میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حیدرآباد میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات دھڑلے سے جاری

حیدرآباد میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات دھڑلے سے جاری

ویب ڈیسک
پیر, ۸ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے لطیف آباد نمبر 4، اجالا گارڈن میں بنگلے کی تعمیر تیز
بلال مسجد کے سامنے رہائشی پلاٹ پر جاری کمرشل تعمیرات پر شہری حلقوں میں بے چینی

لطیف آباد یونٹ نمبر 11میں بلال مسجد کے سامنے ایک رہائشی پلاٹ پر جاری مبینہ کمرشل طرز کی تعمیرات نے شہری حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے میں ایسی تعمیرات نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں بلکہ مستقبل میں ٹریفک، پارکنگ اور دیگر شہری مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔شہریوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ تعمیراتی منصوبے سے وابستہ ٹھیکیدار وہی شخص ہے جو مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے لطیف آباد نمبر 4، اجالا گارڈن میں واقع بنگلے کی تعمیر بھی کر رہا ہے ۔ اس دعوے کے بعد شہری حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ پلاٹ کی حیثیت رہائشی ہے تو پھر کمرشل نوعیت کی تعمیرات کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟ کیا متعلقہ نقشے اور این او سی قانون کے مطابق جاری کیے گئے ؟ اور اگر سب کچھ قواعد کے مطابق ہے تو متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے کے بعد عوامی سطح پر ایک جملہ زبان زد عام بن چکا ہے :’’تم میرا گھر بنوا دو، میں تمہارا گھر بنوا دوں‘‘۔ شہری حلقوں کے مطابق اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ بلدیات سندھ اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر تحقیقات کر کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائیں۔ علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے کر یہ واضح کریں کہ آیا مذکورہ تعمیرات تمام قانونی تقاضے پورے کر رہی ہیں یا نہیں، اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں