میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مخا سے مکہ تک۔۔۔۔۔یمن کا بحران کہاں جا رہا ہے؟

مخا سے مکہ تک۔۔۔۔۔یمن کا بحران کہاں جا رہا ہے؟

جرات ڈیسک
هفته, ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

٭کیا مخا پر قبضہ یمن کی جنگ میں محض ایک فوجی کامیابی ہے ، یا یہ ایران، سعودی عرب اور عالمی بحری تجارت کے درمیان ایک بڑے تصادم کے نئے مرحلے کا آغاز ہے ؟

٭حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے زیدی شیعہ علاقے صعدہ میں ہیں۔ ابتدا میں یہ ایک مذہبی و سیاسی تحریک تھی جو یمنی حکومت کی
پالیسیوں، بدعنوانی اور بیرونی اثرات کے خلاف احتجاج کرتی تھی

٭2015میں سعودی عرب نے حوثیوں کو یمنی دارالحکومت سے پیچھے دھکیلنے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنے کے لیے فوجی مداخلت کی۔ لیکن تقریباً ایک دہائی بعد بھی حوثی ختم نہیں ہوئے

٭اصل سوال یہ ہے کہ ایران حوثیوں کو کس حد تک اپنے علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے ، اور حوثی ایران کے مفادات کو اپنے مفادات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ سمجھتے ہیں؟

٭ مخا باب المندب سے تقریباً 60کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس پر قبضے سے حوثیوں کو یمن کے بحیرۂ احمر کے تقریباً پورے ساحل پر اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل گیا ہے

٭ریاض نے 2022 کی جنگ بندی کے بعد یمن میں براہِ راست جنگ سے نکلنے اور حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل کی کوشش کی تھی۔ اس عرصے میں نسبتاً طویل خاموشی بھی رہی

٭تہران نے پاکستان کو جواب دیا ہے کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔لیکن ذرائع کہتے ہیں کہ تہران نے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ترغیب دی اور مزید اسلحے و معاونت کی پیش کش کی

٭مخا پر حوثیوں کا قبضہ اس لیے اہم ہے کہ اس نے ایک ایسی لکیر عبور کر دی ہے جس کے بعد یمن کی جنگ کا اثر صرف یمنی سرحدوں کے اندر محدود رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔مخا کی لڑائی باب المندب تک پہنچ چکی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمن میں جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے، لیکن اس مرتبہ معاملہ صرف یمن کی خانہ جنگی، حوثیوں اور سعودی عرب کے پرانے تنازع تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ مخا بندرگاہ پر حوثیوں کا قبضہ، باب المندب کی طرف ان کی پیش قدمی، سعودی عرب کے شہروں اور توانائی کے مراکز پر میزائل و ڈرون حملے، ایران کا مبینہ بڑھتا ہوا کردار اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے نئے دفاعی بندھن نے اس بحران کو ایک ایسے مرحلے میں پہنچا دیا ہے جہاں اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

10 ؍ستمبر کو حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مخا پر قبضہ کر لیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس پیش رفت نے حوثیوں کو باب المندب پر مزید اثر و رسوخ دے دیا ہے ، جبکہ رائٹرز نے متعدد یمنی، ایرانی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی اسلحے اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رہنمائی نے حوثیوں کی اس کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ تہران، تاہم، حوثیوں کو براہِ راست کنٹرول کرنے کی تردید کرتا ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ بحران کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے ۔کیا مخا پر قبضہ یمن کی جنگ میں محض ایک فوجی کامیابی ہے ، یا یہ ایران، سعودی عرب اور عالمی بحری تجارت کے درمیان ایک بڑے تصادم کے نئے مرحلے کا آغاز ہے ؟

  • 10 ؍ستمبر کو حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مخا پر قبضہ کر لیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس پیش رفت نے حوثیوں کو باب المندب پر مزید اثر و رسوخ دے دیا ہے ، جبکہ رائٹرز نے متعدد یمنی، ایرانی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی اسلحے اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رہنمائی نے حوثیوں کی اس کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ تہران، تاہم، حوثیوں کو براہِ راست کنٹرول کرنے کی تردید کرتا ہے ۔

حوثی کون ہیں اور اتنے اہم کیوں ہو گئے ؟
حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے زیدی شیعہ علاقے صعدہ میں ہیں۔ ابتدا میں یہ ایک مذہبی و سیاسی تحریک تھی جو یمنی حکومت کی
پالیسیوں، بدعنوانی اور بیرونی اثرات کے خلاف احتجاج کرتی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ تحریک ایک مسلح سیاسی قوت میں تبدیل ہوئی اور 2014 میں صنعاء پر قبضے کے بعد یمن کی سب سے طاقتور عسکری قوت بن گئی۔2015میں سعودی عرب نے حوثیوں کو یمنی دارالحکومت سے پیچھے دھکیلنے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنے کے لیے فوجی مداخلت کی۔ لیکن تقریباً ایک دہائی بعد بھی حوثی ختم نہیں ہوئے ۔ بلکہ انہوں نے شمالی اور مغربی یمن کے بڑے حصے پر اپنا اثر برقرار رکھا اور جدید میزائل اور ڈرون صلاحیتیں حاصل کر کے سعودی عرب اور خطے کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج بن گئے ۔حوثیوں کو ایران کے علاقائی نیٹ ورک کا حصہ سمجھنے کی مضبوط وجوہ موجود ہیں، لیکن انہیں صرف ایک ایسے گروہ کے طور پر پیش کرنا جو تہران کے ہر حکم پر عمل کرتا ہے ، شاید حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دے ۔یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ایران حوثیوں کو مدد اور اسٹریٹجک گنجائش فراہم کر سکتا ہے ، مگر حوثیوں کے اپنے مقامی سیاسی اور عسکری مفادات بھی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں رائٹرز کی رپورٹ ایرانی اسلحے اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مشاورت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ حوثی ‘‘ایرانی ہیں یا نہیں’’۔اصل سوال یہ ہے :ایران حوثیوں کو کس حد تک اپنے علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے ، اور حوثی ایران کے مفادات کو اپنے مفادات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ سمجھتے ہیں؟

ایران کے لیے یمن اتنا اہم کیوں ہے ؟
اس سوال کا جواب یمن کے پہاڑوں میں کم اور اس کے ساحل پر زیادہ چھپا ہوا ہے ۔ایران کے پاس خلیج میں آبنائے ہرمز ہے ، جبکہ حوثیوں کے پاس یمن کا طویل بحیرۂ احمر کا ساحل ہے ۔ باب المندب بحر احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کا اہم راستہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یمن ایران کے لیے صرف ایک اتحادی حکومت یا پراکسی رکھنے کا میدان نہیں بلکہ بحری جغرافیے پر اثرانداز ہونے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔مخا پر قبضے نے اس پہلو کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔الجزیرہ کے مطابق مخا باب المندب سے تقریباً 60کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس پر قبضے سے حوثیوں کو یمن کے بحیرۂ احمر کے تقریباً پورے ساحل پر اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل گیا ہے ۔ دفاعی تجزیہ کار وولف گانگ پستائی نے تو یہاں تک کہا کہ باب المندب ہرمز سے کہیں تنگ ہے ، اس لیے ساحلی توپ خانے کے ذریعے بھی وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے ۔حوثیوں کے لیے یمن اب صرف ایک ملک نہیں، ایک بحری اثر پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے ۔

مخا:ایک بندرگاہ یا نیا اسٹریٹجک ٹرننگ پوائنٹ
مخا کی اہمیت اس کی بندرگاہ سے کہیں زیادہ اس کے محلِ وقوع میں ہے ۔یہ شہر باب المندب کے قریب ہے ، اور باب المندب وہ راستہ ہے جس کے ذریعے خلیج سے آنے والا تیل اور دیگر سامان بحیرۂ احمر اور پھر سوئز کینال کے ذریعے یورپ تک پہنچتا ہے ۔اے پی کے مطابق باب المندب سے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد گزرتا ہے ۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب پہلے ہی ہرمز سے بچنے کے لیے بحیرۂ احمر پر واقع ینبع سے تیل کی برآمد بڑھا چکا ہے ۔اس لیے مخا پر حوثیوں کا قبضہ سعودی عرب کے لیے خاص طور پر حساس ہے ۔اگر حوثی باب المندب کے اطراف میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرتے ہیں تو سعودی عرب کے پاس صرف یمن کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ اسے اپنی بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کے تحفظ کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مخا پر قبضے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے ۔مخا کی لڑائی اب صرف یمن کے اندر کی لڑائی نہیں رہی۔

ہرمز اور باب المندب:کیا دو سمندری دروازے ایک ساتھ دباؤ میں آ سکتے ہیں؟
یہ موجودہ بحران کا شاید سب سے خطرناک سوال ہے ۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے ۔ باب المندب دوسری طرف خلیج اور ایشیا سے آنے والی تجارت کو بحیرۂ احمر اور سوئز کے ذریعے یورپ سے جوڑتا ہے ۔ہرمز میں رکاوٹ کے باعث سعودی عرب نے بحیرۂ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے پر زیادہ انحصار کیا ہے ۔ اب اگر اسی راستے پر بھی حوثی دباؤ بڑھتا ہے تو سعودی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ رائٹرز نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول سعودی تیل کی ایشیا تک ترسیل کو مزید متاثر کر سکتا ہے ۔فنانشل ٹائمز نے بھی مخا پر قبضے کو ہرمز کے بحران کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسے سعودی عرب کے لیے بڑا دھچکا اور عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اضافی خطرہ قرار دیا ہے ۔یوں پہلی بار ایک ایسا منظرنامہ سامنے آ رہا ہے جس میں ہرمز میں ایران کا دباؤ دراصل باب المندب میں حوثیوں کے دباؤکے ساتھ مل کرعالمی توانائی کی ترسیل پر دوہرا دباؤ پیدا کر رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ دونوں محاذ ایک ہی کمان کے تحت چل رہے ہوں۔ لیکن اگر دونوں ایک ہی وقت میں فعال رہیں تو عالمی منڈی پر ان کا مجموعی اثر بہت بڑا ہو سکتا ہے ۔

سعودی عرب کے سامنے مشکل انتخاب
سعودی عرب کے لیے سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے یا نہ کرے ۔اصل سوال یہ ہے :وہ کتنی کارروائی کرے ؟ریاض نے 2022 کی جنگ بندی کے بعد یمن میں براہِ راست جنگ سے نکلنے اور حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل کی کوشش کی تھی۔ اس عرصے میں نسبتاً طویل خاموشی بھی رہی۔لیکن اب حوثی سعودی شہروں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ان کی فوجی پیش قدمی بحیرۂ احمر تک پہنچ چکی ہے ۔سعودی عرب اگر خاموش رہتا ہے تو حوثی مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔اگر وہ بڑے پیمانے پر کارروائی کرتا ہے تو یمن کی وہی طویل جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جس سے نکلنے میں ریاض نے برسوں صرف کیے ۔ رائٹرز کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے حوثیوں کے خلاف فضائی مدد طلب کی ہے ، لیکن ریاض اب تک مکمل جنگ میں دوبارہ کودنے سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے ۔یہ سعودی پالیسی کا بنیادی تضاد ہے ،حوثیوں کو روکنا بھی ضروری ہے ، لیکن انہیں روکنے کے لیے یمن کی جنگ میں دوبارہ پھنسنا بھی خطرناک ہے ۔

اور پھر مکہ دفاعی معاہدہ سامنے آتا ہے
یہاں موجودہ بحران اچانک پاکستان اور ترکی کو بھی اس کہانی کے اندر لے آتا ہے ۔7؍اگست 2026کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ‘‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’’کیا، جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے ۔31؍اگست کو تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان نے استنبول میں معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اس تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے ، مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے اور ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔یعنی یہ محض ایک سیاسی اعلامیہ نہیں رہا؛ اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی تشکیل پانا شروع ہو چکا ہے ۔پھر حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے شروع کیے ۔9؍ستمبر کو پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اگر یمن کا تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے تو مکہ دفاعی معاہدہ عملی طور پر فعال ہو سکتا ہے ۔یہ بیان اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔کیونکہ پہلی مرتبہ اس معاہدے کو کسی حقیقی علاقائی جنگ کے تناظر میں ‘‘عملی آزمائش’’کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

لیکن اگلے ہی دن پاکستان کا لہجہ بدل گیا
10؍ستمبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ حوثی حملوں کے جواب میں مکہ معاہدے کے تحت فی الحال کسی فوجی ردعمل پر بات نہیں ہو رہی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے لیے پرعزم ہے اور ‘‘وقت آنے پر’’ اس کے تحت کارروائی کرے گا، لیکن فوری فوجی اقدام زیرِ غور نہیں۔یہ بظاہر دو مختلف بیانات ہیں، مگر شاید دراصل پاکستان کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیر دفاع نے ‘‘ممکنہ فعالیت’’ کی بات کی۔دفتر خارجہ نے فوری عسکری ردعمل سے گریزکی بات کی۔اس فرق کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ۔یہ بتاتا ہے کہ اسلام آباد خود بھی اس سوال پر غور کر رہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ‘‘ایک پر حملہ، سب پر حملہ’’کی عملی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے ۔

پاکستان کے لیے اصل مشکل حوثی نہیں، ایران ہے
پاکستان کے لیے سعودی عرب کا دفاع کرنا ایک بات ہے ۔لیکن اگر اس دفاع کا نتیجہ ایران کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ عسکری تصادم بن جائے تو معاملہ بالکل مختلف ہو جائے گا۔پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے اور ماضی میں اسلام آباد نے یمن کی جنگ میں براہِ راست فوجی شرکت سے گریز کیا تھا۔ 2015میں پاکستانی پارلیمان نے سعودی قیادت میں یمن کی جنگ میں فوج بھیجنے کے بجائے غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔آج صورتحال مختلف ہے ۔اب پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک باضابطہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا فریق ہے ۔لہٰذا اگر حوثی حملے جاری رہتے ہیں تو اسلام آباد کو ایک مشکل توازن قائم کرنا ہوگا:سعودی عرب کی دفاعی ذمہ داری بھی پوری ہو، اور ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی بھی نہ ہو۔یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے آنے والے دنوں کا ایک بڑا امتحان ہو سکتا ہے ۔

مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کیوں نہیں آ رہے؟احتیاط ، جنگی حکمت عملی یا کچھ اور!

ترکی بھی اس کہانی کا اہم کردار ہے
مکہ معاہدے کا تیسرا ستون ترکی ہے ۔یہ معاہدہ محض تین ملکوں کی باہمی سیاسی قربت نہیں بلکہ دفاعی تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور collective deterrence کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش بھی ہے ۔ 31؍اگست کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ملکوں نے دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور اپنی افواج کے باہمی ربط کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔اس لیے یمن کا بحران اگر مزید پھیلتا ہے تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کیا کرتا ہے ۔سوال یہ بھی ہوگا،کیا ترکی بھی سعودی دفاع کے معاملے میں عملی کردار ادا کرنے پر مجبور ہوگا؟تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدہ لازماً یمن میں مشترکہ فوجی مداخلت کا باعث بنے گا۔پاکستانی دفتر خارجہ نے خود اس معاہدے کو بنیادی طور پر‘‘دفاعی اورڈیٹرنس بیسڈ ارینجمنٹ’’ ( deterrence-based arrangement) قرار دیا ہے ۔

کیا ایران حوثیوں کو روک سکتا ہے؟
یہ سوال بحران کے حل کی کنجی بھی ہو سکتا ہے اور اس کی پیچیدگی بھی۔پاکستان نے ایران سے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے کے لیے کہا ہے ۔ رائٹرز کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔لیکن اسی رپورٹ میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران نے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ترغیب دی اور مزید اسلحے و معاونت کی پیش کش کی۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ایران اور حوثیوں کا تعلق ‘‘مالک اور مہرے ’’کا نہیں بلکہ ‘‘اثر، مفاد اور باہمی ضرورت’’کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اگر چاہے بھی تو شاید حوثیوں کے ہر فیصلے کو روکنے کی مکمل صلاحیت نہ رکھتا ہو۔اور اگر وہ جان بوجھ کر انہیں ایک حد تک آزادی دے رہا ہے تو پھر باب المندب کا بحران تہران کے لیے ایک اضافی اسٹریٹجک کارڈبن سکتا ہے ۔

  • ایران کے پاس خلیج میں آبنائے ہرمز ہے ، جبکہ حوثیوں کے پاس یمن کا طویل بحیرۂ احمر کا ساحل ہے ۔ باب المندب بحر احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کا اہم راستہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یمن ایران کے لیے صرف ایک اتحادی حکومت یا پراکسی رکھنے کا میدان نہیں بلکہ بحری جغرافیے پر اثرانداز ہونے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔مخا پر قبضے نے اس پہلو کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔

حوثیوں کے اپنے مفادات بھی ہیں
یہ بات بھی اہم ہے کہ حوثیوں کو صرف ایران کے مفادات کا نمائندہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔حوثیوں کے لیے مخا، بحیرۂ احمر اور باب المندب خود بھی طاقت کے مراکز ہیں۔جس قوت کے پاس زیادہ ساحلی علاقہ ہوگا، وہ مستقبل کے کسی سیاسی مذاکرات میں زیادہ گنجائش و اثر رکھے گی۔مخا پر قبضہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے حوثیوں کو ایک نیاترپ کاپتہ(bargaining chip)فراہم کیا ہے ۔چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا:ایران حوثیوں کو استعمال کرتا ہے ، مگر حوثی بھی ایران کو استعمال کرتے ہیں۔دونوں کے مفادات ہر معاملے میں ایک جیسے ہونا ضروری نہیں، لیکن موجودہ بحران میں ان کے اسٹریٹجک مفادات ایک دوسرے سے خاصی حد تک ملتے ہیں۔

حوثیوں کے مخالف کیمپ کی کمزوری
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو صرف ان کی فوجی طاقت سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ان کے مخالف یمنی کیمپ میں بھی گہری تقسیم موجود ہے ۔ سعودی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ مختلف مسلح دھڑے ہیں جن کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔رائٹرز کے مطابق موجودہ لڑائی میں حوثی مغربی ساحل کی طرف بڑھتے ہوئے طارق صالح کی نیشنل ریزسٹنس فورسز(National Resistance Forces)سمیت حکومت کے حامی دھڑوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کا مقصد مخا اور تعز کے درمیان راستوں اور بلند علاقوں پر قبضہ کر کے حکومت کے حامیوں کی رسد اور باہمی رابطے کو توڑنا بھی ہے ۔یعنی حوثیوں کی کامیابی صرف ان کی طاقت کا نتیجہ نہیں؛ مخالف صف کی کمزوری اور تقسیم بھی اس کا حصہ ہے ۔

نائن الیون: سرکاری بیانیہ، متبادل سوالات اوربعد میں بننے والی جنگ کی دنیا

کیا یہ یمن کی جنگ ہے یا ایران-امریکا جنگ کا دوسرا محاذ؟
یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے ۔حوثیوں نے پہلے بھی بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنایا اور اسے فلسطین اور غزہ کے معاملے سے جوڑا تھا۔ موجودہ صورتحال میں ان کے حملے ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر جنگ کے تناظر میں دوبارہ تیز ہوئے ہیں۔رائٹرز نے موجودہ یمنی لڑائی کو صاف الفاظ میں ایران تنازع کا دوسرا تھیٹرقرار دیا ہے ۔گارڈین کے مطابق مخا کی فتح حوثیوں کو باب المندب کے قریب لے آتی ہے اور یہ ایران کے لیے ایک ایسے وقت میں اضافی گنجائش پیدا کرتی ہے جب ہرمز بھی شدید کشیدگی کا شکار ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ حوثی ایران کے حکم پر جنگ لڑ رہے ہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں ایران کے علاقائی دباؤ کو ایک اضافی جغرافیائی سمت دے رہی ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ: غلط اندازہ
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں سب سے خطرناک چیز شاید کوئی ایک فریق نہیں، بلکہ غلط اندازہ ہے ۔حوثی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سعودی عرب بڑی جنگ نہیں چاہتا۔سعودی عرب یہ سمجھ سکتا ہے کہ محدود کارروائی حوثیوں کو روک دے گی۔ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ حوثی اس کی براہِ راست جنگ نہیں لڑ رہے ۔پاکستان یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکہ معاہدہ ابھی فعال نہیں ہوگا۔اور کسی ایک فریق کا ایسا حملہ ہو سکتا ہے جو دوسرے فریق کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دے کہ اب مزید برداشت ممکن نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں محدود تنازع علاقائی جنگ بن سکتا ہے ۔

مخا سے مکہ تک
آج یمن کے نقشے پر ایک عجیب سی لکیر بنتی دکھائی دیتی ہے ۔صعدہ ، صنعاء، مخا، باب المندب ، سعودی عرب، مکہ دفاعی معاہدہ۔یہ صرف جغرافیہ نہیں،یہ بحران کے پھیلتے ہوئے دائرے کی تصویر ہے ۔مخا پر قبضے نے حوثیوں کو باب المندب کے قریب پہنچا دیا ہے ۔باب المندب پر دباؤ سعودی عرب کے لیے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ ہرمز کے بحران کے بعد بحیرۂ احمر اس کی توانائی کی برآمدات کے لیے زیادہ اہم ہو گیا ہے ۔سعودی عرب پر حوثی حملوں نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے کو بھی اچانک ایک حقیقی امتحان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔اور اگر ایران ہرمز کے ذریعے اور حوثی باب المندب کے ذریعے ایک ہی وقت میں عالمی بحری تجارت پر دباؤ برقرار رکھتے ہیں تو مسئلہ صرف سعودی عرب یا ایران کا نہیں رہے گا۔یہ عالمی تیل، جہاز رانی، سوئز کینال اور ایشیا سے یورپ تک سپلائی چین کا مسئلہ بن جائے گا۔

اصل سوال اب کیا ہے؟
اس بحران کا اگلا مرحلہ چند بنیادی سوالات طے کرے گا:
٭کیا حوثی مخا سے آگے بڑھ کر باب المندب کے مکمل کنٹرول کی کوشش کریں گے ؟
٭کیا سعودی عرب انہیں روکنے کے لیے دوبارہ بڑے پیمانے پر یمن کی جنگ میں داخل ہوگا؟
٭کیا سعودی سرزمین پر مزید حملے مکہ دفاعی معاہدے کو محض deterrenceسے عملی دفاعی اتحاد میں تبدیل کر دیں گے ؟
٭اگر ایسا ہوا تو پاکستان اور ترکی کا کردار کیا ہوگا؟
٭اور سب سے بڑھ کر،کیا ہرمز اور باب المندب بیک وقت عالمی توانائی کی ترسیل کے دو دباؤ کے مراکز بن سکتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات آنے والے دنوں میں صرف یمن کا مستقبل نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے نئے طاقت کے توازن کا تعین کر سکتے ہیں۔مخا پر حوثیوں کا قبضہ اس لیے اہم ہے کہ اس نے ایک ایسی لکیر عبور کر دی ہے جس کے بعد یمن کی جنگ کا اثر صرف یمنی سرحدوں کے اندر محدود رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔مخا کی لڑائی باب المندب تک پہنچ چکی ہے ،باب المندب کا بحران سعودی عرب تک پہنچ چکا ہے ، اور سعودی عرب پر حملے مکہ دفاعی معاہدے کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ دروازہ کھلتا ہے یا بند رہتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں