میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کیا یہ کفایت شعاری ہے؟

کیا یہ کفایت شعاری ہے؟

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۸ مارچ ۲۰۲۴

شیئر کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کفایت شعاری پر سب سے زیادہ زور دیاہے اور زور دے کر یہ کہتے رہے ہیں کہ سرکاری خزانے کا ایک روپیہ بھی ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے ملک میں سرکاری اخراجات میں کمی کرنے اور کفایت شعاری کے سلسلے میں تجاویزبھی طلب کی ہیں،اس وقت جبکہ ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے وزیراعظم کی جانب سے کفایت شعاری کی تلقین کا یقینی طورپر خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم کفایت شعاری کی تلقین کے ساتھ ہی اپنے اور اپنے وزرا کے ساتھ تمام سرکاری افسران کا پروٹول ختم کرنے اور پروٹوکول میں استعمال ہونے والی سیکڑوں گاڑیوں کو واپس کرنے کی ہدایت دیتے،لیکن نہ صرف یہ کہ وزیراعظم نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ ان کی چہیتی بھتیجی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم صفدر کی بلٹ پروف کار کے ٹائر کی خریداری کے لیے پونے3 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری ان کی کفایت شعاری کی تلقین کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہیں ہے۔ ہوسکتاہے کہ آئین پاکستان کی رو سے کسی صوبے کی وزیر اعلیٰ کواس خرچ کی اجازت ہو لیکن جس ملک کے عوام کی بھاری اکثریت2 وقت کی روٹی کا انتظام بمشکل کرسکتی ہو اس ملک کے کسی صوبے کی وزیراعلیٰ کی کار کی تبدیلی کیلئے پونے 3 کروڑ روپے کا خرچ کسی طور بھی مناسب قرار نہیں دیاجاسکتا،ہمارے ملک کے سیاستدانوں کا عمومی چلن یہی رہاہے کہ جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو وہ سرکار کے شاہانہ اخراجات پر بڑا شور مچاتے ہیں ہے، لیکن جب وہ خود برسراقتدار آتے ہیں تو اپنے سابقہ دعووں کو بھول جاتے ہیں اور ملک کے مہنگے ترین اسکولوں میں زیر تعلیم اپنے بچوں کی فیس معاف کرانے سمیت ہر طرح کی مراعات لینے کو اپنا حق گردانتے ہیں اور ان کو یہ مراعات دینے کیلئے گورنر کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری کرنے میں بھی دیر نہیں کی جاتی بلکہ گورنر کی جانب سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کو حق بجانب قرار دینے اور اس پر احتجاج کرنے والے ماہر تعلیم کو قصور وار ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ بتانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی کہ کیاکبھی گورنر موصوف نے کسی عام شہری کے بچے کی فیس معاف کرانے کے سلسلے میں اس طرح کی کوئی کارروائی کی؟وزیراعظم خود اس بات کا اعتراف ایک سے زیادہ مرتبہ کرچکے ہیں کہ اس وقت ملک کی معاشی حالت انتہائی تباہ کن ہے اس کی بحالی کے لیے کچھ جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی گاڑی کے ٹائر تبدیل کرانے کیلئے پونے 3 کروڑ روپے کی منظوری یا ایک وزیر اور ایک سرکاری افسر کے بچوں کی فیس کی معافی وہ جرات مندانہ فیصلے ہیں جن کے ذریعے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالا جاسکے گا۔اس طرح کے فیصلوں سے ن لیگ کی اخلاقی حیثیت کا اندازہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کو ان فیصلوں پر خود ہی توجہ دینی چاہئے اور اس طرح کے فیصلے فوری طورپر منسوخ کرکے سرکاری خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے کا سلسلہ ختم کردینا چاہئے،مریم صفدر کوئی مجبور خاتون نہیں ہیں انھوں نے اپنے والد اور چچا کے سہارے جتنی دولت جمع کی ہے وہ ان کی اگلی 2-3 نسلوں کیلئے بھی کافی ہوگی اس لئے وہ اپنی زیر استعمال کار کے ٹائر تبدیل کرانے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے رقم خرچ کرکے کفایت شعاری اور سرکاری خزانے کی حفاظت کی مشال قائم کرسکتی ہیں۔امید ہے کہ وہ ایسا ہی کریں گی اور اپنی زیر استعمال کار کی دیکھ بھال،مرمت وغیرہ کے تمام خرچ اپنی جیب خاص سے ادا کرنے کا اعلان کرکے حقیقی معنوں میں خود کو عوام دوست ثابت کرنے کی کوشش کریں گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں