے پوری شدت سے موجود ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہ سوال مایوسی پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ قومی احتساب کے لیے ہے ۔ ہمیں اپنے سفر کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے ۔ بلاشبہ پاکستان نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہمارے سائنس دانوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، اساتذہ، فوجی جوانوں، کھلاڑیوں، کاروباری افراد اور نوجوانوں نے دنیا کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے ۔

پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود دفاعی صلاحیت پیدا کی، اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کیے ، صنعت و زراعت کے شعبوں میں ترقی کی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہم سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی پسماندگی، کرپشن، ادارہ جاتی کمزوری، طبقاتی تقسیم اور قانون کی کمزور عمل داری جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

آزادی کا حقیقی مفہوم صرف یہ نہیں کہ ہماری سرحدیں آزاد ہیں؛ آزادی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ عام شہری عزت، انصاف، تعلیم، روزگار، صحت اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ زندگی گزار سکے ۔ اگر ایک شخص غربت کے ہاتھوں مجبور ہو، ایک نوجوان روزگار کے لیے ترستا رہے ، ایک بچہ تعلیم سے محروم ہو، کسی شہری کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے یا معاشرے میں قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہو تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آزادی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک کس حد تک پہنچے ہیں۔

آزادی صرف بیرونی غلامی سے نجات نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف، مساوات، قانون کی حکمرانی اور مواقع کی برابری کا نام بھی ہے ۔ ہمیں آزادی کو ایک زندہ تصور کے طور پر سمجھنا ہوگا جو شہری کی زندگی میں نظر بھی آئے اور محسوس بھی ہو۔اس صورتِ حال میں سب سے پہلے حکمران طبقے کو اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ اقتدار کو اعزاز یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قومی امانت سمجھنا ہوگا۔ عوامی وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔میرٹ، شفافیت، جواب دہی اور قانون کی حکمرانی کو ریاستی نظام کی بنیاد بنانا ہوگا۔ تعلیم، صحت، روزگار، معیشت، صنعت، زراعت اور جدید ٹیکنالوجی کو وقتی سیاسی نعروں کے بجائے مستقل قومی ترجیحات بنانا ہوگا۔

حکمران اگر عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، ادارے مضبوط ہوں، فیصلے میرٹ پر ہوں اور ریاستی وسائل کا استعمال شفاف انداز میں ہو تو ریاست پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے ۔ مضبوط ریاست وہ نہیں جہاں شہری خوف میں زندگی گزاریں بلکہ مضبوط ریاست وہ ہے جہاں شہری قانون، انصاف اور اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہوں۔تاہم تمام ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ پاکستان ہم سب کا وطن ہے اور اس کی تعمیر میں ہر شہری کا حصہ ہے ۔ ہمیں خود سے بھی یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہے ہیں۔ اگر ہم قانون کی خلاف ورزی کریں، ٹیکس چوری کو معمول سمجھیں، ملاوٹ کریں، سفارش کو میرٹ پر ترجیح دیں، جھوٹ بولیں، قومی املاک کو نقصان پہنچائیں، دوسروں کے حقوق پامال کریں اور ہر خرابی کا ذمہ دار صرف حکومت کو قرار دیں تو یہ رویہ بھی قومی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ اچھا شہری ہونا بھی حب الوطنی ہے ۔ استاد کا ایمانداری سے پڑھانا، طالب علم کا محنت سے علم حاصل کرنا، ڈاکٹر کا دیانت داری
سے علاج کرنا، کسان کا محنت کرنا، تاجر کا حلال اور دیانت دار کاروبار کرنا، صحافی کا سچ لکھنا اور حکمران کا عوامی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینایہ سب حب الوطنی کی عملی صورتیں ہیں۔

آزادی کی بقا اور سلامتی اس لیے ضروری ہے کہ آزادی ایک مرتبہ حاصل کرکے ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہو جاتی۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومیں اپنی آزادی کھو بھی سکتی ہیں اور اپنی ریاستوں کو اندرونی انتشار اور بیرونی خطرات سے کمزور بھی کر سکتی ہیں۔ آج قومی سلامتی کا تصور بھی وسیع ہو چکا ہے ۔مضبوط دفاع یقیناً ضروری ہے ، مگر صرف فوجی طاقت کسی ملک کی مکمل سلامتی کی ضمانت نہیں۔ معاشی استحکام بھی قومی سلامتی ہے ، معیاری تعلیم بھی قومی سلامتی ہے ، پانی اور خوراک کا تحفظ بھی قومی سلامتی ہے ، سائبر سکیورٹی بھی قومی سلامتی ہے ، سماجی ہم آہنگی بھی قومی سلامتی ہے اور قانون کی حکمرانی بھی قومی سلامتی ہے ۔ اگر کوئی ملک معاشی طور پر کمزور، سیاسی طور پر غیر مستحکم، سماجی طور پر تقسیم اور ادارہ جاتی اعتبار سے کمزور ہو تو اس کی آزادی مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے ۔

آج کے دور میں ایک اور بڑا چیلنج فکری اور ڈیجیٹل محاذ ہے ۔ جھوٹی خبریں، نفرت انگیز مواد، افواہیں، اشتعال انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے آزادی کے تحفظ کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی فکری آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔

اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں، تنقید کو غداری کا نام نہ دیں اور ہر غیر مصدقہ خبر کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں۔ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار قوم ہی اپنے قومی مفادات کا مؤثر دفاع کر سکتی ہے ۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو بھی یہ احساس دلانا ہوگا کہ پاکستان صرف ماضی کی قربانیوں کا حاصل نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری بھی ہے ۔ بزرگوں نے پاکستان حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی؛ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے مضبوط، مستحکم، خوشحال، باوقار اور ترقی یافتہ بنائیں۔ نوجوانوں کو صرف ماضی کی داستانیں سنانا کافی نہیں، انہیں علم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، کردار، اخلاق اور قیادت کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے ۔جس قوم کے نوجوان تعلیم، تحقیق اور تخلیق کی طرف بڑھتے ہیں، اسے دنیا کی کوئی طاقت مستقل طور پر پیچھے نہیں رکھ سکتی۔

14 اگست ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتا ہے ، مگر اس کا اصل پیغام مستقبل کی تعمیر ہے ۔ جب ہم اس دن اپنے گھروں، اداروں اور شاہراہوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو ہمیں ایک لمحے کے لیے ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اس پرچم کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا، اپنی جانیں قربان کیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک آزاد وطن کا خواب دیکھا۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اس امانت کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے حقیقی وارث ہیں؟ کیا ہم پاکستان کو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بہتر حالت میں چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جس حالت میں ہمیں ملا تھا؟

آئیے اس یومِ آزادی پر صرف جشن نہ منائیں بلکہ ایک قومی عہد بھی کریں۔ ہم آزادی کی قدر کریں گے ، بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے ، قانون کا احترام کریں گے ، تعلیم اور تحقیق کو فروغ دیں گے ، قومی یکجہتی کو مضبوط کریں گے ، نفرت اور تعصب سے دور رہیں گے ، اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں گے اور حکمرانوں سے شفافیت، انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں گے ۔ کیونکہ آزادی صرف حاصل کرنے کی چیز نہیں، اسے محفوظ رکھنے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی ہے ۔ 14 اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ہمیں صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ملا بلکہ ایک امانت ملی ہے ؛ ایسی امانت جس کی حفاظت، سلامتی، ترقی اور خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ پرچم ضرور لہرائیں، قومی نغمے ضرور گائیں اور آزادی کا جشن ضرور منائیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی عہد کریں کہ ہم اپنے کردار، اپنی محنت، اپنی دیانت اور اپنی ذمہ داری سے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے ۔ یہی آزادی کا حقیقی جشن ہے ، یہی بزرگوں کی قربانیوں کا اصل احترام ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ پاکستان!!


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں