یورپی منڈیوں تک مزید گہری رسائی کیلئے تعاون کی پیشکش
شیئر کریں
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس آٹھویں پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے گزشتہ روز پاکستان آئیں، ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے ان کی پاکستان آمد ، یورپی یونین اور بحیثیت مجموعی پوری ترقی یافتہ دنیا کیلئے پاکستان کی اہمیت اور ناگزیریت کو اجاگر کرتی ہے۔
کالاس نے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت اور پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور گفتگو کے دوران وعدہ کیا ہے کہ اگر اسلام آباد جی ایس پی پلس (GSP+) اسکیم کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے مزدور قوانین، انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں موجود خامیوں کو دور کرے تو یورپی بلاک تک پاکستان کی مزید رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ایک ترقی پسند ریاست کے طور پر پاکستان نے اپنے سیاسی نظام میں تکثیریت کو برقرار رکھا ہے، اور اس عزم کو خلوصِ نیت کے ساتھ خود احتسابی اور اصلاحات کے ذریعے مزید نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں سالانہ تقریباً 12 ارب ڈالر کی برآمدات کی جاتی ہیں۔
جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت حاصل اس ترجیحی حیثیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان کو اپنی جغرافیائی و اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے زیادہ آزادانہ تجارتی معاہدوں کی کوشش کرنی چاہیے۔ ٹیکسٹائل، ملبوسات، چھوٹے کاروباری اسٹارٹ اپس اور ثقافتی ورثے سے بھرپور مصنوعات کو یورپی یونین میں زیادہ مؤثر انداز سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے یورپی یونین کا آگے بڑھنا ایک بڑی خدمت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کو خطے میں امن کے فروغ کے اپنے کردار کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی، خاص طور پر اس انتہا پسند نظریے کا مقابلہ کرنے میں جو مغربی دنیا کے ساتھ کھلے تعلقات کی مخالفت کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی، تجارتی ترجیحات اور موسمیاتی تعاون کے نئے مواقع ایسے شعبے ہیں جنہیں خصوصی توجہ اور ترجیح دی جانی چاہیے۔یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کالاس کی جانب سے پاکستان کو یورپی یونین کی منڈی تک مزید رسائی یقینی بنانے کیلئے تعاون کی یقین دہانی کے بعد اب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی توانائیاں 27 رکنی یورپی بلاک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اپنی اقتصادی صلاحیت کو فروغ دینے، اور تجارت و محصولات کے حوالے سے زیادہ سازگار معاہدے حاصل کرنے پر مرکوز کرے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صنعتوں کو درپیش گوناگوں مسائل کے باوجود پاکستانی صنعتوں میں تیار مصنوعات میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ یورپی منڈیوں میں مزید گہرائی تک رسائی حاصل کر سکیں اور ملک کی مشکلات سے دوچار معیشت کے لیے فوائد لا سکیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز یورپی رہنما کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کیلئے فوری قابل عمل اور موثر منصوبہ بندی کریں گے۔
٭٭٭


