میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قوانین کو سیاسی دباؤکیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے، سہیل آفریدی

قوانین کو سیاسی دباؤکیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے، سہیل آفریدی

ویب ڈیسک
اتوار, ۹ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ،ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس،3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 پر تفصیلی غور و خوض ہوا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، اجلاس میں 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض ہوا۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، احتجاج کے حق اور عوامی سہولت میں توازن کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ احتجاج کے دوران عوام کو تکلیف نہ ہو، بانی چیٔرمین عمران خان کے وژن کے مطابق قوانین کو مزید بہتر کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وزیر قانون آفتاب عالم کی زیر نگرانی چار رکنی کمیٹی مجوزہ قوانین میں اصلاحات کی سفارشات پیش کرے گی، سیاسی وکٹمائزیشن کے امکانات والے نکات قوانین سے نکالے جائیں گے، قوانین کا مقصد صرف عوامی مفاد اور فلاح ہے، ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اجلاس میں وزیر قانون آفتاب عالم، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ہوم اور ایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں