میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فیصلہ آخر کس کا؟

فیصلہ آخر کس کا؟

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

گورنر راج کے بعد خیبر پختونخواہ ایک ایسے دردناک، کربناک اور انتہائی حساس سیاسی و سماجی دور سے گزر رہا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ یہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں، بلکہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں ریاست کے اندر موجود خلیج، عوامی بے چینی، سیاسی بداعتمادی اور باہمی فاصلے نے ایک گہرے دکھ کی صورت اختیار کر لی ہے،ایک عام پاکستانی کا دل اس بات پر بھی افسردہ ہے کہ جس خطے کی پہچان ہی آزادی، جمہوری شعور اور سیاسی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے، وہاں آج ایک دوسرے کی بات سننے، سمجھنے اور برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مکالمے کی جگہ الزام، دلیل کی جگہ جذبات اور افہام و تفہیم کی جگہ بداعتمادی بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔ایسے میں ایک سوال بار بار ہمارے سامنے آتا ہے: بلٹ یا بیلٹ؟ فیصلہ آخر کس کا؟

ایک مہذب اور جمہوری معاشرے میں مسائل کا حل طاقت میں نہیں بلکہ ووٹ، آئین، انصاف، شفاف انتخابات اور مکالمے میں ہونا چاہیے۔ مگر جب انتخابی عمل خود سوالات کی زد میں آ جائے، عوام کو اپنے ووٹ کے حق کے استعمال میں رکاوٹیں پیش آئیں، نتائج اور طریقہ انتخاب پر تحفظات پیدا ہوں اور سیاسی فیصلوں پر اثر و رسوخ کے سوالات اٹھنے لگیں تو مسئلہ صرف ایک حکومت یا ایک جماعت کا نہیں رہتا، پورے جمہوری نظام کے اعتماد کا بن جاتا ہے۔حالیہ انتخابات اسی پیچیدہ پس منظر میں ہوئے، انتخابی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی صورتِ حال تھی کہ انتخابات میں نشان چھیننے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف دو تہائی سے زیادہ نشستیں لے گئی ۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ امیدواروں کے انتخابی بینرز پر عمران خان کی تصاویر کے ساتھ لگے انتہائی غیر معروف انتخابی نشان پر عوام نے مہریں لگا کر مقتدر حلقوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ،لیکن ان نتائج کے ساتھ ہی نتائج بدلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس پرایک بڑا سوا ل عالمی میڈیا کی اسکرینوں پر بھی موجود رہا کہ کیا یہ خود ساختہ انتخابی عمل عوام کی مکمل سیاسی ترجمانی کرتا ہے؟
انتخابات کے ساتھ ہی انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ بعد ازاں انتخابات کے قریب مختلف علاقوں میں مرحلہ وار اور جزوی بحالی ہوئی، مگر رابطوں کی صورتِ حال ہر جگہ یکساں نہ ہو سکی۔ انٹرنیٹ کی بندش نے نہ صرف عام شہریوں، طلبہ، کاروباری افراد اور صحافیوں کو متاثر کیا بلکہ سیاسی رابطوں اور انتخابی سرگرمیوں پر بھی اس کے اثرات پڑے۔ یوں ایک طرف انتخابی عمل جاری تھا اور دوسری طرف عوام کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ ہی کٹ کر رہ گیا۔ آج بھی انٹرنیٹ بندش سے تعلیمی و معاشی نقصان ہونا اپنی مثال آپ ہے۔فارم 47پر من پسند گھوڑوں کو جتوایا گیامن پسند انتخابی نتائج مرتب ہوئے یوں ایک ایسا انتخابی عمل جو عوامی رائے کو ایک واضح اور مکمل مینڈیٹ میں تبدیل کرنا تھا، خود کئی سوالات چھوڑ گیا۔ اور جب انتخابی کشیدگی اور مزاحمتی جدوجہد کے دوران انسانی جانیں بھی ضائع ہوں تو سوال مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ انتخابات کا مقصد عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دینا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔ اختلاف کو سیاسی عمل میں جگہ دینا جمہوریت ہے، اختلاف کو تصادم میں بدل دینا جمہوریت کی کمزوری ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ گورنر راج کے ذریعے نیا سیاسی بندوبست تو قائم ہوگیا، مگراقتدار پر لاکر بٹھائے گئے من پسند مہروں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ عوام ابھی تک اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہیں۔ یعنی ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اقتدار کا فیصلہ آگے بڑھ گیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ جس انتخاب میں ایک بڑے حصے کی آواز شامل نہ ہو، وہ پورے عوام کی ترجمانی کیسے کہلا سکتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ‘ایک عوام کی منتخب واحد حکومت پر گورنر راج کی تلوار چلانے کے بعد ‘بلٹ یا بیلٹ؟ فیصلہ آخر کس کا؟’’ کا سوال مزید گہرا اور تلخ ہو جاتا ہے۔ کیا ہم نے اُن نوجوانوں اور اُن آوازوں کو سنا، جو پہلے ہی بیلٹ کے نظام سے بددل اور بے یقین ہو چکے تھے؟ کیا اُن کے خدشات، اُن کے سوالات اور اُن کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی؟ یا ہم نے اُن کے سوالات کا جواب دیے بغیر ہی ایک نیا سیاسی بندوبست کھڑا کر دیا؟
افسوس کہ یہ صرف ایک سیاسی سوال نہیں، بلکہ ہماری جمہوری ترجمانی کی ایک تلخ حقیقت بھی ہے۔ کیونکہ جمہوریت صرف حکومت قائم کرنے کا نام نہیں، جمہوریت ہر اُس شہری کی آواز کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا نام ہے جس کے ہاتھ میں ووٹ کا حق ہے۔ جب کسی بڑے حصے کی آواز بھی بیلٹ کے ذریعے سامنے ہی نہ آئی ہو اور سیاسی بندوبست آگے بڑھ جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ حکومت کیسے بنی، سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس حکومت کے مینڈیٹ میں اُن لوگوں کی آواز کہاں ہے؟یہیں سے کے پی کے میں موجود فکری تقسیم کو بھی سمجھنا ہوگا۔ ایک طبقہ تمام تحفظات کے باوجود بیلٹ پر یقین رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تبدیلی کا راستہ آئینی اور جمہوری عمل ہی سے نکل سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات بار بار نظرانداز ہوں، اگر احتجاجی آوازوں کو سننے کے بجائے دبایا جائے اور اگر انتخابی عمل پر اعتماد ہی کمزور ہو جائے تو پھر وہ بیلٹ پر اپنا اعتماد کیسے برقرار رکھیں؟

پختون خواہ کے باسیوں کے پاس دلائل ہیں، شکوے ہیں، مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو سننے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مخالف کو فوراً غدار، شرپسند یا دشمن قرار دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والے ہر شخص کو پورے سیاسی نظام سے باہر سمجھ لینا بھی دانش مندی نہیں۔

ریاست اپنے شہریوں سے مکالمہ کرتی ہے، ان کی شکایات سنتی ہے اور اختلاف کو سیاسی عمل کا حصہ بناتی ہے۔اسی دوران خیبر پختون خواہ میں مخصوص نشستوں کا سوال بھی مسلسل زیرِ بحث رہا۔ ناقدین کے مطابق یہ نشستیں حکومت سازی کے سیاسی توازن پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اسی لیے ان کے طریقہ انتخاب اور سیاسی کردار پر عرصے سے سوال اٹھتے رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کی حکمرانی کے دوران بھی ان نشستوں سمیت متعدد مطالبات سامنے آئے اور معاہدوں و یقین دہانیوں کی بات ہوئی، مگر جب وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کا تاثر پیدا ہوا تو بداعتمادی مزید بڑھی۔ یہاں اصل سوال کسی ایک جماعت کے حق یا مخالفت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایساخود ساختہ بدوبست جس کا پس منظر معدنیات نکالنا ہے نہ کہ دہشت گردی روکنا خیبر پختون خواہ کے عوام کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ حکومت سازی کا اختیار براہِ راست عوامی مینڈیٹ سے نکل رہا ہے؟ اور اگر اس سوال کا جواب واضح نہیں تو پھر فیصلہ آخر کس کا؟
ایک عجیب صورتِ حال سامنے آئی، ایک طرف منتخب صوبائی اسمبلی کے وزیر اعلیٰ ،اسپیکر اور ایک بڑے صوبہ کے صوبائی صدر کواغوا کر لیا گیا جن کا ابھی تک کسی کو علم نہیں ، دوسری طرف مسلط شدہ حکومت سیاسی بندوبست کے طور پراپنا گورنر راج لگا چکی ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آئینی جواز اور عوامی جواز کے درمیان فرق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کوئی فیصلہ آئینی طریقے کے مطابق ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کے ایک حصے کے ذہن میں اس کی سیاسی قبولیت پر سوال موجود رہ سکتے ہیں۔حکومت کا کردار بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو، پنجاب میں بھی اسی جماعت کی حکومت ہو اور خیبر پختون خواہ میں بھی پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) حکومت سازی میں مرکزی حیثیت حاصل کر لے، تو لازماً یہ سوال اٹھتا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے سیاسی فیصلوں میں مقامی عوامی مینڈیٹ اور اسلام آباد کی سیاسی قوت کے اثر کا تناسب کیا ہے؟ یہاں تنقید کا مقصد ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاسی طریقہ کار پر سوال اٹھانا ہے جو جمہوریت ،جمہوریت کا راگ الاپتی رہی ہیں ،ان سے یہ پوچھنا غیر جمہوری نہیں کہ فیصلہ عوام کے ووٹ کا ہے یا سیاسی بندوبست کا؟اسی تناظر میں اصل سوال سیاسی اختیار کے مرکز کا ہے۔ اگر ایک ہی سیاسی قوت اسلام آباد، پنجاب اور آزاد کشمیر مظفرآباد میں اقتدار کے مختلف مراکز پر اثرانداز ہو تو عوام یہ سوال ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ خیبر پختون خواہ کی سیاسی سمت کا فیصلہ کہاں اور کیسے ہو رہا ہے؟ اور پھر سوال وہی فیصلہ آخر کس کا؟گورنر راج پر جابجا عوامی حمایت کے سائن بورڈ لگائے جارہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ترقیاتی کاموں کی تختیاں اکھاڑی جارہی ہیں ،اگر یہ فیصلہ عوام کا ہے تو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ کیوں ؟ اگر فیصلہ بیلٹ کا تھا توگورنر راج کا کیا جواز ؟ اگر فیصلہ اداروں کا ہے تو اسلام آباد کی سیاسی اثراندازی کیوں ؟ اور اگر فیصلہ واقعی عوام کی مرضی سے ہوا ہے تو پھر عوام میں بداعتمادی کیوں باقی ہے؟ یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں بلکہ پورے سیاسی بندوبست کے سامنے ایک آئینے کی طرح کھڑا ہے۔

اس منظرنامے کا ایک اور اہم پہلوایک منتخب وزیر اعلیٰ سے حکومتی مذاکرات تھے جس میں اسے بلاکر دھوکہ دیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کرنا بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا۔ سوال یہ ہے کہ جب کے پی کے کا وزیر اعلیٰ اپنی منتخب اسمبلی اور اپنے آئینی و حکومتی جواز کیلئے موجود تھی تو پھر بحران کے حل کے لیے اسلام آباد کی سیاسی قیادت کو براہِ راست آگے کیوں آنا پڑا؟ اگر مذاکرات کے ذریعے مطالبات کا حل ممکن تھا، اگر معاہدے اور یقین دہانی کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکتی تھی،بقول مولانا فضل الرحمان مذاکرات اور شرائط مانی جاچکی تھیں ، تو پھر ان وعدوں پر مکمل اور سنجیدہ عملدرآمد کیوں نہ ہوا؟ اور اگر عوامی مطالبات کا جواب مذاکرات سے دیا جا سکتا تھا تو پھر طاقت کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس عمل سے بیلٹ اور طاقت کا تضاد سب سے زیادہ نمایاں ہوا، ایک طرف عوام سے کہا جاتا ہے کہ تبدیلی کا راستہ ووٹ ہے، دوسری طرف جب وہی عوام اپنے مطالبات کے لیے سڑک پر آتے ہیں تو ان کی آواز کو دبانے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ احتجاج بھی شہری حق ہے، بشرطیکہ وہ پُرامن ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پُرامن اختلاف کو جگہ دے، مطالبات کو سنے اور سیاسی راستہ بند نہ ہونے دے۔ کیونکہ طاقت سے خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے، اعتماد نہیں۔کے پی کے کا اصل بحران شاید یہی ہے کہ آج سوال صرف حکومت کا نہیں، اعتماد کا ہے۔ جو لوگ بیلٹ پر یقین رکھتے ہیں، انہیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہے؛ جو لوگ بیلٹ سے بدظن ہو چکے ہیں، ان کے خدشات بھی سننے ہوں گے، جو احتجاج کر رہے ہیں، ان سے بات کرنا ہوگی اور جو حکومت میں ہیں، انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اقتدار کا مقصد صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ عوام کی نمائندگی کرنا ہے۔ کیونکہ ریاست اپنے شہریوں سے بڑی نہیں ہوتی، ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔اس لیے آج خیبر پختون خواہ کے سامنے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بلٹ یا بیلٹ؟ بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ فیصلہ آخر کس کا؟ اگر فیصلہ عوام کا ہے تو عوامی آواز سب سے مقدم ہونی چاہیے۔ اگر راستہ بیلٹ کا ہے تو بیلٹ کو مکمل، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔ اور اگر ریاست اپنے شہریوں کی ہے تو پھر حکومت کا حامی ہو یا مخالف، احتجاج کرنے والا ہو یا خاموش رہنے والا، بیلٹ پر یقین رکھنے والا ہو یا بائیکاٹ کرنے والا۔۔ہر شہری کی آواز سننا ہوگی۔یہ اس درد کی آواز ہے جو آج پاکستان کے ایک عام شہری کے دل میں موجود ہے۔ اس تشویش کی ترجمانی ہے جو اپنے وطن کے مستقبل کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، اور اس سوال کی بازگشت ہے جس سے شاید ہم میں سے کوئی بھی نظریں نہیں چرا سکتا۔ بلٹ یا بیلٹ؟ فیصلہ آخر کس کا؟جوہر کانپوری کہتے ہیں کہ
تباہی آئی ہے یوں ہی وطن کے گوشے گوشے میں
وطن کے تخت پر جب بھی کوئی منحوس بیٹھا ہے
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں