میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، سوسائٹی میں قواعد کی دھجیاں، متنازع ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر

سندھ بلڈنگ، سوسائٹی میں قواعد کی دھجیاں، متنازع ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر

ویب ڈیسک
هفته, ۱۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

آصف شیخ کی ملی بھگت سے ڈائریکٹر سمیع جملانی کی بے عملی برقرار، قوانین نظرانداز
کچھی میمن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹ C-4اور C-5 پر مشترکہ تعمیرات

بہادر آباد میں واقع کچھی میمن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ایک بار پھر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے ، جہاں آصف شیخ اور ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ ملی بھگت سے پلاٹ نمبر C-4اور C-5 پر مبینہ طور پر بلڈنگ قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر تیزی سے جاری ہے ۔حاصل معلومات اور زمینی حقائق کے مطابق دو الگ رہائشی پلاٹس کو یکجا کر کے کثیر یونٹس پر مشتمل منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے ، جبکہ اس نوعیت کی تعمیرات کے لیے درکار قانونی تقاضوں اور منظوریوں کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات اور نشاندہیوں کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں ضابطہ خلافیوں کا نوٹس لیا جاتا تو صورتحال اس نہج تک نہ پہنچتی۔ ان کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں کا تسلسل اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ بااثر عناصر کو غیر معمولی رعایت حاصل ہے ۔علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس قسم کی تعمیرات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو سوسائٹی میں شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، سیوریج اور بنیادی سہولیات کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔شہریوں اور سماجی تنظیموں نے وزیر بلدیات سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افسران اور عناصر کا تعین کیا جائے اور قوانین کے برخلاف جاری تعمیرات کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔دوسری جانب اس معاملے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران، بالخصوص آصف شیخ ، ڈائریکٹر سمیع جملانی کا مؤقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہو سکا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں