میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کیلئے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم کا نئے صوبوں کیلئے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے؟ خالد مقبول صدیقی

ملک چلانے والوں کو بھی ادراک ہوگیا ہے ملک کو بچانیکا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے،مصطفی کمال

اگر انتظامی یونٹ ہو تو صوبے کا ایک کسان بھی وزیر اعلی تبدیل کرسکتا ہے،وفاقی وزیر برائے صحت کی پریس کانفرنس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں نئے صوبوں کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے؟

اتوار کو یہاں ایم کیو ایم رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ پاکستان کے موجودہ صوبے قانونی تقاضوں پر نہیں بنائے گئے تھے،

آج ملک میں جو صوبے ہیں وہ لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، زیادہ آبادی کے باوجود یہ صوبے انتظامی یونٹ ہیں، آبادی کی رفتار سے زیادہ ملک بھر میں اضلاع بنا دیے گئے لیکن آبادی کے بڑھنے کے باوجود صوبے نہیں بنائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے نا بنانے کے جو اثرات آئے ہیں اس پر بھی بات کرنی چاہیے، ہم نے جو تجویز پیش کی اس پر ملک کی مختلف جماعتیں آواز سے آواز ملارہی ہیں، ملک بھر کے افراد سے کہتے ہیں آئیں اس پر ڈائیلاگ شروع کرتے ہیں، اس پر ایک بڑے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ہم صرف اپنے لے یہ نہیں کہہ رہے بلکہ جہاں بھی صوبوں کی ضرورت ہے وہاں بننے چاہئیں، 18 ویں ترمیم کے گناہ میں اسی لیے شامل ہوئے کہ جمہوریت کے اثرات ہرجگہ پہنچیں، اٹھارہویں ترمیم پر چاروں صوبوں کو عمل درآمد کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے کہاکہ ہم نے آئین میں ترمیم کروائی جب عمل نا ہوا تو سپریم کورٹ بھی گئے، ہم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں، کراچی سمیت جہاں جہاں سے صوبے کی آواز بلند ہورہی ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، آبادی کے لحاظ سے صوبے بننے چاہئیں، سندھ میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، عوام کے جائز حق کو عوام تک پہنچانا غداری نہیں ہے، سپریم کورٹ جائیں گے اور کہیں گے کہ ان کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ارادی اور اختیاری سندھی اور ارادی اور اختیاری پاکستانی ہیں، جو سندھی بھائیوں نے ہمارا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے، ہم نے کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا، اگر وہ کہیں گے تو ہم تھینکس گیون ڈے بھی منالیں گے، آپ نے بیسیوں ترامیم کر دی ہیں، ایک ترمیم پاکستانی عوام کیلئے کردیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ہم واپس ہندوستان اس لیے نہیں جائیں گے ہم آزادی لیکر آئے تھے، سندھ کی زمینوں کا 60 فیصد ہندوں کا تھا جو وہاں گئے اور ہمیں یہ ملا، ہم نے آئین میں صوبوں کا بل پیش کیا ہے اور وہ ابھی اسٹینڈنگ کمیٹی میں ہے، پیپلز پارٹی کے بانی نے یہ آئین بنایا تھا اس میں صوبوں کا ذکر موجود ہے، اگر یہ غداری ہے تو اس کو آئین سے کیوں نہیں نکالا گیا، سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی ڈائیلاگ کریں۔

وفاقی وزیر مصطفی کمال نے کہاکہ ہمیں وہ نظام چاہیے جہاں ہمارے حقوق اور مسائل حل ہوں، میرے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ میں اپنا حکمران تبدیل کرسکوں، سندھ کے دیگر حصوں کی حالت کراچی اور حیدرآباد سے زیادہ بدترین ہے، نسل تر نسل ایسا ہو رہا ہے، وہاں لوگوں نے اسے تقدیر کا حصہ سمجھ لیا ہے، ہم نے اس پر آواز اٹھائی ہے، اس سے ان لوگوں کو بھی آواز ملے گے۔

انہوں نے کہا کہ 18 سال میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے، 22 ہزار ارب روپے ملنے کے بعد سندھ کو دنیا کی بدترین جگہ بنا دیا ہے، یہ تقسیم نہیں ہے ضلعی انتظامات پر گفتگو ہے، انتظامی یونٹس بنانا سندھیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ان کے حق میں ہے۔

انہوں نے کہاکہ کراچی اور حیدرآباد سندھ کا 43 فیصد ہے، یہ انتظامی یونٹس بنیں گے تو سندھ کے کسانوں کو بھی اختیار ملے گا، کراچی کو انسانوں کے رہنے کے بدترین شہر میں لا کر کھڑا کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے یہ بات شروع نہیں کی، محسن نقوی پیپلز پارٹی کے بہت بڑے ساتھی ہیں، محسن نقوی کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات کی تائید کی، ہم کہتے رہے مگر انہوں نے طاقت کے نشے میں ہماری بات نہیں مانی، اب ملک چلانے والوں کو ادراک ہوگیا ہے کہ ملک کو بچانے کا واحد راستہ انتظامی یونٹ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تو محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی صوبوں پر بیان کی تائید کررہے ہیں، اگر انتظامی یونٹ ہو تو صوبے کا ایک کسان بھی وزیر اعلیٰ تبدیل کرسکتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں