میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

نیٹ کا غلط استعمال کرنے والے کو انٹرنیٹ کنکشن دینا:
سوال: ہم نے اپنے گھر انٹرنیٹ کا کنیکشن لگوایا ہے، ہمارا ایک پڑوسی دوست ہے وہ کہتا ہے کہ آپ نیٹ کا کنیکشن ہم سے بھی شیئر کریں پھر نیٹ کا بل ہم دونوں آدھا آدھا ادا کیا کریں گے، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کرے گا یا غلط؟ مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر وہ نیٹ کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ ہمیں بھی ملے گا یا صرف اسی کو ملے گا؟
جواب:آپ اپنے پڑوسی دوست کوانٹر نیٹ کا کنیکشن دے سکتے ہیں، آگے وہ صحیح استعمال کرے یا غلط اس کا گناہ آپ پر نہیں بلکہ اسی پر ہوگا، البتہ اگر آپ کو یقین ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ اس کا استعمال غلط ہی کرے گا تو پھر اس کو انٹرنیٹ کا کنیکشن نہیں دینا چاہیے کیوں کہ پھر گناہ کے کام میں آپ بھی اس کے معاون متصور کیے جائیں گے اور اس بات سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں منع فرمایا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

حرم کے کبوتروں کے دانے بطورِ برکت گھر لانے کا حکم:
سوال:مفتی صاحب 2018 کو حج پہ گئی تھی تو کزن نے کہا تھا کہ وہاں سے کبوتر جو گندم کھا رہے ہو ان میں تھوڑے گندم لانا برکت کیلئے تو وہاں میں نے گندم خرید کر کبوتروں کو ڈالا اور جو پرانا زمین پر پڑا اس میں تھوڑا اٹھا لیا جس میں کبوتر کی بیٹ بھی تھی کچھ اپنی اس کزن کو دیا کچھ خود رکھا اب دل بہت پریشان ہے کہ وہاں سے کوئی چیز ایسے اٹھا کر نہیں لانا چاہئے اب اگر کوئی عمرہ پہ جا رہا ہے اور میں وہ گندم جو میرے پاس ہے ان کو دے دوں کہ مکہ میں کبوتروں کو ڈال دیں۔ ایسا کرنا ٹھیک ہے،یا بس یہ میرا وہم ہے کہ یہ میں نے غلط کیا ہے رہنمائی فرمائیں گا۔ سائلہ: ملائکہ سبحان کوہاٹ
جواب: حرم شریف کے کبوتروں کو ڈالے ہوئے دانوں میں سے کچھ دانے اٹھاکر بطورِ تبرک کے اپنے گھر لے جانا انتہائی نامناسب عمل ہے ، کیوں کہ جس جس نے وہاں وہ دانے ڈالے تھے ان کی اجازت کے بغیر آپ وہ دانے وہاں سے اٹھاکر لے آئی ہیں اور ان لوگوں سے جنہوں نے وہ دانے ڈالے تھے ان سے اجازت لینا بھی محال تھا کہ معلوم نہیں کس کس نے وہ دانے ڈالے ہوں گے اس لیے اس عمل سے احتراز ضروری ہے، اور اس سے برکت کا تصور کرنا بھی غلط ہے، لہٰذا اس کا تدارک یہ ہے کہ جو دانے آپ نے وہاں سے بطور تبرک اٹھائے تھے ان دانوں کی جگہ اپنی طرف سے مزید دانے خرید کر وہاں حرم شریف میں ڈال دیں تواس طرح کرنے سے اس نامناسب عمل کا ازالہ اور تدارک آپ کی طرف سے ہوجائے گا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

باپ کی زندگی میں بیٹوں کو ملے ہوئے مال میں بیٹیوں کا حصہ لینے کا مطالبہ کرنا:
سوال: ایک سوال ہے کہ باپ نے زندگی میں بیٹوں کوسارا مال جائداد دیدیا اور بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا باپ فوت ہوا اب بیٹیاں کہتی ہیں کہ بھائیوں کے ساتھ ہمارا حصہ ہے توکیا یہ بہنیں بھائیوں سے جائداد مانگ سکتی ہیں کہ نہیں؟
جواب: جب باپ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا سب کچھ اپنے بیٹوں میں تقسیم کردیا اور بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا جو کہ حقیقت نفس الامر میں ہے تو غلط اور حدیث شریف میں اس سے منع کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو لیکن اس کے باوجود اب بیٹیاں اپنے بھائیوں سے اپنے والد کے حصے کا مطالبہ نہیں کرسکتیں کیوں کہ باپ اپنی زندگی میں اپنا سارا مال اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کرکے ان کو مالک بنا کر اس دنیا سے چلا گیا ہے اور اب اس مال کے بھائی مالک بن گئے ہیں لہٰذا بیٹیاں کسی دوسرے (یعنی اپنے بھائیوں) کے مال میں سے اپنا حصہ نہیں مانگ سکتیں، ہاں باپ کے مرنے کے بعد اگر اس کا کوئی مال موجود ہو تو اس میں وراثت کا قانون جاری ہوگا اور بیٹوں اور بیٹیوں کو ان کے مقررہ حصے ضرور مل سکتے ہیں۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

مسجد کے نام پر وقف شدہ زمین پر مدرسہ بنانے کا حکم:
سوال: ہمارے پاس مسجد کی آٹھ کنال جگہ ہے جس میں سے چارکنال جگہ پر مسجد تعمیر ہے باقی چارکنال جگہ خالی ہے۔ تو کیا ہمارے لیے مدرسہ کے نام پر جمع رقم سے مسجد کی اس جگہ پر مدرسہ بنانا جائز ہے؟
جواب: مسجد کے لئے وقف کی گئی جگہ پر مدرسہ کے نام پر جمع کی ہوئی رقم سے وہاں مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

سونا مہنگا ہونے کی نیت سے خرید کر اپنے پاس رکھنا:
سوال: سونا اس نیت سے لینا اور جمع کرنا کہ جب مہنگا ہو گا تو فروخت کروں گا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب: ایسا کرنا جائز ہے کیوں کہ یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

ڈیلیوری کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں یا بیوی کے؟:
سوال: میری بہن کو تین طلاقیں اس کے شوہر نے دی ہیں، میری بہن کا حق مہر ایک تولہ سونا تھا، آدھا مؤجل اور آدھا معجل تھا، معجل تو اس نے ادا کردیا۔جب میری بہن امید سے تھی تو ڈیلیوری کا خرچہ شوہر نے نہیں دیا،میری بہن نے آدھا تولہ سونا بیچ کر اس پیسے سے ڈیلیوری کے اخراجات برداشت کیے، ا ب اس کو تین طلاقیں ہوگئیں، کیا میری بہن آدھا تولہ سونا جو اس نے ڈیلیوری کی مد میں بیچ کر اخرجات
برداشت کیے اپنے شوہر سے واپس لینے کا حق رکھتی ہے؟ یاد رہے کہ جب بہن کی ڈیلیوری کا موقع تھا تو ہم نے شوہر کو کال کی تھی اور اس کی اجازت سے ہسپتال لے کر گئے تھے۔
جواب: صورت مسؤلہ میں جب ہسپتال شوہر کی اجازت سے لے کر گئے تھے تو ہسپتا ل میں ڈیلیوری کے اخراجات شوہر کے ذمہ تھے اور سائل کی بہن نے وہ اخراجات زیور بیچ کر ادا کیے، تو اب سائل کی بہن ان اخراجات کا مطالبہ اپنے سابقہ شوہر سے کرسکتی ہے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں