میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایف بی آر کا تنخواہ دار طبقے کی جیبوں پر ڈاکا، ریکارڈ 44 ارب کی وصولی

ایف بی آر کا تنخواہ دار طبقے کی جیبوں پر ڈاکا، ریکارڈ 44 ارب کی وصولی

جرات ڈیسک
پیر, ۱۷ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ماہ جولائی میں گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ انکم ٹیکس وصول کرلیا،ذرائع

تنخواہ دار طبقے سے زیادہ ٹیکس جمع، انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کے باوجود وصولی بڑھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں زیادہ انکم ٹیکس وصول کرلیا، رواں سال جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے 44 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس کی مختلف شرحوں میں کمی کے باوجود تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے ماہ جولائی میں ایف بی آر نے تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس کی مد میں 44 ارب روپے وصول کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2024-25 کے جولائی میں یہ وصولی 42 ارب روپے رہی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 کے جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے 30 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔ اس طرح دو سال کے دوران جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی 14 ارب روپے بڑھ گئی۔

واضح رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سالانہ 22 لاکھ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کے لیے بعض انکم ٹیکس سلیبز میں کمی کی تھی۔

حکومت نے سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردی، جبکہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن کی سلیب میں ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کی گئی۔

اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کردی گئی، جبکہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن کی سلیب میں ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے باوجود رواں مالی سال کے آغاز پر تنخواہ دار طبقے سے وصولی میں اضافہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں