صدر میں اربوں روپے کا غیر قانونی تعمیراتی اسکینڈل
شیئر کریں
پلاٹ نمبر SB-16میر کرم علی تالپور روڈ پراٹلانٹس ٹاؤر کی غیر قانونی تعمیر
ڈائریکٹر راشد ناریجو اور بلڈرز مافیا کی ملی بھگت کے چرچے ہر زبان پر
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر کا مرکزی اور تاریخی تجارتی علاقہ صدر، غیر قانونی تعمیرات کی زد میں آ گیا ہے ۔ میر کرم علی تالپور روڈ پر واقع پلاٹ نمبر SB-16پر "Atlantis Tower” کے نام سے بلند و بالا عمارت کی تعمیر جاری ہے جسے شہر کا نیا تعمیراتی اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین اور بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس کے باوجود ادارے کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اٹلانٹس ٹاؤر کے منصوبے کے پیچھے کروڑوں روپے کی مبینہ رشوت، سیاسی پشت پناہی اور سرکاری افسران کی ملی بھگت شامل ہے ۔ ڈائریکٹر راشد ناریجو پر الزامات ہیں کہ انہوں نے بھاری رقوم کے عوض بلڈرز مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ، جس کے نتیجے میں یہ غیر قانونی منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔مقامی مکینوں کے مطابق متعدد بار شکایات درج کرائی گئیں لیکن الٹا شکایت کنندگان کو دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اٹلانٹس ٹاؤر میں خلافِ ضابطہ اضافی منزلوں اور غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ٹریفک اور شہری سہولیات پر بوجھ ڈال رہی ہیں بلکہ کسی بھی وقت عوام کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ماہرینِ تعمیرات نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ کراچی کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی تعمیرات سے بجلی، پانی، سیوریج اور ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے ۔سروے پر موجود نمائندہ جرأت سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہم کئی بار شکایات کر چکے ہیں، لیکن کوئی عملدرآمد نہ ہوسکا الٹا ہمیں دھمکیاں ملتی ہیں کہ اگر آواز اٹھائی تو انجام بھگتنا پڑے گا۔ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ صدر پہلے ہی ٹریفک اور سہولیات کے بوجھ تلے دب چکا ہے ۔ اب یہ غیر قانونی ٹاور یہاں کاروبار اور رہائش دونوں کے لیے تباہی بن جائے گا۔ایک اور شہری نے سخت الفاظ میں کہایہ سب رشوت کا کھیل ہے ۔ بغیر ڈائریکٹر کی ملی بھگت کے یہ عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی تھی۔ حکام فوری کارروائی کریں ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے ۔شہری و سماجی حلقوں نے اس منصوبے کو کراچی کی تاریخ کا ایک بڑا تعمیراتی اسکینڈل قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ گورنر سندھ، نیب اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر اس منصوبے میں ملوث افسران کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے۔


