میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

ویب ڈیسک
هفته, ۱۳ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

 

 

دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی

حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071ارب روپے اور پنشن کے لیے 1,169 ارب روپے مختص ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر دو ہزار چھ سو اسی ارب روپے مختص

آن لائن شاپنگ کرنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 5فیصد سے کم کرکے صفر اعشاریہ فیصد ، ایکسپورٹ پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25فیصد کرنے کا فیصلہ ،فائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5فیصد سے 2.75فیصد کر دیا

نئے مالی سال کے لیے حقیقی ترقی کی شرح چار (4)فیصد رہنے کا امکان ، افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو (8.2)فیصد متوقع ہے ، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ چھ (3.6)فیصد رہے گا(وزیرخزانہ)

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ دستاویزات کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ تقریر کا کہا، جس کے بعد وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بنیان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے ۔ گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے ۔ بہت سارے ممالک ہمارے فائٹر جیٹس اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے ملک کی حیثیت حاصل کرچکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے ، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات پر مجبور ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے حقیقی ترقی کی شرح چار (4)فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو (8.2)فیصد متوقع ہے ، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ چھ (3.6)فیصد رہے گا۔2027-28اور 2028-29 کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔وفاقی ٹیکس ریونیو کا تخمینہ پانچ ہزار تین سو چھتیس (5,336) ارب روپے ہو گا۔وفاقی حکومت کی خالص آمدنی گیارہ ہزار سات سو اکیاون (11,751) ارب روپے ہوگی۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ اٹھارہ ہزار سات سو اکتر (18,771) ارب روپے ہے ، جس میں سے آٹھ ہزار چون (8,054) ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے ۔وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار (1,000) ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ سترہ ہزار چار سو پچانوے (17,495) ارب روپے ہے ۔قومی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے ۔ اس قومی مفاد کے لیے تین ہزار (3,000) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار اکتر (1,071) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار ایک سو انہتر (1,169) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گرانٹس اور دیگرا سکیموں کے لیے ایک ہزار اکانوے (1,091)ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP)
وزیر خزانہ نے کہا کہ 10جون 2026 کو منعقدہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا حجم تین ہزار چھ سو پچہتر (3,675) ارب روپے ہے ۔اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار (1,000) ارب روپے ، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دو ہزار دو سو چوبیس (2,224) ارب روپے اور سرکاری اداروں (SOEs) میں سرمایہ کاری کے لیے چار سو اکیاون (451) ارب روپے شامل ہیں۔ یہ تقسیم آئین کی 18ویں ترمیم کے بعد کی نئی تقسیم کا عکاس ہے جس کے تحت ترقیاتی شعبوں کی زیادہ تر ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے جبکہ وفاق خاص طور پر اہم قومی نوعیت کے فلیگ شپ منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے ۔وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ (60%)فیصد سے زائد حصہ بنیادی ڈھانچے جیسے ٹرانسپورٹ، انرجی، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے جبکہ باقی حصہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہ اہم منصوبہ ترقی کا پاکستان اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کی بنیاد پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب میں ان شعبوں کی تفصیل پیش کرتا ہوں۔شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے ۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ تین سو پینسٹھ (365) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں کراچی کو اندرون ملک سے ملانے والی شاہراہ N-25 سرِ فہرست ہے ۔ اسی طرح M-6 (سکھر-حیدرآباد موٹروے ) کی تعمیر کے لیے ADB سے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ML-I پشاور-کراچی ریلوے لائن) کے اپگریڈیشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
گوادر بندرگاہ اور دیگر صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے ۔
توانائی اور بجلی
قابل اعتماد، سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی اس حکومت کا عزم اور معیشت کی بنیادی ضرورت ہے ۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں بجلی کے شعبے کے لیے ایک سو سولہ اعشاریہ دو (116.2) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں ہائیڈل پاور منصوبے ، تھرمل پاور منصوبے ، ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر نو اور نئے ہائیڈل پاور منصوبے شامل ہیں۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے دس اعشاریہ دو (10.2) ارب اور تین (3) ارب روپے شامل ہیں۔خصوصی اکنامک زونز میں بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے ۔ شمسی اور ہوا سے بجلی کے نو (09) منصوبوں کے لیے واپڈاکو پچاس اعشاریہ دو (50.2) ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آٹھ (8) ہائیڈل پاور منصوبوں کے لیے تیرہ اعشاریہ ایک (13.1) ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ پہلے سے زیرِ تعمیر واپڈااور نجی شعبے کے اپنے افرادی وسائل سے ایک سو اٹھاون (158) ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔
پانی
پاکستان کو اپنے بڑے اسٹوریج منصوبوں کی فوری ضرورت ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے ہماری زراعت اور معیشت کو نقصان پہنچایا ہے ۔ اس نقصان نے ہمیں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت کا احساس دلایا ہے ۔اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پانی کے منصوبوں کے لیے ایک سو تین اعشاریہ ایک (103.1) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سب سے اہم منصوبوں میں ڈائمر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ (14) ارب روپے ، موہنڈ ڈیم کے لیے پندرہ (15) ارب روپے ، داسو ہائیڈل پاور کے لیے اٹھائیس (22) ارب روپے اور کراچی کے بڑے پیمانے پر پانی کے منصوبے (K-4) کے لیے دس (10) ارب روپے شامل ہیں۔پاکستان کی شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ 2035 تک ہماری تقریباً نصف آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہوگی۔ شہری مراکز (55%) لاکھوں سے زائد روزگار فراہم کرتے ہیں اور جی ڈی پی میں چون اعشاریہ چھ فیصد حصہ ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے چون اعشاریہ چھ (54.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس رقم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ پچاس ہزار (150,000) آب و ہوا سے محفوظ رہائشی یونٹ تعمیر کیے جائیں گے ، دس (10) بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کیے جائیں گے اور شہری پانی اور صفائی کی فراہمی میں واضح بہتری لائی جائے گی۔ یہ منصوبے ان اقدامات کے علاوہ ہیں جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے میں واضح اور دور رس نتائج کی حامل مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
صنعت اور پیداوار
صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں صنعت اور تجارت کے لیے تقریباً چھ اعشاریہ چھ (6.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا حصہ کراچی انڈسٹریل پارک کی تعمیر و ترقی پر صرف ہو رہا ہے ۔ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں انڈسٹریل ڈیزائننگ اور انوویشن کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔سیالکوٹ میں ڈینٹل اور سرجیکل آلات کے سپورٹ سینٹر کے ذریعے ہم اپنی برآمدی صنعتوں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح SMEDA کے تحت ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک ہزار (1,000) انڈسٹریل سٹیچنگ یونٹس کے دوسرے مرحلے کی توسیع ہو رہی ہے جس سے اضافی برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم ترجیح ہے ۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں صحت کے منصوبوں کے لیے پچیس اعشاریہ ایک (25.1) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق ہماری معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے چھیالیس (46) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے چونتیس اعشاریہ نو (34.9) ارب روپے یونیورسٹیوں کے لیے ہیں۔
حکومت کا 6 شعبوں کیلیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 6شعبوں کیلیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ 15کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ کمانے والوں پر 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس عائد تھا۔
جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے 2.75 فیصد کر دیا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں بڑھیں گی، انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سیمنٹ ،لوہا،شیشہ، ٹمبر،پینٹس،ٹائلز ،ہارڈویئر سمیت 40 صنعتیں چلیں گی۔حکومت نے بیرون ملک سے آن لائن خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بڑی کمی کردی۔حکومت نے باہر کے ممالک سے آن لائن شاپنگ کرنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کرکے صفر اعشاریہ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ایکسپورٹ پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
خواتین کے سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کے لیے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے ۔وزیرخزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔
آبادی کنٹرول کرنے کیلیے مائع حمل اشیا پر ٹیکس ختم
وزیرخزانہ نے کہا کہ آبادی کی رفتار کو کم کرنے کے لیے اور اس کی منصوبہ بندی کے لیئے اقدامات حکومت کی ترجیح ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے ۔
گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد
وزیرخزانہ نے بتایا کہ درآمد کی جانے والے 2ہزار سی سی سے بڑی اور 3ہزار سی سی تک ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 3ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں، اس ٹیکس کا اطلاق 2کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک کار پر ہوگا۔
بزنس کلاس سفر پر ٹیکس ختم
وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ایک اور ریلیف کے تحت بزنس کلاس پر غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے ۔
غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اقدام سے پاکستانیوں کو غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ملے گی۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 2,680ارب روپے مختص
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے دو ہزار چھ سو اسی (2,680)ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ پروگرام 12 ملین خاندانوں کا احاطہ کرے گا۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فلیگ شپ اقدامات کے لیے 838ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے لیے 88؍ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے 95 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دو ہزار دو سو چوبیس ارب روپے اور سرکاری اداروں (SOEs) میں سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ (60%) فیصد سے زائد حصہ بنیادی ڈھانچے جیسے ٹرانسپورٹ، انرجی، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے ، بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم 6سکھر-حیدرآباد موٹروے کی تعمیر کے لیے ADB سے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، ML-I (پشاور-کراچی ریلوے لائن) کے اپگریڈیشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گوادر بندرگاہ اور دیگر صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے ۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے 10.2 ارب اور3 ارب روپے شامل ہیں، شمسی اور ہوا سے بجلی کے 09 منصوبوں کے لیے واپڈا کو 50.2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 8 ہائیڈل پاور منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ، پہلے سے زیرِ تعمیرواپڈا اور نجی شعبے کے اپنے افرادی وسائل سے 158 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کے منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ڈائمر بھاشا ڈیم کیلئے 14 ارب، موہنڈ ڈیم کے لیے 15 ارب ، داسو ہائیڈل پاور کے لیے 22 ارب مختص کیے گئے ، کراچی کے بڑے پیمانے پر پانی کے منصوبے (K-4) کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ شہری مراکز (55%) لاکھوں سے زائد روزگار فراہم کرتے ہیں اور جی ڈی پی میں چون اعشاریہ چھ فیصد حصہ ہیں، پائیدار شہری ترقی اور ہاوسنگ کے شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 6.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ریلیف اقدامات کا اعلان
وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اس سلسلے میں حکومت نے آمدنی کی چار سلیبس کے تحت تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں جو تنخواہ دار پچیس (25) سے تیس (30) لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں، ان کے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ تیس (30) سے بتیس (32) لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔
بتیس (32) سے اکتالیس (41) لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔
اکتالیس (41) سے چھپن (56) لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے ، چھپن (56) سے ستر (70) لاکھ روپے تک آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔
شرح میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور بڑا ریلیف دیتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد ایک اضافی چارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا اور حکومت کو بھی اس بارے میں تحفظات تھے ۔اسی لیے ہم نے پچھلے بجٹ میں اس اضافی چارج کی شرح کو دس فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کیا تھا اور اب اس اضافی چارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان اقدامات سے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔
کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے بڑے کاروباروں پر ٹیکس کی شرح میں مزید کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پچھلے بجٹ میں ہم نے 29 فیصد سے کم کر کے 28 فیصد کیا تھا اور اب اسے مزید کم کر کے 27 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔ تاہم بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔
تعمیراتی شعبے کو فروغ
پاکستان کی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کا پہیہ تیز کرنے میں کنسٹرکشن سے بڑھ کر کوئی شعبہ نہیں ہے ۔ جب کنسٹرکشن کا شعبہ ترقی کرتا ہے تو سیمنٹ، لوہا، شیشہ، پلاسٹک، پینٹس، ہارڈویئر اور چالیس سے زائد صنعتیں فروغ پاتی ہیں۔ ڈویلپرز پر عائد وِدہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے بلڈرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5فیصد سے کم کر کے 1.25فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ اس اقدام سے کنسٹرکشن کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔

برآمدی شعبے کے لیے ریلیف
ڈیجیٹل معیشت پاکستان کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا برآمدی شعبہ ہے ۔ پاکستان کا IT اور IT سے متعلقہ خدمات کا شعبہ اور ہمارے فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈیجیٹل کمپنیاں ہمارا اثاثہ ہیں۔ IT برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد FTR کی رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی تھی۔ وزیر اعظم کی اس شعبے کی ترقی میں دلچسپی اور حکومت کی جانب سے صنعتی اداروں کی سفارش پر اس رعایت کو مزید تین سال کے لیے یعنی 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے ۔ اس اقدام سے ہماری آئی ٹی برآمدات بڑھیں گی اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب ہونے کی ترغیب ملے گی۔64- ایکسپورٹ سیکٹر ہماری معیشت کی خوشحالی کی ضامن اور زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔ اس وقت ایکسپورٹس پر ایڈجسٹ ایبل منیمم ٹیکس کی شرح دو فیصد ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔
کرپٹو کرنسی کے لیے وِدہولڈنگ ٹیکس میں کمی
اس وقت ملک میں کام کرنے والی کرپٹو ایکسچینجز پر ہر ٹرانزیکشن پر 5 فیصد وِدہولڈنگ ٹیکس عائد ہے ۔ اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر رسمی ذرائع کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ اس کی بجائے وِدہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو نصف فیصد (0.5%) کرنے کی تجویز ہے تاکہ اس معاملے کی مالی حالت پر بہتری آئے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو تقویت ملے ۔
کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 1.851 ارب روپے مختص
وفاقی حکومت نے بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے تحت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2026-27 میں تقریباً 1.851 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو ملک بھر میں کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔پی ایس ڈی پی دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر 13 جاری ترقیاتی منصوبے موجودہ سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت 9.508 ارب روپے ہے ۔ 30 جون 2026 تک ان منصوبوں پر 4.356 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 5.151 ارب روپے کی رقم آئندہ مالی سال کے لیے منتقل کی گئی ہے ۔اہم منصوبوں میں پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں ارشد ندیم اور شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کا قیام شامل ہے ، جس کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ 27 جنوری 2025 کو سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہوا تھا اور اس کی کل لاگت 895.087 ملین روپے ہے ۔اسی طرح جنوبی ایشیائی کھیلوں کے لیے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں مختلف سہولیات کی فراہمی کے لیے 134.832 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان سہولیات میں وارم اپ ٹریک، ہیٹ ایکسچینجر، کوچز کے رہائشی فلیٹس، کثیرالمقاصد ہالز، فینسنگ، فائیو اے سائیڈ ہاکی گراؤنڈ، فٹسال گراؤنڈز اور ماسٹر پلاننگ شامل ہیں۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 769.391 ملین روپے ہے ۔ اسکردو میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کوچنگ سینٹر کی تعمیر کے لیے 150 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد، فیصل آباد، واہ کینٹ، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور سوات سمیت سات شہروں میں مصنوعی ہاکی ٹرف کی تبدیلی اور تنصیب کے لیے 120 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں بائیو مکینیکل لیب کے قیام کے لیے 70.488 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔یہ فنڈز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے ، ایلیٹ کھلاڑیوں کے لیے تربیتی سہولیات کو بہتر بنانے اور قومی و صوبائی سطح پر کوچنگ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے ، تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی بہتر میزبانی اور تیاری ممکن بنائی جا سکے ۔
ایس آئی ایف سی کے تحت 12 مختلف شعبوں میں منصوبوں کو وسعت
حکومت نے بجٹ تقریر میں بتایا ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت 12 مختلف شعبوں میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو وسعت دی گئی ہے اور ان اقدامات کے واضح نتائج سامنے آ رہے ہیں۔اسلام آباد میں جاری منصوبوں میں 6 ہزار 860 ایکڑ اراضی پر ایک خصوصی اقتصادی زون کی تشکیل شامل ہے جو ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا۔ اسی طرح ریفائنری پالیسی بھی ایس آئی ایف سی کی ایک اہم کامیابی قرار دی گئی ہے جس کے تحت پاکستان میں ریفائنری اور پیٹرولیم مصنوعات کی اسمبلی ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کی گئی ہے ، جس سے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔مزید بتایا گیا ہے کہ ویئر ہاؤسنگ کے شعبے کو باضابطہ طور پر صنعت کا درجہ دیا گیا ہے جس سے سپلائی چین کی لاگت کم ہوگی اور دیگر صنعتی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بجٹ کو ایک واضح اور بامقصد حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کی بنیادی ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدات کا فروغ ہے ۔ حکومت برآمدی صنعتوں کو ٹیکس مراعات اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے ذریعے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ ایکسپورٹرز بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر مقابلہ کر سکیں۔اس کے ساتھ برآمدات میں اضافے کو زرمبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی، روزگار کے مواقع اور معاشی خوشحالی سے جوڑا گیا ہے ۔ زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔صنعتی شعبے کی ترقی کو روزگار میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے جبکہ بجٹ کی ایک اہم خصوصیت ٹیکس ریونیو میں
اضافہ کو ماضی کے بجائے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے یقینی بنانا بتایا گیا ہے ۔
دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے قومی دفاع کے لیے تین ہزار (3,000) ارب روپے مختص کر دیے ہیں، بجٹ دستاویزات کے مطابق، دفاع کو حکومت کی اہم ترین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے ۔
دیگر اخراجات
بجٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے جس میں سے 8,054 ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے ۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071ارب روپے اور پنشن کے لیے 1,169ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں