پاکستان کے راستے ایران تک سامان ترسیل کی اجازت
شیئر کریں
حکومت کا ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر کا نوٹی فکیشن جاری ،نئے ٹرانزٹ روٹس کا اعلان
گوادر، کراچی،تفتان روٹس ٹرانزٹ کیلئے مختص، ٹرانزٹ کارگو کیلئے مالی گارنٹی لازمی قرار
پاکستان کے راستے ایران تک سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026ء نافذ کردیا، جس کے تحت پاکستان کے راستے ایران تک سامان کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی ہے، اس حوالے سے ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026ء کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ نوٹی فکیشن میں نئے ٹرانزٹ روٹس کا بھی باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے، جس کے تحت گوادر، کراچی اور تفتان روٹس ٹرانزٹ کیلئے مختص کیے گئے ہیں، اس ضمن میں وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ تیسرے ملک سے ایران جانے والا سامان پاکستان سے گزر سکے گا، گوادر بندرگاہ کو بھی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کی حیثیت دے دی گئی، ٹرانزٹ کارگو کیلئے مالی گارنٹی لازمی قرار دی گئی ہے، ایف بی آر قوانین کے تحت کسٹمز طریقہ کار لاگو ہوگا۔دوسری طرف وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار نے خلیجی ممالک جانے والی تاخیری شپمنٹس پر برآمد کنندگان کو خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے، وفاقی وزیر بحری امور نے کہا ہے کہ کے پی ٹی ٹرمینلز پر سٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت خلیجی ممالک جانے والی تاخیری شپمنٹس پر برآمد کنندگان کوخصوصی رعایت ملے گی۔جنید انوار نے بتایا کہ بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کارگو پر بھی ریلیف کا اطلاق ہوگا، مالی دباؤ کم کرکے برآمدات کو سہارا دیا جا رہا ہے جب کہ لاجسٹک مسائل کے خاتمے اور کارگو کلیٔرنس بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، کے جی ٹی ایل پر یکم سے 20 مارچ تک 50 فیصد سٹوریج چارجز معاف ہوں گے، کے آئی سی ٹی پر یکم سے 10 مارچ تک 50 فیصد رعایت دی جائے گی جب کہ ایس اے پی ٹی پر 11 سے 31 مارچ تک 25 فیصد کمی کا اطلاق ہوگا۔


