میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پی ایس کیو سی اے میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ڈی جی خالد بابلانی نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں

پی ایس کیو سی اے میں اندھیر نگری چوپٹ راج، ڈی جی خالد بابلانی نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں

ویب ڈیسک
جمعه, ۲ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

اعلیٰ عدلیہ احکامات ہوا میں اڑا دیے ، بھاری رشوت لے کر من پسند کمپنیوں کو غیر قانونی لائسنس جاری کر دیے
خالد بابلانی کو بشمول فیڈرل سیکرٹری کے گریڈ 20 کے ڈپیوٹیشن پر تعینات افسر توفیق عباسی کی سرپرستی حاصل

(رپورٹ: افتخار چوہدری) پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں اندھیر نگری چوپٹ راج، اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کے تحت غیر قانونی تعینات 19ویں گریڈ کے افسر خالد بابلانی ڈی جی پی ایس کیو سی اے کے اختیارات استعمال کرنے لگا- بھاری رشوت لے کر من پسند کمپنیوں کو غیر قانونی لائسنس جاری کر دیے- خالد بابلانی نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں- تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) میں سی ایم (CM) لائسنس کے اجرا کے مقررہ طریقہ کار کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق 19ویں گریڈ کے افسر اور ڈائریکٹر خالد بابلانی نے مبینہ طور پر 21ویں گریڈ کے ڈی جی PSQCA کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مختلف کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے۔ قواعد کے مطابق یونٹ یا فیکٹری کی تصدیق کے بعد فائل جانچ پڑتال کے لیے خرم شہزاد (اسسٹنٹ ڈائریکٹر اِن چارج ہیڈ آفس سی اے لائسنس ڈویژن) کو جمع کرائی جاتی ہے، جہاں سے منظوری کے بعد لائسنس کمیٹی کو ارسال کی جاتی ہے اور تمام اراکین کی توثیق کے بعد حتمی اختیار صرف ڈی جی PSQCA کے پاس ہوتا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر 2025 کے دوران کراچی کی متعدد فائلوں میں ڈی جی کی منظوری کے بغیر ہی خالد بابلانی نے اپنی جانب سے ڈی جی کے دستخط ظاہر کر کے سی ایم لائسنس جاری کیے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق خالد بابلانی نے من پسند کمپنیوں سے 20 سے 25 لاکھ روپے رشوت لے کر لائسنس جاری کیے، جو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اِن چارج ہیڈ آفس سی اے لائسنس ڈویژن خرم شہزاد کے پاس موجود ریکارڈ کی شفاف انکوائری کرائی جائے تو یہ حقائق سامنے آ سکتے ہیں کہ خالد بابلانی نے جعلی دستخط استعمال کرتے ہوئے اختیارات سے تجاوز اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے خالد احمد بابلانی کی بھرتی کو جعلی، غیرقانونی اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا، عدالت نے مقدمہ نمبر 1450؍2017 کا فیصلہ 14 مئی 2025 کو جاری کرتے ہوئے خالد بابلانی کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی حکم کے سات ماہ گزرنے کے باوجود پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے تاحال خالد بابلانی کو عہدے سے برطرف نہیں کیا گیا اور وہ غیر قانونی طور پر اعلیٰ منصب پر براجمان ہیں- محکمہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعینات افسران خالد بابلانی کو بشمول فیڈرل سیکرٹری کے گریڈ 20 کے ڈپیوٹیشن پر تعینات افسر توفیق عباسی کی سرپرستی بھی کی حاصل ہے- نمائندہ جرأت نے سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اور ڈی جی پی ایس کیو سی اے ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا تو انہوں نے فون کال کا جواب نہی دیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں