عشقِ رسول ۖ کی تجدید
شیئر کریں
محمد آصف
برصغیر کی فکری اور روحانی تاریخ میں اگر کسی جذبے نے مسلمانوں کو متحد رکھا، انہیں مصیبتوں میں سہارا دیا اور زوال کے اندھیروں میں
امید کی شمع روشن کی تو وہ جذبہ عشقِ رسولۖ ہے ۔ عشقِ رسولۖ محض ایک نعرہ یا رسمی عقیدت کا نام نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح، کردار کی بنیاد اور
زندگی کی سمت متعین کرنے والی قوت ہے ۔ جب یہ عشق تازہ اور زندہ ہوتا ہے تو فرد کا باطن روشن ہو جاتا ہے ، معاشرہ مہذب ہو جاتا ہے اور
امت میں وحدت پیدا ہو جاتی ہے ۔ لیکن جب یہی عشق کمزور پڑ جائے تو عبادات میں جان نہیں رہتی، اخلاق میں اثر باقی نہیں رہتا اور
امت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اسی لیے آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت عشقِ رسولۖ کی تجدید ہے ۔
عشقِ رسولۖ دراصل ایمان کی تکمیل ہے ۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ نبی کریم ۖ مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس
قرب کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں آپۖ کی سنت کو معیار بنائے ۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا تعلق اکثر رسمی اور جذباتی سطح
تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہم میلاد کی محفلیں سجاتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں، مگر اپنے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں میں سیرتِ نبویۖ کی
جھلک کم دکھائی دیتی ہے ۔ تجدیدِ عشق کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی محبت کو عمل میں ڈھالیں، اپنے اخلاق کو سنت کے سانچے میں ڈھالیں اور
اپنی ترجیحات کو حضور اکرم ۖ کی تعلیمات کے مطابق ترتیب دیں۔
عشقِ رسولۖ کی سب سے بڑی علامت اطاعت ہے ۔ اگر کوئی شخص محبت کا دعویٰ کرے مگر اطاعت نہ کرے تو اس کی محبت ادھوری ہے ۔
نبی کریم ۖ کی زندگی سچائی، دیانت، عفو و درگزر، عدل و انصاف اور رحم دلی کا حسین نمونہ ہے ۔ آپۖ نے دشمنوں کو معاف کیا، غلاموں کو
عزت دی، عورتوں کو حقوق عطا کیے اور معاشرے کو مساوات کا درس دیا۔ تجدیدِ عشق کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ
بنائیں۔ جب تاجر دیانت دار ہو گا، استاد مخلص ہو گا، حکمران عادل ہو گا اور نوجوان باکردار ہو گا تو یہی عشقِ رسولۖ کی عملی تصویر ہو گی۔
آج کا دور فکری انتشار اور اخلاقی بحران کا دور ہے ۔ مادیت، خود غرضی اور مقابلہ بازی نے انسان کو اندر سے بے چین کر دیا ہے ۔ ایسے
ماحول میں عشقِ رسولۖ دلوں کو سکون اور زندگی کو مقصد دیتا ہے ۔ حضور اکرم ۖ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اصل کامیابی مال و دولت میں
نہیں بلکہ تقویٰ اور خدمتِ خلق میں ہے ۔ جب ایک مسلمان اپنے دل میں یہ یقین پیدا کر لیتا ہے کہ وہ حضور ۖ کا امتی ہے اور اسے اپنے
آقا کی تعلیمات کے مطابق جینا ہے تو اس کی زندگی میں نظم اور وقار آ جاتا ہے ۔ یہی تجدیدِ عشق ہے کہ ہم جدید چیلنجز کے باوجود اپنی روحانی
بنیاد کو مضبوط رکھیں۔
عشقِ رسولۖ کی تجدید کا ایک اہم پہلو سیرت کا شعوری مطالعہ ہے ۔ اکثر ہم سیرت کو محض واقعات کی صورت میں سنتے ہیں مگر اس کے عملی
اسباق پر غور نہیں کرتے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرتِ نبویۖ کو ایک مکمل ضابطئہ حیات کے طور پر سمجھیں۔ حضور ۖ نے مدینہ میں
جو معاشرہ قائم کیا وہ عدل، رواداری اور باہمی احترام کا عملی نمونہ تھا۔ مختلف مذاہب کے لوگ ایک معاہدے کے تحت امن سے رہتے تھے ۔
یہ تعلیم آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ اگر ہم سیرت کے ان
اصولوں کو اپنائیں تو فرقہ واریت اور تعصب کا خاتمہ ممکن ہے ۔
تجدیدِ عشق کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم حضور ۖ کی ناموس اور حرمت کے حوالے سے حساس رہیں، مگر اس حساسیت کو حکمت اور اخلاق
کے ساتھ جوڑیں۔ دنیا میں جب کبھی گستاخانہ واقعات پیش آتے ہیں تو مسلمانوں کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ اس درد کا صحیح اظہار یہی ہے کہ
ہم اپنے کردار کو اس قدر بلند کریں کہ دنیا حضور ۖ کی سیرت کی عظمت کو پہچانے ۔ محض جذباتی ردعمل کے بجائے علمی، اخلاقی اور دعوتی
انداز اپنانا ہی سیرت کے مطابق طریقہ ہے ۔ نبی کریم ۖ نے طائف میں پتھر کھا کر بھی بددعا نہیں دی بلکہ ہدایت کی دعا کی۔ یہی اسوہ
ہمیں سکھاتا ہے کہ محبت میں صبر اور حکمت بھی شامل ہوتی ہے ۔
عشقِ رسولۖ کی تجدید میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہے ۔ آج کا نوجوان اگر سوشل میڈیا، جدید تعلیم اور عالمی نظریات کے ہجوم میں
اپنی شناخت کھو دے تو یہ المیہ ہو گا۔ اسے یہ شعور دینا ضروری ہے کہ اس کی سب سے بڑی پہچان حضور ۖ کی امت سے تعلق ہے ۔ جب
نوجوان سیرت کو اپنا آئیڈیل بنا لے گا تو وہ نہ انتہا پسندی کی طرف جائے گا اور نہ بے راہ روی کی طرف۔ وہ اعتدال، خدمت اور کردار کی راہ
اختیار کرے گا۔ تعلیمی اداروں میں سیرت کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنا اور نوجوانوں کو حضور ۖ کی حیاتِ مبارکہ سے جوڑنا وقت کی اہم
ضرورت ہے ۔ خاندان بھی عشقِ رسولۖ کی تجدید کا مرکز ہو سکتا ہے ۔ اگر گھروں میں سیرت کی بات ہو، بچوں کو حضور ۖ کی سادگی، رحم دلی
اور سچائی کے واقعات سنائے جائیں تو ان کے دلوں میں فطری محبت پیدا ہو گی۔ والدین کا کردار اس حوالے سے بنیادی ہے ۔ جب بچے
دیکھیں گے کہ ان کے والدین نماز، دیانت اور حسنِ اخلاق کا اہتمام کرتے ہیں تو وہ خود بھی اسی راہ پر چلیں گے ۔ یوں عشقِ رسولۖ نسل در نسل
منتقل ہو گا۔
عشقِ رسولۖ کی تجدید کا ایک اور پہلو اجتماعی اصلاح ہے ۔ معاشرے میں ظلم، بدعنوانی اور ناانصافی اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے
اپنے عملی تعلق کو کمزور کر دیا ہے ۔ اگر ہم واقعی اپنے نبی ۖ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان برائیوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ عدل کا قیام،
کمزوروں کی مدد اور حق گوئی اسی محبت کا تقاضا ہے ۔ حضور ۖ نے فرمایا کہ بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمئہ حق کہنا ہے ۔ یہ تعلیم
ہمیں بتاتی ہے کہ عشقِ رسولۖ بزدلی نہیں بلکہ جرأت اور صداقت کا نام ہے ۔
آخر میں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ تجدیدِ عشق کسی ایک دن یا ایک تقریب کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے ۔ یہ دل کی اصلاح، فکر کی تطہیر
اور عمل کی درستگی سے عبارت ہے ۔ جب ہم اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں یہ سوچیں کہ اگر حضور ۖ یہاں ہوتے تو کیا کرتے ، تو یہی حقیقی
تجدید ہے ۔ عشقِ رسولۖ دل کو نور دیتا ہے ، عقل کو رہنمائی دیتا ہے اور عمل کو سمت دیتا ہے ۔ اگر ہم اس عشق کو زندہ رکھیں تو ہماری انفرادی اور
اجتماعی زندگی سنور سکتی ہے ۔
آج امت کو جس اتحاد، سکون اور اخلاقی قوت کی ضرورت ہے وہ عشقِ رسولۖ کی تجدید ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ یہ عشق ہمیں تقسیم سے
نکال کر وحدت کی طرف لے جاتا ہے ، نفرت سے نکال کر محبت کی طرف لے جاتا ہے اور کمزوری سے نکال کر قوت کی طرف لے جاتا ہے ۔
جب تک ہمارے دلوں میں حضور اکرم ۖ کی محبت تازہ اور زندہ رہے گی، ہم کبھی روحانی طور پر شکست خوردہ نہیں ہوں گے ۔ یہی وہ سرمایہ
ہے جو ہمیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کر سکتا ہے ۔
اگر کسی مسلمان سے اس کی روحانی وابستگی، اس کا عشقِ مصطفیٰۖ اور اس کی ایمانی حرارت چھین لی جائے تو وہ محض ایک کمزور اور بے سمت
انسان بن جاتا ہے ۔ استعمار کی سب سے بڑی کوشش یہی رہی کہ مسلمانوں کے دلوں سے سیرتِ نبویۖ کی تاثیر اور روحانی تعلق کو کمزور کر دیا
جائے ، تاکہ وہ مزاحمت کی طاقت سے محروم ہو جائیں۔
٭٭٭


