میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حسینہ واجد کی سزائے موت دنیا کیلئے عبرت ناک سبق ،حافظ نعیم

حسینہ واجد کی سزائے موت دنیا کیلئے عبرت ناک سبق ،حافظ نعیم

ویب ڈیسک
منگل, ۱۸ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

بھارتی پروردہ نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا
عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی،ردعمل کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں آج جو واقعہ پیش آیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا عبرت ناک درس ہے جو روزِ روشن کی طرح واضح ہے، بھارتی پروردہ شیخ حسینہ واجد، نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جس طرح جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا، عدالتی فیصلوں کو انتقام کا ہتھیار بنایا اور فسطائیت پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنائی، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بھارت کی سرپرستی اور اُس کی ہدایات پر قومی مفادات کا سودا کرنے کے باوجود وہ نہ نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں، نہ ہی عوامی لیگی فسطائیت کو دائمی بنا سکیں۔ آج، بالآخر، اُسی کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے حسینہ واجد کے خلاف انتہائی سزا کا فیصلہ سنایا ہے وہی عدالت جس کے ذریعے اُنہوں نے بے شمار محب اسلام اور محب وطن شخصیات کو یک طرفہ مقدموں کے عبرتناک ڈرامے کے بعد پھانسیوں کے تختے پر چڑھایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منظر نامہ اُن تمام جابروں، ظالموں، جھوٹ اور ظلم پر مبنی حکمرانی چلانے والوں، اور عدل و انصاف کا خون کرنے والوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے کہ انجام بالآخر سب کے سامنے آتا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم آج اُن تمام مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے یہ ستم برداشت کیے، اور بنگلا دیش کی ترقی، خوش حالی اور اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے دُعا گو ہیں۔بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت سے باضابطہ طور پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت فوری طور پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ مجرموں کو پناہ دینا بھارت کا غیر دوستانہ اقدام اور انصاف کی بے توقیری ہے۔شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں گزشتہ برس طلبہ کے ملک گیر احتجاج کو طاقت کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 1400 کے قریب افراد جاں بحق جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں