عمران خان کی صحت پر سینیٹ میں گرما گرمی
شیئر کریں
عدالتی کسٹڈی میں موجود شخص کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے
علاج میں کوتاہی ہو تو اس کی ذمہ داری بھی عدالت کی ہے، رانا ثنااللہ کا قائد حزب اختلاف کو جواب
بانی پی ٹی آئی ملک کے باوقار سیاستدان ہیں، انہیں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں،
ان کی زندگی سے نہ کھیلا جائے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کاسینیٹ اجلاس میں اظہار خیال
……………………..
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی کسٹڈی میں موجود شخص کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، علاج میں کوتاہی ہو تو اس کی ذمہ داری بھی عدالت کی ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کے باوقار سیاستدان ہیں، انہیں ذہنی اذیتیں دی جارہی ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک صورتحال ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک میں کوئی کارخانہ یا فیکٹری نہیں لگائی، جبکہ حکومت خود کہتی ہے کہ سسٹم فیل ہوچکا ہے۔
جواب دیتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ رولز کے مطابق جو شخص عدالتی کسٹڈی میں ہو، اس کے معاملات کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، لہذا علاج میں کسی کوتاہی کی ذمہ داری بھی عدالت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر سے متعلق معلومات حاصل کی گئی ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کی تصدیق نہیں ہوئی۔ رانا ثنااللہ کے مطابق عمران خان کے خاندان کی جانب سے تجویز کیے گئے ڈاکٹرز کو بھی طبی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ عدالت میں پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔
دوسری جانب سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عظیم انسان ہیں، ان کی زندگی سے نہ کھیلا جائے۔انہوں نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے صحت سے متعلق معاملات فوری حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراچکے ہیں۔
اعظم سواتی نے تجویز دی کہ حکومت کے ساتھ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی بھی بیٹھ کر اس معاملے پر بات کریں۔


