سندھ بلڈنگ، انتظامیہ کی کارروائی میں ملی بھگت، ایک پلاٹ مسمار، دوسرا محفوظ
شیئر کریں
ناظم آباد کے ایک ہی بلاک میںپلاٹ ای 2/6 پر توڑ پھوڑ، پلاٹ ای 9/2 کی عمارت قائم
سید ضیاء پر امتیازی سلوک کے سنگین الزامات ،گلی کی دو فٹ زمین ہڑپنے والا تعمیراتی مجرم محفوظ
(رپورٹ) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ناظم آباد نمبر 1 میں کی گئی انہدامی کارروائی نے انتظامی امتیاز اور ملی بھگت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلاک ای کے پلاٹ نمبر 2/6 پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے عمارت کو جزوی طور پر مسمار کر دیا گیا، جبکہ محض چند قدم کے فاصلے پر واقع پلاٹ نمبر 9/2 پر ہونے والی سنگین تعمیراتی خلاف ورزیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پلاٹ نمبر 9/2 کے مالک نے نہ صرف تعمیراتی حدود سے تجاوز کیا ہے بلکہ دو فٹ چوڑی گلی کی عوامی زمین بھی اپنے مکان میں غیرقانونی طور پر شامل کر لی ہے ، جس سے راستہ تنگ ہو گیا ہے اور مقامی افراد کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر سید ضیاء مالک مکان سے ملی بھگت کے باعث کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔عوام کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبائی سطح پر اعلیٰ حکام اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کریں اور یکساں قانون کے اطلاق کو یقینی بنائیں۔ دونوں واقعات میں واضح تضاد نے عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آیا ادارے کی کارروائیاں قانون کے بجائے مراعات اور طاقت کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ایس بی سی اے کے ترجمان سے اس امتیازی سلوک پر تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ تمام شکایات کی جانچ کے بعد ہی کارروائی ہوتی ہے ۔ تاہم، انہوں نے پلاٹ 9/2 کے معاملے پر فوری طور پر کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔معاملہ کی مزید تحقیقات کے لیے سندھ اینٹی کرپشن ایجنسی سے رجوع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔


