پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس
شیئر کریں
جماعت اسلامی نے عام آدمی کے مسائل اجاگر کر کے سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ کوئی بھی دیگر سیاسی جماعت عوام کی بات نہیں کرتی۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت پرامن احتجاج میں رکاوٹیں ڈالنے یا روڑے اٹکانے سے گریز کرے۔ عوام کے صبر کو مزید نہ آزمایا جائے۔ حکمرانوں کے لئے بہتر یہی ہے جلد پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرکے عوام کو سہولت دیں۔پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس و دیگر ٹیکسز کا تعلق عالمی یا مقامی مارکیٹ سے نہیں بلکہ حکومتی نا اہلی، شاہ خرچیوں اور معاشی پالیسیوں سے ہے۔ حکومت کو دی گئی تجاویز میں سب سے پہلی تجویز پالیسی ریٹ (شرح سود) کم کرنے کی ہے، ایک فیصد شرح سود کم کرنے سے قومی خزانے کو 594ارب روپے کا فائدہ ہوگا، حکومت نے ایک سال میں 1567ارب روپے بھتہ لیوی وصول کیا ہے۔
نوجوان دراصل صرف ملک نہیں چھوڑتا، وہ ایک ناکام نظام سے فرار اختیار کرتا ہے۔ وہ اس خوف سے نکلتا ہے کہ کہیں اس کی پوری زندگی سفارش، رشوت، سیاسی وابستگی، طبقاتی تقسیم اور نا انصافی کی نذر نہ ہو جائے۔ وہ ایسی جگہ جانا چاہتا ہے جہاں قانون کم از کم اس کے لیے قابلِ پیش گوئی ہو، جہاں محنت کا کچھ صلہ ہو، جہاں ریاست شہری سے صرف ٹیکس لینے کے بجائے اسے سہولت بھی دے۔ لیکن یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔مغرب نے ہمارے نوجوانوں کو صرف اپنی معیشت کے لیے نہیں کھینچا، ہمارے حکمرانوں نے بھی انہیں دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب ملک میں لاکھوں نوجوانوں کے لیے مناسب روزگار پیدا نہیں کیا جاتا، تعلیمی نظام کو معیار کے مطابق نہیں بنایا جاتا، صنعت اور کاروبار کے لیے آسان ماحول نہیں دیا جاتا، بجلی، گیس، امن اور قانون کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، تو پھر بیرونِ ملک جانے والے نوجوان کو محض ‘‘غیر محب وطن’’ قرار دینا انتہائی آسان مگر انتہائی غیر منصفانہ رویہ ہے۔ محب وطن وہ نہیں جو صرف نعرہ لگائے۔ محب وطن وہ ریاست بھی ہونی چاہیے جو اپنے شہری کو یہ یقین دے کہ اس کا مستقبل اسی ملک میں محفوظ ہے۔ اگر کسی ملک کے بہترین طالب علم، ہنرمند انجینئر، ڈاکٹر، آئی ٹی ماہر، کاروباری نوجوان اور قابل مزدور مسلسل بیرونِ ملک جانے کو کامیابی سمجھنے لگیں تو حکمرانوں کو نوجوانوں پر الزام لگانے کے بجائے اپنی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہیے۔ اور یہاں ‘‘مکہ و مدینہ زیادہ قریب تھے’’ جیسے جملے بھی ہمیں ایک بنیادی سوال سے نہیں بچا سکتے۔
ہم آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن فارم47 والی حکمران جماعتیں قوم کو لڑوانے کی کوشش نہ کریں اور تعصب کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں۔آئی پی پیز ایک پورا مافیا اور کارٹیل ہے، حالیہ خبروں کے مطابق انرجی کی کاسٹ کم ہے اور کیپسٹی پیمنٹ زیادہ ہے، گویا آئی پی پیز کو بغیر بجلی بنائے00 17،1800 ارب روپے دیے گئے ہیں، مڈل کلاس طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،ملک میں 90فیصد سے زائد لوگوں کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی ہے۔
میر رضا علی کیس سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں پولیس کا نظام کتنا گلا سڑا اور فرسودہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران سود سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے صفر شرح سود پر اپنی معیشت چلائی ہوئی ہے، ہماری تجویز ہے کہ اس کو بتدریج کم کیا جائے لیکن حکومت کہتی ہے کہ ہمارے یہاں اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے، صورتحال یہ ہے کہ صرف ایک فیصدشرح سود کے کم ہونے سے قومی خزانے کو 594ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔محترم حافظ نعیم الرحمن ، امیر جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی، آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس کراچی پر جاری دھرنے کے 24ویں روز عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف عوامی جدو جہد، احتجاج اور ملک بھر میں دھرنے جاری رہیں گے۔ عوام کو لے کر ڈی چوک اسلام آباد بھی جائیں گے۔
ہماری تجاویز ہوائی باتیں نہیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ اگر حکومت نے تجاویز اور مطالبات مان لیے تو ان پر عمل درآمد تک دھرنے جاری رکھیں گے۔حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 روپے فی لیٹر پیٹرول میں اضافہ کیا ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی دھرنوں، ہڑتالوں سے تھکنے والی نہیں بلکہ جدو جہد مزید تیز ہوگی۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے عمران خان کی حکومت گرائی تھی۔ موجودہ حکومت میں بھی یہ تینوں شامل ہیں لیکن ان تینوں جماعتوں نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں کی۔ جماعت اسلامی نے عوامی پارلیمنٹ لگا لی ہے۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے وفود کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے معاملے پر مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا جس میں جماعت اسلامی نے حکومتی کمیٹی کو لیوی ختم کرنے کے لیے چھ اہم تجاویز پیش کر دی ہیں۔ جماعت اسلامی کے وفد قائد نائب امیرجناب لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی ٹیم کے سامنے ہم نے اپنی چھ تجاویز رکھ دی ہیں اور حکومت کو بتا دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی سے معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے، جو اس وقت پٹرول اور ڈیزل پر براہ راست 80 روپے ہے۔ بنیادی مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے۔ اس لیے حکمران اپنے اخراجات میں کمی کریں، انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ سابقہ آئی پی پیز احتجاج اور بلوچستان لانگ مارچ کے دوران مذاکرات میں طے شدہ وعدوں پر عمل نہیں ہوا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجود حکومت نے لیوی بھتہ کی مد میں اب تک چار ہزار ارب کا ڈاکہ غریب اور عام آدمی جیب پر ڈالا ہے۔ حکمران اپنی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں۔ وسائل پر جاگیرداروں، وڈیروں اور خاندانوں پر مشتمل سیاسی پارٹیاں قابض ہیں جنہیں مقتدرہ نے قوم پر مسلط کیا ہے۔ حکمران دھرنوں سے تنگ ہیں اور کہا جاتا ہے کہ راستے کھول دیں، انہوں نے خود عوام کے سارے راستے بند کر دیئے ہیں۔
٭٭٭


