میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے تحریک انصاف کااسمبلیوں سے استعفے دینے پرغور،محمود اچکزئی ، ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کیلئے دبائو پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی ، ملک میں گیس قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ قبضہ مافیاز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،وزیر داخلہ سندھ کراچی کو حق دو کے بینرز جو دکاندار بنائیں گے ان کو سِیل کر دینگے، مرتضیٰ وہاب افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید سندھ بلڈنگ، اسکیم 24گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا راج

ای پیج

e-Paper
تعلیم کامیاب کب بناتی ہے ....!

تعلیم کامیاب کب بناتی ہے ....!

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۷ فروری ۲۰۱۷

شیئر کریں

اشفاق احمد
حضورانور ﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تویہاں یہود قوم سے واسطہ پڑا ،جوعرصے سے مدینہ میں رہ رہے تھے، اوراپنی قلت ِتعداد کے باوجود اقتدار کی کرسی بھی انہی کے قبضے میں تھی۔ لیکن شمع رسالت کے منور ہونے کے بعدمدینہ کے باسی حضوراکرم ﷺ کی غلامی کے علاوہ کسی اورکے تسلط کوماننے کے لئے تیارنہ تھے ،لہٰذا مدینہ میں ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی اور اس کے ساتھ ہی یہود کی حیثیت مدینہ میںایک معاہدفریق کی سی ہوگئی۔ اس طرح مسلمانوں کومدینہ میں رہتے ہوئے ان سے شب وروز معاہدے کرنا ہوتے تھے۔ اس لےے ان کی زبان کا آنا بہت ضروری خیال کیاگیا،چنانچہ آپ ﷺ نے سیدنازیدؓ کوعبرانی زبان سیکھنے کے لئے بھیجا اوریہ سترہ دن میں عبرانی سیکھ آئے۔
حضور ﷺ نے سیدنازیدؓ سے اس بات کاتذکرہ فرمایاتھا کہ زیدیہ زبان سیکھ آﺅ ہماری یہود سے خط وکتابت ہوتی رہتی ہے اوران پرمجھے اعتماد نہیں، اگر تم یہ زبان سیکھ آﺅگے توہم ان کے محتاج نہیں رہیں گے۔ان کویہ ٹارگٹ دیا ‘سوانہوں نے بھی اپنی ساری توانائی اس پرصرف کرڈالی اوربہت تھوڑے عرصہ میں مکمل زبان بھی سیکھ لی اورواپس آکرحضور ﷺ کے معاون بھی بنے۔ سیدنازیدؓ کا یہ عظیم کارنامہ ہمارے آج کے نوجوانوں کوبامقصد زندگی کی اہمیت سکھاتا ہے کہ جب ایک شخص زندگی میں کچھ بڑے کاموں کواپنا ہدف بنالیتاہے تواس کے لئے محنت، جستجو اور جدوجہد بھی اسی پائے کی کرتاہے۔ ہمارے نوجوان فن وہنر نہیں سیکھ رہے ہوتے بلکہ بھان متی کاکنبہ جوڑرہے ہوتے ہیں اوریہ وہ سم قاتل ہے جس کا نہ خود انہیں اندازہ ہے اورنہ ان کی کوئی اس پردرست طریقے سے رہنمائی کرتاہے۔ اس لئے وہ ڈگریوں کے انبارلگالیتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسے بے شمار نوجوان آج کل آپ کوملیں گے جنہوں نے کئی کئی مختلف مضامین ماسٹر ڈگری حاصل کی ہوئی ہوتی ہے لیکن وہ ایک بھی شعبے کے ماسٹر نہیں ہوتے ۔اس لیے کامیابی اورخوشحالی ان کے مقدرمیں نہیں آتی۔ وہ نوجوان جلدی کامیاب ہوجاتاہے جس نے ایک مخصوص مقصد کے تحت تعلیم مکمل کی ہواورایک خاص شعبے کا ماہر ہوبجائے اس کے، جس نے پورا انسائیکلوپیڈیا حفظ کیا ہواورایک فقرہ بھی اس کے جذبہ عمل کا جز نہ بن سکاہو۔ آپ جتنا مرضی تعلیم یافتہ ہوجائیں اورکتابوں کے انبارپڑھ لیں اگرآج کا کوئی مقصد نہیں تویہ ایسے ہے جیسے آپ نے بہترین لباس زیب تن کیا ہواورآپ کوکہیں بھی نہیں جانا بلکہ زیادہ سے زیادہ اپنی کھولی میں پڑکرسوجائیں گے۔یادرکھےے کہ تعلیم فقط روزی کماناہی نہیں بلکہ جینا بھی سکھاتی ہے ،سواس کے استعمال کا طریقہ سیکھئے۔
لہٰذا میرے بھائیو!اس ہفتہ کا پیغام سیرت یہ ہوا کہ ہم اپنے زمانہ ¿طالب علمی میں اپنی تعلیم پر بھرپورتوجہ دیں گے۔ اپنے ذوق اوردلچسپی کا کوئی ایک مضمون اپنے لئے مختص کریں گے اورپھراسی میں کمال پیدا کرتے چلے جائیں گے ہم اپنی اگلی نسلوں کوگراں قدر سرمایہ دے کرجائیں گے چاہے تھوڑا ہی ہومگرایسا جاندار کہ جس سے امت کی صحیح معنوں میں کوئی رہنمائی ہوسکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں