ایران کا جوابی حملہ، امریکی ٹینکرتبا ہ، جنگی طیارہ ایف 15 مار گرایا
شیئر کریں
آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ،کویت کے ساحل خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ٹینکر کو نشانہ بنایا ،جہاز میں پانی داخل ہو گیا،حملے ایران کیخلاف جاری فوجی کارروائیوں کا سخت جواب ہیں،پاسدارانِ انقلاب
اسرائیل کے ایران پر نئے حملے، قم اور اصفہان نشانے پر، مرکزی ایئرپورٹبن گوریون دوبارہ کھل گیا، ایتھنز سے آنے والی پہلی پرواز سے بیرون ملک پھنسے اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس لایا گیا، ذرائع
ایران نے امریکا سے اپنے جنگی بحری جہاز کو تباہ کرنے کا بدلہ لیتے ہوئے بھر پور جوابی حملے میں امریکی ٹینکر کو نشانہ بنا دیا ۔ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق دعویٰ کیا گیا کہ ملکی بحریہ کے جنگی دستوں نے آج خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کو خلیج فارس کے شمال میں ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس امریکی ٹینکر میں لگنے والی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ انہیں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے جو خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔تاہم بی بی سی اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کر سکا ہے۔برطانیہ کی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن نے اس سے قبل کہا تھا کہ جمعرات کی صبح کویت کے ساحل کے قریب خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق لنگر انداز ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ انھوں نے جہاز کے بائیں جانب ایک زور دار دھماکا سنا جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی وہاں سے دور جاتی ہوئی نظر آئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی میں کارگو ٹینک سے تیل بہہ رہا ہے جس سے ماحول پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نشانہ بنائے گئے جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے تاہم آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں اور عملہ محفوظ اور خیریت سے ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایران کے جنوب مغربی علاقے میں ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرو اسپیس فورس کے نئے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کی علی الصبح ایک امریکی F-15E Strike Eagle کو نشانہ بنایا۔ایرانی حکام کے مطابق دو نشستوں والا یہ ملٹی رول اسٹرائیک فائٹر طیارہ ایران کی جنوب مغربی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای، سینئر فوجی کمانڈروں اور شہریوں کے قتل کے بعد ایران کے خلاف وسیع فوجی مہم شروع کی تھی۔ایران کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران فوجی اور شہری دونوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جن میں اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں اور خطے کے دیگر ممالک میں موجود اہداف شامل ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا سخت جواب ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے دو اہم شہروں قم اور اصفہان پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ رات قم شہر میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا جو اسرائیل پر حملے کے لیے تیار تھا۔فوجی بیان کے مطابق اصفہان میں بھی ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ممکنہ میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے آغاز کے بعد بند ہونے والا اسرائیل کا مرکزی ہوائی اڈہ بن گوریون پانچ روز بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایتھنز سے آنے والی پہلی پرواز نے تل ابیب کے بن گوریون ایٔرپورٹ پر لینڈ کیا، جس کے ذریعے بیرون ملک پھنسے اسرائیلی شہریوں کو وطن واپس لایا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی حدود کو مرحلہ وار جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کی منظوری دی گئی ہے۔


