سب سے مشکل سچ
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
شہرمیں ایک عجیب قانون نافذ ہوا۔اعلان ہوا کہ اب جھوٹ بولنے پرسزا نہیں ملے گی، بلکہ سچ بولنے پرانعام دیا جائے گا۔ پہلے دن لوگ ہنسے ، دوسرے دن مذاق اڑایا گیا، تیسرے دن شہر کے چوک میں ایک میزرکھی گئی جہاں لوگ آتے ، سچ بولتے اورانعام لے کرچلے جاتے ۔ ایک آدمی آیا اوربولا!! میں پچھلے دس سال سے دوستوں کے سامنے خود کو خوش ظاہرکرتا رہا ہوں، حالانکہ میں اندرسے ٹوٹا ہوا ہوں، اسے انعام ملا۔ ایک تاجر آیا اوربولا!! میں ہر سال دیانت داری کی تقریریں کرتا ہوں مگر اپنے ملازمین کو ان کا حق پورا نہیں دیتا، اسے بھی انعام ملا۔ پھر ایک سیاستدان آیا، وہ کافی دیر خاموش کھڑا رہا، مجمع انتظارکرتا رہا،اس کے ماتھے پرپسینہ آگیا،آخراس نے مائیک پکڑ ا،اور بولا!! میں نے عوام سے جتنے وعدے کیے تھے ، انہیں پورا کرنے کا کبھی سوچا ہی نہیں تھا، چوک میں پہلی بارمکمل خاموشی چھا گئی، انعام تو اسے بھی مل گیا، مگراس دن لوگوں نے ایک عجیب بات محسوس کی، سچ بولنے والے کے ہاتھ میں انعام ضرورآتا ہے ، مگراس کے بدلے اسے اپنا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھنا پڑتا ہے ۔ اوراصل چہرہ دکھانا، اکثر لوگوں کے لیے سب سے بڑی سزا ہوتی ہے ۔
ایک شام ایک بیٹا انعام لینے پہنچا، وہ بولا !! میں روز اپنے والد کے قدم چھوتا ہوں، ان کی عزت بھی کرتا ہوں، مگرسچ یہ ہے کہ میں نے کبھی ان کی تنہائی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی،میں ان کی خدمت اس لیے کرتا ہوں کہ لوگ مجھے اچھا بیٹا کہیں، انعام اس کے ہاتھ میں تھا، مگر اس کی نظریں زمین پرجمی ہوئی تھیں۔ اگلے دن ایک باپ آیا، اس نے مائیک سنبھالا اوربولا!! میں اپنے بچوں کو نصیحتیں بہت کرتا ہوں، مگرسچ یہ ہے کہ میں نے ان کے ساتھ وقت بہت کم گزارا،میں نے رزق کمانے کو محبت سے زیادہ اہم سمجھ لیا تھا، اسے بھی انعام مل گیا۔ پھرایک دن ایک شوہر آیا، مجمع خاموش ہوگیا، اس نے کہا!! میں اپنی بیوی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہوں، مگرکئی برسوں سے میں نے اس کی بات دل سے سننے کی زحمت ہی نہیں کی، دور کھڑی اس کی بیوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، وہ انعام تو لے گیا، مگر گھر جاتے ہوئے اس کی چال پہلے جیسی نہ تھی۔
پھر ایک صبح سب سے حیران کن واقعہ پیش آیا، انعام دینے والی میز کے سامنے لمبی قطار لگی تھی، مگرایک شخص ایسا بھی تھا جو بار بار آگے آتا
اور پھر پیچھے ہٹ جاتا، آخرکسی نے پوچھ لیا، تم سچ کیوں نہیں بولتے ؟ وہ دھیرے سے بولا!! میں سچ بولنا چاہتا ہوں، مگرمسئلہ یہ ہے کہ میں
نے ساری عمردوسروں سے اتنا جھوٹ نہیں بولا جتنا خود اپنے آپ سے بولا ہے ، اب مجھے اپنا سچ ہی یاد نہیں، یہ سن کر پورا مجمع خاموش ہوگیا،
کیونکہ پہلی بارلوگوں کو احساس ہوا کہ سب سے مشکل سچ وہ نہیں جو دنیا سے چھپایا جائے ، بلکہ وہ ہے جو انسان اپنے دل کے کسی تاریک
کمرے میں قید کر دیتا ہے ۔ چند ہی دنوں میں شہر بدلنے لگا،بازاروہی تھے ، گلیاں وہی تھیں، لوگ بھی وہی تھے ، مگرگفتگو کا اندازبدل گیا تھا، اب لوگ ایک دوسرے سے ملتے تو مسکراتے کم اور سوچتے زیادہ تھے ،کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ سامنے والا اگر سچ بولنے پرآمادہ ہوگیا تو شاید وہ بات کہہ دے جسے سننے کی ہمت کسی میں نہیں،شہرمیں عجیب کیفیت پیدا ہوگئی، لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ جھوٹ صرف دوسروں کو دھوکہ نہیں دیتا، وہ رشتوں کے اوپر ایک نرم سی چادربھی ڈال دیتا ہے ۔ اورجب وہ چادرہٹتی ہے تو بہت سی حقیقتیں سرد ہوا کی طرح چبھنے لگتی ہیں۔
وقت گزرتا گیا،شہرکے خزانے سے سونے کے سکے کم ہوتے گئے ، مگرلوگوں کے دلوں میں چھپے رازختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ، ہرروز کوئی نہ کوئی آتا اورایسا سچ بول جاتا جس سے کسی گھرکی دیوارہل جاتی، کسی دوستی کی بنیاد لرزجاتی یا کسی شخصیت کا بنا بنایا بت ٹوٹ جاتا، پھروہ دن آیا جب حکومت کے ایوانوں میں ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا، موضوع یہ نہیں تھا کہ خزانہ خالی ہو رہا ہے ، موضوع یہ تھا کہ شہر کی خاموشی ختم ہو رہی ہے ۔
ایک وزیر کھڑا ہوا اوربولا!! ہم نے سمجھا تھا کہ سچ لوگوں کو بہتر بنائے گا، مگر سچ نے تو لوگوں کو بے چین کر دیا ہے ۔
دوسرا بولا!! پہلے لوگ جھوٹ کے سہارے سکون سے رہ لیتے تھے ، اب ہر شخص اپنے اندر جھانک رہا ہے اور پریشان ہے ۔
تیسرا وزیرمسکرایا اور کہنے لگا!! مسئلہ سچ نہیں، مسئلہ آئینہ ہے ۔ ہم نے پورے شہر کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے ۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، کیونکہ سب جانتے تھے کہ وہ درست کہہ رہا ہے ۔ اسی دوران شہر کے مرکزی چوک میں ایک بوڑھا شخص آیا، اس کے ہاتھ میں کوئی درخواست نہیں تھی، نہ وہ انعام لینے آیا تھا، وہ سیدھا میز کے سامنے کھڑا ہوا اوربولا!! میں سچ بولنے نہیں آیا۔ میں ایک سوال پوچھنے آیا ہوں، لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے ، بوڑھے نے پوچھا، اگرسچ بولنے کے بدلے انعام نہ ملے تو کیا تم پھر بھی سچ بولو گے ؟ مجمع پر جیسے بجلی گرگئی، کچھ لوگوں نے نظریں چرا لیں، کچھ خاموش ہوگئے ، کچھ نے پہلی بار اپنے ہاتھوں میں پکڑے سکوں کو غور سے دیکھا۔ بوڑھا پھر بولا!! تم میں سے بہت سے لوگ سچ نہیں بول رہے ، تم صرف انعام کما رہے ہو، سچ وہ ہوتا ہے جو انسان اس وقت بھی بولے جب اس کے بدلے کچھ نہ ملے ، یہ الفاظ تیر کی طرح لوگوں کے دلوں میں اتر گئے ، اس رات پورا شہر بے چین رہا، لوگوں نے پہلی بار خود سے سوال کیا۔ کیا ہم سچ کے عاشق ہیں یا انعام کے ؟ اور یہی سوال اس قانون کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا، کیونکہ جب نیت پر سوال اٹھ جائے تو عمل کی چمک ماند پڑ جاتی ہے ۔
اگلی صبح جب لوگ مرکزی چوک پہنچے تو ایک عجیب منظران کے انتظار میں تھا،وہی میز وہاں موجود تھی، وہی کرسی، وہی مائیک، مگر سونے کے سکوں والا صندوق غائب تھا،اس کے ساتھ ایک مختصر سا نوٹس رکھا تھا۔” آج سے سچ بولنے پر کوئی انعام نہیں دیا جائے گا ”۔شہر میں جیسے ہلچل مچ گئی، کچھ لوگوں نے غصے کا اظہار کیا، کچھ نے حکومت کو کوسا، اورکچھ نے شانے اچکا کرکہا، اب وہاں جانے کا کیا فائدہ؟اسی دن پہلی بارچوک خالی رہا، کوئی سچ بولنے نہیں آیا، دوسرے دن بھی نہیں، تیسرے دن بھی نہیں، یوں لگنے لگا جیسے شہر میں سچ نہیں، صرف انعام ختم ہوا ہے ۔ پھر چوتھے دن ایک شخص آیا۔ وہ مائیک کے سامنے کھڑا ہوا اوربولا، میں یہاں انعام لینے نہیں آیا،میں صرف اپنی بیٹی سے معافی مانگنے آیا ہوں،میں نے ساری عمر اسے یہ احساس دلایا کہ وہ اپنے بھائی سے کم اہم ہے ، وہ یہ کہہ کر نیچے اتر گیا، نہ کسی نے اسے سکہ دیا، نہ کوئی سرکاری اہلکار اس کے پاس آیا، مگر مجمع میں کھڑی ایک نوجوان لڑکی آگے بڑھی اوراپنے باپ کو گلے لگا لیا، اس دن لوگوں نے ایک ایسا انعام دیکھا جو سونے کے کسی سکے سے بڑا تھا۔ اگلے دن ایک اور شخص آیا، پھر ایک عورت، پھر ایک نوجوان۔ آہستہ آہستہ چوک دوبارہ آباد ہونے لگا، مگراب وہاں آنے والوں کی تعداد کم اور وزن زیادہ تھا، کیونکہ اب لوگ سچ بیچنے نہیں آتے تھے ، سچ کا بوجھ اتارنے آتے تھے ۔ اورتب شہر کو پہلی بار سمجھ آیا کہ جھوٹ ہمیشہ زبان سے نہیں بولا جاتا، کبھی کبھی جھوٹ وہ زندگی ہوتی ہے جو ہم دوسروں کو دکھاتے ہیں، اورسچ وہ زندگی جو ہم تنہائی میں جیتے ہیں، کچھ عرصے بعد وہ میز بھی ہٹا دی گئی، مگر اس کے ہٹ جانے سے کچھ نہ بدلا، کیونکہ اصل میز تو اب ہر انسان کے اندر لگ چکی تھی، جہاں وہ روز اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا ہوتا تھا، وہاں نہ کوئی مجمع ہوتا تھا، نہ تالیاں، نہ انعام، صرف ایک سوال ہوتا تھا، آج تم نے اپنے آپ سے کتنا سچ بولا؟ اورشاید دنیا کا سب سے مشکل سچ وہی ہے جس کا سامنا انسان آئینے میں کھڑے ہو کرکرتا ہے ۔
٭٭٭


