میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سرجانی ٹائون میں جعلی فائلوں سے مکانات ہڑپنے کا انکشاف

سرجانی ٹائون میں جعلی فائلوں سے مکانات ہڑپنے کا انکشاف

ویب ڈیسک
پیر, ۱۹ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسلحے سے لیس قبضہ مافیا نے رات کی تاریکی میں ایک خاندان کو زبردستی گھر سے بے دخل کر کے مکان پر قبضہ جما لیا
پولیس و متعلقہ اداروں کی پراسرار خاموشی ، کاشف چپاتی، اویس شاہ ، حسیب عرف کالا، وقاص خوف کی علامت بن گئے

شہرِ قائد میں قبضہ مافیا ایک بار پھر بے لگام ہو چکا ہے اور پولیس و متعلقہ اداروں کی پراسرار خاموشی کے باعث غریب عوام کی خون پسینے سے بنائی گئی املاک دن دہاڑے ہتھیائی جا رہی ہیں۔ تازہ اور سنگین واقعہ سرجانی ٹائون سیکٹر 7 سی میں پیش آیا، جہاں اسلحے سے لیس قبضہ مافیا نے رات کی تاریکی میں ایک خاندان کو زبردستی گھر سے بے دخل کر کے مکان پر قبضہ جما لیا۔تفصیلات کے مطابق حمیرہ بی بی زوجہ شاہد احمد، ساکن مکان نمبر ایل۔253، سیکٹر 7 سی، سرجانی ٹائون نے اعلی حکام کو دی گئی تحریری درخواست میں انکشاف کیا ہے کہ 10 جنوری 2026 کو رات تقریبا ساڑھے دس بجے کاشف چپاتی، اویس شاہ ولد اکبر شاہ، حسیب عرف کالا، وقاص اور ان کے دیگر ساتھیوں سمیت آٹھ سے دس مسلح افراد زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے اسلحہ لہرا کر اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور چند ہی لمحوں میں پورے خاندان کو گھر سے باہر نکال دیا۔درخواست گزار کے مطابق جب اس غیر قانونی اور جابرانہ کارروائی کے خلاف مددگار 15 پر کال کی گئی تو ملزمان مزید مشتعل ہو گئے، پولیس کو بلانے پر قتل کی کھلی دھمکیاں دیں اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا، جس کے بعد مکان پر مکمل قبضہ کر لیا گیا۔ جان کے خوف سے متاثرہ خاندان کو راتوں رات قریبی رشتہ داروں کے گھر پناہ لینا پڑی۔حمیرہ بی بی نے مزید الزام عائد کہا کہ قبضہ مافیا نے ان کے مکان کی جعلی فائل اور بوگس دستاویزات تیار کر کے قبضے کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی، جو شہر میں سرگرم منظم قبضہ مافیا کا پرانا اور آزمودہ طریقہ واردات ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر عادی اور پیشہ ور مجرم ہیں، جن کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں پہلے ہی متعدد ایف آئی آرز درج ہیں، مگر اس کے باوجود یہ قانون سے بالاتر ہو کر کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں اور شہریوں کی زندگی بھر کی کمائی لوٹنے میں مصروف ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سرجانی ٹائون کے مختلف سیکٹرز میں اسلحے کے زور پر مکانات پر قبضہ، جعلی فائلوں کی تیاری اور غریب عوام کو بے گھر کرنا معمول بنتا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور دیگر ذمہ دار ادارے یا تو بے خبر ہیں یا خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر شہر میں عام آدمی کا گھر بھی محفوظ نہیں تو قانون کی عملداری کہاں ہے؟۔متاثرہ خاتون اور اہلِ علاقہ نے آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، کمشنر کراچی، ڈی سی ویسٹ، ڈی آئی جی ویسٹ اور اعلی پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری اور غیر جانبدارانہ نوٹس لیا جائے، قبضہ مافیا کے سرغنوں سمیت تمام ملزمان کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے، متاثرہ خاندان کو ان کا مکان فوری طور پر واگزار کرایا جائے اور سرجانی ٹائون میں قبضہ مافیا کے خلاف مثر کریک ڈان کر کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں