میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیاں، ڈپٹی کنٹرولر معطل

حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیاں، ڈپٹی کنٹرولر معطل

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم

پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس سمیت پوزیشن ہولڈرز کا ریکارڈ جانچا جائے گا

 

سندھ حکومت نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات اور عوامی شکایات کے بعد حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کنٹرولر ٹاپ سیکریٹ برانچ اعجاز علی کاکا کو معطل کردیا ہے، جبکہ معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو کی منظوری کے بعد سیکریٹری جامعات عباس بلوچ نے معطلی اور تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا حکم نامہ جاری کردیا۔صوبائی وزیر کے ترجمان کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر اربیلہ بھٹو کو انکوائری کمیٹی کی سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری امیر فضل اویسی اور ڈاکٹر نصراللہ پیرزادہ کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

تحقیقاتی کمیٹی انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ پوزیشن ہولڈرز، ٹاپ 10 امیدواروں اور اے ون و اے گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کا ریکارڈ بھی جانچا جائے گا۔تحقیقات میں نتائج کی تیاری، جوابی کاپیوں کی جانچ، ٹیبلولیشن اور نتائج کے اعلان سمیت تمام متعلقہ مراحل کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔

حکام کے مطابق معطل افسر کو انکوائری مکمل ہونے تک متعلقہ حکام اور تحقیقاتی کمیٹی سے تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کو 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین ہوسکے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں