میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مکہ معاہدہ؛متبادل سیکورٹی نظام کی بنیاد

مکہ معاہدہ؛متبادل سیکورٹی نظام کی بنیاد

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث ہے اس معاہدے کی جس بنیادی شق کا سب سے زیادہ شہرہ ہوا ہے، وہ نیٹو معاہدے کی شق 5 کے مطابق ہے جس کے مطابق تینوں ممالک میں سے
کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا ترکی نے یہ واضح کردیاہے کہ یہ معاہدہ کسی ملک یا کسی بین الاقوامی دفاعی
معاہدے کے خلاف یا اس کے متبادل نہیں ہے۔بین الاقوامی تعلقات میں اجتماعی دفاع کا تصور نیا نہیں۔ دنیا کی سب سے نمایاں مثال نیٹو
(NATO) ہے، جہاں آرٹیکل 5 کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر مکہ معاہدہ بھی اسی نوعیت کی ذمہ داریوں پر
مبنی ہے تو مسلم دنیا میں پہلی مرتبہ ایک ایسا دفاعی ڈھانچہ سامنے آ سکتا ہے جو صرف بیانات سے آگے بڑھ کر عملی عسکری تعاون کی بنیاد بنے۔

تاہم اس معاہدے سے یہ بات اب زیادہ واضح ہوگئی ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں علاقائی سلامتی کے انتظامات میں ایک نئی صف بندی
کی نمائندگی کرتا ہے جب دنیاکا پرانا سیکورٹی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے ۔یہ معاہدہ خاص طورپر اس لئے سامنے آیا ہے کہ امریکی دفاعی
چھتری سعودی عرب اور خلیج کی دیگر عرب ریاستوں کے تحفظ میں بہت کم مددگار ثابت ہوئی ہے۔ بلکہ ان ریاستوں میں امریکی فوجی
تنصیبات کی موجودگی نے انہیں جنگ میں گھسیٹ لیا ہے،اور ایرانی اور ان کے علاقائی مسلح اتحادی ان تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

امریکہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اسے اپنے خلیجی اتحادیوں کے تحفظ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ، حالانکہ ان ممالک نے امریکہ سے اربوں ڈالر
مالیت کا اسلحہ خریدا ہے۔ ماہرین اسے خطے کے لیے ایک متبادل سیکورٹی نظام کی بنیادقرار دے ر ہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے حالیہ
تنازعات کے تجربے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے کی ریاستیں اب شاید اپنی سلامتی کے واحد ضامن کے طور پر امریکہ پر انحصارنہیں کرسکتیں
اور امریکہ کی تمامتر یقین دہانیوں کے باوجود وہ اپنے دفاع کیلئے صرف امریکہ پر انحصار پر شاید اب تیار نہ ہوں کیونکہ خلیج میں امریکہ کی فوجی
موجودگی اس کے علاقائی اتحادیوں کا تحفظ کرنے میں قطعیناکام ثابت ہوئی۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران یہ
بات واضح ہوگئی کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی سلامتی کے بجائے اسرائیل کا تحفظ
تھا۔ اس صورتِ حال نے ناگزیر طور پر علاقائی طاقتوں کو اپنی دفاعی اور سیکورٹی کی صلاحیتیں مضبوط بنانے کے طریقے تلاش کرنے کی
ترغیب دی ہے۔ چنانچہ سہ ملکی معاہدے کو ممکنہ جارح قوتوں کے لیے باہمی یکجہتی کے ایک پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ
دراصل گزشتہ ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے باضابطہ باہمی دفاعی معاہدے کی بنیاد پر طے پایاہے۔ اس
تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو وسعت دینا اور جارحیت کے خلاف مشترکہ صلاحیت کو مضبوط بنانا تھا، جبکہ اس میں
واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور ہوگی۔ترکیہ کی اس معاہدے میں
شمولیت نے اس انتظام کو وسیع تر علاقائی جہت دے دی ہے اور اب اس کی اہمیت محض فوجی تعاون تک محدود نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مسلم دنیا میں اثر و رسوخ کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کر رہے تھے۔ آج عالمی نظام تبدیلی کے مرحلے
میں ہے اور ریاستیں اپنی تزویراتی ترجیحات اور معاشی مفادات، دونوں پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور ہیں۔اس معاہدے کو ‘سنی بلاک’ یا ایران
مخالف اتحاد کے قیام کے طور پر بیان کرنا بھی حد درجہ سادہ تجزیہ ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ایک پوسٹ اس کے برعکس اشارہ
کرتی ہے کہ جب مسلمان متحد ہو کر کھڑے ہوں تو ہم بیرونی بدنیت عناصر کے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ
صرف اپنے اوپر بھروسہ کریں اور حقیقی بھائی چارے کو اپنائیں۔لہٰذا جو لوگ اس معاہدے کو ایران کے خلاف قرار دے رہے ہیں، وہ یا تو
ابھرتی ہوئی علاقائی حرکیات کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں ، یا انہیں ایک محدود فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھ رہے ہیں ، یا اس سے بھی بدتر یہ کہ
خطے کے اندر بداعتمادی کے بیج بونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ معاہدہ ایسے وقت میں علاقائی تعاون اور سلامتی سے متعلق ہے
جب موجودہ نظام آزمائش کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ ابھی غیر یقینی ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی جانب
راغب کرے گا،، تاہم اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے جیسے ریاستیں اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کی کوشش کریں گی، مضبوط تر
سیکورٹی انتظامات کی اہمیت بھی بڑھتی جائے گی۔ چنانچہ یہ قیاس آرائی کہ دیگر ممالک بھی بالآخر اسی نوعیت کے انتظامات میں شامل ہو سکتے
ہیں، درست ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی مہارت کا بھی مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث ابھرتے ہوئے کسی بھی علاقائی
سیکورٹی نظام میں اسے ایک اہم درمیانی طاقت کی حیثیت حاصل ہے۔ مکہ معاہدہ شاید ‘مسلم نیٹو’ کے قیام کا پیش خیمہ نہ ہو، لیکن یہ اس سے
بھی زیادہ اہم پیش رفت کی نشاندہی ضرور کرتا ہے: خطے کے ممالک اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے لیے بتدریج زیادہ تیار ہو رہے
ہیں۔سہ ملکی مکہ معاہدے میں فی الحال سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان شامل ہیں لیکن اس کے فریم ورک مذاکرات میں مصر کی شرکت، قبل
ازیں کویت اور پاکستان کے سیکورٹی تعاون پر اتفاق سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ عرب ممالک اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار
کے علاوہ اب متبادل علاقائی راستے تلاش کر رہے ہیں۔یہ معاہدہ ٹائمنگ اور ممبر ممالک کے متنوع سیکورٹی اور علاقائی پس منظر میں نہایت
اہمیت کا حامل ہے۔اس نئی دفاعی پیش رفت کی بنیاد کا جواز جون 2025 میں ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد امریکہ واسرائیل کے
مشترکہ جارحانہ اقدام نے فراہم کیا۔ اس شدید تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا۔ خلیجی ریاستوں کے
لیے یہ صورتِ حال 2تلخ حقائق لے کر آئی: اول یہ کہ اربوں ڈالر کے جدید ترین مغربی اسلحے کے باوجود وہ علاقائی جنگ کی زد میں محفوظ نہیں
ہیں اور دوم یہ کہ کسی بھی علاقائی جنگی بحران میں امریکہ کی اولین ترجیح اسرائیل کا تحفظ ہے۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کی بلاتعطل بمباری
اور فلسطین کے مغربی کنارے آبادکاروں کی توسیعی کارروائیوں، شام کے مزید علاقوں پر قبضے اور لبنان میں کھلی فوجی جارحیت نے یہ ثابت
کر دیا ہے کہ تل ابیب خطے میں مسلسل توسیع پسندی کے عزائم پر عمل پیرا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انتہاپسند اسرائیلی قیادت کی طرف سے چند
ہفتے قبل ببانگ دہل کہا گیا کہ ترکیہ ان کے لیے اگلا ایران ہو سکتا ہے۔ظاہر ہے اس پس منظر میں دونوں متحارب ممالک یعنی تہران اور تل
ابیب کا اس معاہدے پر ردِعمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دوسری طرف اسرائیل اور امریکی تھنک ٹینکس اس پیش رفت کو ابراہیمی معاہدات
(Abraham Accords) کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن خطے میں ایک سعودی
اسرائیلی اتحاد قائم کرنا چاہتا تھا جب کہ سعودی عرب نے اس کے برعکس ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مل کر اپنا ایک الگ راستہ اختیار کر لیا
ہے۔ اسرائیل بھی اس معاہدے کو اپنی علاقائی بالادستی کے لیے ایک غیر متوقع چیلنج سمجھ رہا ہے کیونکہ نیٹو کا اہم رکن ترکیہ اور ایٹمی صلاحیت کا
حامل پاکستان اب خلیج کے سیکورٹی دائرے میں باقاعدہ طور پر شریک ہوگئے ہیں۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا ردِعمل بھی دلچسپ ہے۔

مڈل ایسٹ کے نشریاتی ادارے نے اسے ایک نیا سیکورٹی آرکیٹیکچرقرار دیا ہے جو ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی، پاکستان کی مضبوط فوج
و ایٹمی صلاحیت اور سعودی عرب کے بھاری بھرکم مالی وسائل کا اہم امتزاج ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ(SCMP) نے اسے خلیجی
ممالک کی حکمتِ عملی میں تنوع یعنی سیکورٹی diversification قرار دیا ہے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ ساتھ علاقائی طاقتوں کا ایک بھروسہ
مند اور باضابطہ اتحاد کیا جا سکے۔معاہدے کی بنیادی شق ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگاکا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بیانیہ
کہنے کی حد تک انتہائی جاندار مگر اس پر آسانی سے عملدرآمد مشکل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تینوں ممالک کی جغرافیائی پوزیشن، پڑوسی
دشمن داریاں اور ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔پاکستان کا بنیادی دفاعی چیلنج مشرقی سرحد (بھارت) اور مغربی سرحد (افغانستان) سے جڑا ہوا
ہے۔ اگر بھارت یا افغانستان سے کوئی عسکری تصادم ہوتا ہے تو کیا ترکیہ یا سعودی عرب پاکستان کی خاطر عملی جنگ میں کودیں گے؟ اسی
طرح ترکیہ کا بنیادی تنازع بحیرہ روم، کرد ملیشیا اور شام یا عراق کے سرحدی خطے سے ہے جب کہ اسرائیل کے ساتھ اس کی کشیدگی یورپ
اور نیٹو کے پیچیدہ تناظر میں آتی ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے خدشات کا محور بحیرہ احمر، حوثی اور ایران کے ساتھ کشیدگی ہے۔ خلیج اور
جنوبی ایشیا کی تاریخ ایسے دفاعی معاہدوں سے بھری پڑی ہے جو کاغذی حد تک تو شاندار تھے مگر عملی میدان میں غیرموثر ثابت ہوئے۔ جب
تک ممبر ممالک کے یکساں معاشی وسیاسی مفادات نہ ہوں، ایسے معاہدے محض سفارتی زبانی جمع خرچ بن کر رہ جاتے ہیں۔پاکستان کے
لیے اس معاہدے میں شرکت اس کی علاقائی اہمیت کا بین ثبوت ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی ہے کہ اس معاہدے سے کچھ ٹھوس
معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہیں پاکستان علاقائی تنازعات میں حد سے زیادہ الجھ کر اپنے داخلی مسائل
سے توجہ نہ ہٹا لے۔ بلوچستان اور کے پی کیمیں سیکورٹی کی صورتِ کی صورت حال، کشمیر، معاشی چیلنجز اور داخلی سیاسی عدم استحکام جیسے سنگین
چیلنجز فوری یکسوئی اور مکمل توجہ کے طلبگار ہیں۔مکہ دفاعی معاہدہ یقیناً خلیجی ممالک کی بدلتی سوچ اور امریکہ پر ان کے کم ہوتے دفاعی اعتماد کا
مظہر ہے لیکن پاکستان کے لیے اس اتحاد کی پیچیدگیوں سے بچنا بھی ایک آزمائش ہو گا۔ خارجہ پالیسی میں توازن اور داخلی استحکام پر ہی
ترجیحات استوار ہونی چاہیے۔ اپنی سلامتی کیلئے امریکہ یا دیگر بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خطے کی ریاستوں، بلکہ تمام او آئی سی
رکن ممالک کو، ایک دوسرے کے خلاف جارحیت سے گریز کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔ایران کو خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں پر حملے بند کرنے چاہئیں، جبکہ خلیجی ریاستوں کو بھی غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکنا چاہیے۔ عرب اور ایرانی اپنی جغرافیائی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے؛ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ وہ باہمی سلامتی کے لیے بقائے باہمی کا
کوئی قابلِ عمل طریقہ کار طے کرلیں۔امید ہے کہ نیا دفاعی معاہدہ مسلم دنیا میں اتحاد کو فروغ دے گا، نہ کہ پہلے سے موجود دراڑوں میں مزید
اضافہ کرے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں