کاربن مونو آکسائیڈ کا پارکنسنز سے ممکنہ تعلق، نئی تحقیق سامنے آگئی
شیئر کریں
سگریٹ نوشی کرنے والوں میں پارکنسنز کا خطرہ کم ہونے کے مشاہدے پر تحقیق
ماہرین نے کاربن مونو آکسائیڈ کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں پارکنسنز کے مرض کی شرح نسبتاً کم ہونے کے مشاہدے نے محققین کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب مبذول کرلی ہے،
نئی تحقیق میں سگریٹ کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ اور پارکنسنز کے کم خطرے کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔
چین میں 5 لاکھ سے زائد بالغ افراد پر کی گئی طویل مدتی تحقیق میں کاربن مونو آکسائیڈ کی جسم میں موجودگی اور پارکنسنز کے کم خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
محققین کے مطابق نتائج اس امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ کاربن مونو آکسائیڈ کے بعض حیاتیاتی اثرات اعصابی خلیوں کے تحفظ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پارکنسنز ایک بتدریج بڑھنے والی اعصابی بیماری ہے جس میں ہاتھوں میں رعشہ، پٹھوں میں اکڑاؤ، حرکات میں سست روی اور جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
یہ بیماری دماغ کے ان خلیوں کے متاثر ہونے سے منسلک ہے جو حرکات کو کنٹرول کرنے والے کیمیائی مادے ڈوپامین پیدا کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق سگریٹ نوشی اور پارکنسنز کے درمیان تعلق کی ایک ممکنہ وجہ نکوٹین بھی ہوسکتی ہے، جو دماغ میں بعض مخصوص اعصابی رسپٹرز کو متحرک کرتی ہے۔
تاہم تحقیق میں کاربن مونو آکسائیڈ کے ممکنہ کردار پر بھی توجہ دی گئی ہے۔کاربن مونو آکسائیڈ زیادہ مقدار میں انتہائی زہریلی گیس ہے جو خون میں آکسیجن کی ترسیل متاثر کرکے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
تاہم جسم معمولی مقدار میں یہ مرکب خود بھی پیدا کرتا ہے اور تحقیق میں اس کے بعض حیاتیاتی اثرات، خصوصاً سوزش اور خلیوں پر دباؤ سے متعلق عمل، کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
محققین نے کم مقدار میں کاربن مونو آکسائیڈ کے طبی استعمال سے متعلق جاری کلینیکل تحقیق کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں پارکنسنز کے مریضوں کے لیے اس کے ممکنہ علاجی کردار اور حفاظت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان نتائج کو سگریٹ نوشی کے حق میں دلیل نہیں سمجھا جاسکتا۔ سگریٹ میں کاربن مونو آکسائیڈ کے علاوہ متعدد زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کینسر، دل اور پھیپھڑوں سمیت کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
زیرِ تحقیق ممکنہ علاج کاربن مونو آکسائیڈ کی انتہائی کم اور طبی نگرانی میں دی جانے والی مقدار سے متعلق ہے، سگریٹ نوشی سے نہیں۔


