میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
روزانہ 60 سیکنڈ کی پلینک ورزش بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں مددگار

روزانہ 60 سیکنڈ کی پلینک ورزش بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں مددگار

جرات ڈیسک
هفته, ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مختصر ساکت ورزش خون کی گردش بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں معاون ہوسکتی ہے، ماہرین

پلینک  ورزش  میں جسم ایک مخصوص پوزیشن میں ساکت ، پیٹ، کندھوں، کمر اور کولہوں کے پٹھے متحرک رہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے واک، دوڑ اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ایک مختصر ورزش بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً ایک منٹ تک پلینک کرنے سے وقت کے ساتھ بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پلینک ایسی ورزش ہے جس میں جسم کو ایک مخصوص پوزیشن میں ساکت رکھا جاتا ہے اور اس دوران پیٹ، کندھوں، کمر اور کولہوں کے پٹھے متحرک رہتے ہیں۔

اسے ساکت یا آئسومیٹرک ورزش کہا جاتا ہے، جس میں پٹھوں پر دباؤ پڑتا ہے تاہم جسم میں نمایاں حرکت نہیں ہوتی۔طبی تحقیق کے مطابق آئسومیٹرک ورزشیں بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

ورزش کے دوران پٹھوں میں پیدا ہونے والے تناؤ کے بعد جب وہ معمول کی حالت میں آتے ہیں تو خون کی نالیوں کے نظام پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں باقاعدگی سے ورزش کرنے والوں میں آرام کی حالت کا بلڈ پریشر بہتر ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے افراد پلینک کا آغاز 20 سے 30 سیکنڈ سے کریں اور بتدریج دورانیہ بڑھا کر 60 سیکنڈ تک لے جائیں۔

ورزش کے دوران جسم کو سیدھا رکھنا، پیٹ کے پٹھوں کو متحرک رکھنا اور سانس معمول کے مطابق لیتے رہنا ضروری ہے۔ ماہرین ہفتے میں تین سے چار مرتبہ یہ ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

تاہم ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس ورزش کے دوران خصوصی احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ ورزش کے دوران بلڈ پریشر عارضی طور پر بڑھ سکتا ہے۔

ایسے افراد کو زیادہ دیر تک یا انتہائی سخت انداز میں پلینک کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ماہرین نے ورزش کے دوران سانس روکنے سے گریز کرنے اور ہائی بلڈ پریشر یا دیگر طبی مسائل میں مبتلا افراد کو نئی ورزش شروع کرنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پلینک کو بلڈ پریشر کی دوا یا ڈاکٹر کے تجویز کردہ علاج کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔ مناسب طریقے اور باقاعدگی سے کی جانے والی یہ ورزش صحت مند طرز زندگی کا حصہ بن کر بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں