میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلدیاتی انتخابات، سندھ حکومت کی ہرپولنگ اسٹیشن کوپولیس فراہمی سے معذرت

بلدیاتی انتخابات، سندھ حکومت کی ہرپولنگ اسٹیشن کوپولیس فراہمی سے معذرت

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۵ نومبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پورے کراچی میں 5 ہزار پولنگ اسٹیشنز ہیں، ان پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکارنہیں ہوں گے تو دھاندلی کا الزام لگے گا، اس وجہ سے ہم نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ اندورن سندھ میں جن عمارتوں میں پولنگ اسٹیشنز بننے ہیں وہ خراب ہیں، اگر 15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہوئے تو پھر 16 جنوری کو سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف پریس کانفرنس نہ کی جائے، پریس کانفرنس کر کے پھر الزامات لگائے جائیں گے۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور چیف آف جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کی تقرریاں آئنی اور قانونی معاملات تھے، ان پر جتنی سیاست ہو رہی تھی یہ سب کے لیے نقصان تھا، وفاقی حکومت نے جو فیصلہ کیا اس پر صدر نے آئینی ذمہ داری نبھائی، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آئین اور قانون کو سپورٹ کریں۔ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ ملکی معیشت کو لاحق خطرات کم ہوگئے ہیں، مضبوط معیشت کے لیے ہم سب مل کر کام کریں گے، ڈھکن چور ڈھکنوں کی بات کریں گے،کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو بس منفی سیاست اور باتیں کرنی ہوتی ہیں، اس سے مسائل حل نہیں ہوتے اس کے لیے میدان میں کام کرنا پڑتا ہے۔مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ عدالتیں اگر حکومتی کاموں میں مداخلت کریں گی تو حکومت نہیں چلے گی، سالہا سال سے مقدمات چل رہے ہیں ان پر فیصلے نہیں ہوتے اور سیاسی معاملات پر فوری فیصلے ہو جاتے ہیں، جس طرح عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جاتی اسی طرح سیاسی معاملات میں بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ ہم نے عوام کو جواب دینا ہے، عدالتیں کسی تنقید کو فالو نہ کریں، اس طرح ہمارے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے گا، ایک سال کی جدوجہد سے کیایم سی ٹیکس کا آغاز کیا تھا جس کو روک دیا گیا، خدارا ہمیں کام کرنے دیا جائے، کے ایم سی نے حکم امتناع جاری کیا ہے اس وجہ سے نیا نظام متعارف نہیں کروایا۔مرتضیٰ وباب نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ دنیا کا واحد مارچ ہے جو گھر کے ڈرائنگ روم سے ہورہا ہے، پارٹی چییئرمین گھر اور سیکیرٹری جنرل ایک جھیل کنارے سیلفیاں لے رہے ہیں، کچھ بھی ہوجائے اسمبلی کی مدت اگست 2023 تک پوری ہوگی، الیکشن کروانے کا آئینی طریقہ ہے اور آئین کے مطابق الیکشن کا اختیار وزیراعظم کا ہے، عمران خان کو کوئی اختیار نہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں