میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ، گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا قبرستان

سندھ بلڈنگ ، گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا قبرستان

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

تین منزلہ عمارتیں ،پانچ منزلہ عمارتوں میں تبدیل،نوٹسز دیواروں پر کارروائی کے منتظر
ڈائریکٹر نیاز لغاری کی بلاک 13پلاٹ ایل 22/2پر کمرشل تعمیرات سے چشم پوشی

یہ کوئی ہاؤسنگ اسکیم نہیں، بلکہ ایک ’’غیر قانونی تعمیرات کا عجوبہ‘‘ ہے، جسے ہم گلشن اقبال کا نام دیتے ہیں۔ یہاں ہر گلی میں ہر عمارت اپنے ساتھ ایک سوال لے کر کھڑی ہے ۔کیا کراچی میں تعمیراتی قوانین کی کوئی اہمیت ہیں؟علاقے کی بیشتر عمارتیں اپنی زبان میں بولتی ہیں، وہ عمارت جو تین منزلہ ہونے کی منظوری رکھتی تھی، اب پانچ منزلہ ہو چکی ہے ،وہ پارکنگ جو گاڑیوں کے لیے تھی، اب ’’پلاسٹک کی دکان‘‘ بن چکی ہے وہ پارک جو بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تھا، اب ’’سیمنٹ کا جنگل‘‘بن گیا ہے ۔عابدہ پروین، جو تیس سال سے یہاں رہ رہی ہیں، کہتی ہیں’’پہلے ہم اپنے بچوں کو پارک میں کھیلنے بھیجتے تھے ،اب تو ہم انکے گھر سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ ہر طرف تعمیراتی مواد ہے ، ہر طرف خطرہ ہے ۔ڈائریکٹر نیاز لغاری نے بلاک 13رہائشی پلاٹ نمبر 22/2پر کمرشل تعمیرات سے دانستہ چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے ۔شہری حکومت کے پاس ہر شکایت کا ایک ہی جواب ہے ’’ہم نے نوٹس جاری کر دیا ہے ‘‘۔ہم نے کارروائی کا عمل شروع کر دیا ہے ۔’’ہم قانون کے مطابق کام کریں گے ‘‘مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوٹس دیواروں پر لگے ہیں، کارروائی فائلوں میں بند ہے اور قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ شہری حقوق کے ایک کارکن تجاویز دیتے ہیں۔ 1۔فوری طور پر تمام نئی تعمیرات پر پابندی عائد کی جائے 2 ۔موجودہ خلاف ورزیوں کی خودکار ڈیٹا بیس بنایا جائے ۔3 ۔حکام کی ذمہ داری طے کی جائے ۔4 ۔شہریوں کو بااختیار بنایا جائے ۔ گلشن اقبال محض ایک علاقہ نہیں، بلکہ پورے کراچی کا آئینہ ہے ۔ اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، تو کل ہمارے پاس کھونے کے لیے ’’شہر‘‘ہی نہیں بچے گا۔یہ رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے ہے ۔کیا یہ ہمارے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا پائے گی؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں