میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈگ، غیر قانونی شادی ہال کے خلاف انہدامی کارروائی ختم

سندھ بلڈگ، غیر قانونی شادی ہال کے خلاف انہدامی کارروائی ختم

ویب ڈیسک
اتوار, ۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہال کے خلاف 10فیصد انہدامی کارروائی کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر نے کارروائی رکوادی
ایس بی سی اے تھانے کے ایس ایچ او نے ڈی آئی جی ایسٹ کو باضابطہ خط سے آگاہ کردیا

گلستانِ جوہر میں مبینہ غیر قانونی شادی ہال کے خلاف انہدامی کارروائی کے اچانک روک دیے جانے کی وجوہات سامنے آگئیں ۔ایس بی سی اے تھانے کے ایس ایچ او نے باضابطہ تحریری خط کے ذریعے معاملہ ڈی آئی جی ایسٹ تک پہنچا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صرف 10 فیصد انہدامی کارروائی کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر کے فون کرنے پر کارروائی روک دی گئی اور شادی ہال سربمہر کردیا گیاجو انتہائی قابل اعتراض فعل ہے ۔ جب کوئی پولیس افسر سرکاری سطح پر لکھ دے کہ کارروائی کس کے حکم پر روکی گئی، تو پھر معاملہ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق 23 فروری 2026 کو ایس بی سی اے پولیس اسٹیشن کے اے ایس آئی جاوید چاند اپنی ٹیم کے ہمراہ سرکاری موبائل GS-394میں موقع پر پہنچے ۔ ڈیلی ڈائری نمبر 65میں اندراج کیا گیا، اور پلاٹ نمبر C-1، بلاک 15، اسکیم 36 پر قائم شادی ہال کے خلاف باقاعدہ انہدامی کارروائی شروع ہوئی۔ موقع پر متعلقہ افسران بھی موجود تھے ۔ ذرائع کے مطابق تقریباً دس فیصد مسماری مکمل ہو چکی تھی کہ اچانک ایک فون کال آتی ہے ، اور کارروائی روک دی جاتی ہے ۔ عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے سیل کر دیا جاتا ہے، اس پورے معاملے کو ایس ایچ او کے خط نے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے ۔ ایک پولیس افسر باقاعدہ لکھ کر بتا رہا ہے کہ کس کے حکم پر مسماری رکی، ڈی جی ایس بی سی اے کی اس سلسلے میں خاموشی سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔ ایس ایچ او نے جو خط لکھا، اسے بعض حلقے سسٹم کے خلاف ایک سرکاری گواہی قرار دے رہے ہیں۔ اگر واقعی کسی افسر کے حکم پر جاری انہدامی کارروائی روکی گئی، تو اس کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں