میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی پلاٹ کمرشل مراکز میں تبدیل

سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی پلاٹ کمرشل مراکز میں تبدیل

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلاک 2 کے پلاٹ نمبر 117اور 124پر خلافِ ضابطہ تعمیرات ، انتظامیہ کی سرپرستی

ڈائریکٹر سمیع جملانی پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کو رعایت دینے کے الزامات،مکین پریشان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضلع شرقی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ غیر قانونی کمرشل تعمیرات کے خلاف علاقہ مکینوں کا غم و غصہ بڑھنے لگا ہے ۔

مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مختلف مقامات پر تعمیراتی ضابطوں کی مبینہ کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام جاری ہے ، مگر متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کاروائی کے بجائے خاموشی اختیار کی گئی ہے ، جس سے انتظامی کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے علاقے کا رہائشی تشخص متاثر ہو رہا ہے ، جبکہ ٹریفک، پارکنگ، شور شرابا اور دیگر شہری مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔

ان کے مطابق متعدد شکایات کے باوجود مبینہ طور پر نہ تو تعمیراتی کام رکوایا گیا اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی عمل میں لائی گئی۔

علاقہ مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ سرپرستی اور نرمی کے باعث بعض تعمیراتی ٹھیکیدار قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر تعمیراتی قوانین عام شہریوں پر نافذ ہوتے ہیں تو بااثر افراد کو رعایت دینا ادارے کی ساکھ اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے ۔

شہریوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاک 2 کے پلاٹ نمبر M117 اور N124 پر ہونے والی مبینہ خلافِ ضابطہ تعمیرات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اگر کسی بے ضابطگی کی تصدیق ہو تو ذمہ دار افسران اور تعمیراتی عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کاروائی کی جائے اور رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ روکا جائے ۔

مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر بھی غور کریں گے ۔خبر میں شامل الزامات علاقہ مکینوں سے منسوب ہیں۔ متعلقہ انتظامیہ، ڈائریکٹر سمیع جملانی یا دیگر متعلقہ فریقین کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شائع کیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں