میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مستعار طاقت کا لہجہ

مستعار طاقت کا لہجہ

جرات ڈیسک
منگل, ۶ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مذاکرات کی میز ! اور سڑک!!

پاکستان کی سیاست ان بھول بھلیوں کی قیدی بن چکی ہے! پردے پر جاری یہ تماشا واحد حقیقت نہیں۔ پس پردہ طاقت کا ایک کھیل جاری ہے۔ کھینچا تانی اور کہنی مارنے کا کھیل۔ اقتدار کے قیام میں دوام کی آرزو کا کھیل ! فارسی کی حکیمانہ ضرب المثل گرہ کھولتی ہے ۔

تدبیر کند بندہ، تقدیر کند خندہ
(بندہ تدبیر کرتا ہے اور تقدیر مسکراتی ہے)

اقتدار میں توازن کھونے والوں کے لیے وہ عربی شاعر یاد آیا جو غیر معمولی فصاحت میں ڈانواڈول ہوا ، کیا مصرعہ کہہ گیا:۔

تَجْرِی الرِّیَاحُ بِمَا لَا تَشْتَہِی السُّفُنُ
(ہوائیں کشتیوں کی مرضی کے مطابق نہیں چلتیں)

اقتدار کی کشتی کے مسافروں نے مذاکرات کی میز پر ہوا کا رخ متعین کرنے کی کوشش کی۔ وقت بتائے گا، تقدیر مسکرائی تھی یا نہیں! یہ مذاکرات کی میز تھی، طاقت دکھانے کا میدان نہیں۔ یہاں دشمن نہیں ایک ملک کے شہری تھے۔ حقوق کا مطالبہ تھا، ناجائز اقتدار واپس لوٹانے کا مطالبہ بھی نہیں۔ مذاکرات ناکام ہوئے، چند گھنٹے پہلے تک ایک مسودہ تقریباً تیار تھا، نوّے سے زیادہ فیصد نکات پر اتفاق کی بات ہو رہی تھی، اور پھر اچانک معلوم ہوا کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے ۔ اب فریقین کے پاس اپنی اپنی کہانی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے انگلی اٹھا کر کہا کہ اس ناکامی کے واحد ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہیں۔ سہیل آفریدی کے پیش رو وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور ایسے مواقع پر کبھی یوں نشانہ نہ بنے تھے۔ گویا سہیل آفریدی قابونہ ہو سکے!حیرت ہے محسن نقوی ، سہیل آفریدی کے‘ مقام’ کو سمجھ نہ سکے۔ طاقت کس کی ہے، یہ نکتہ محسن نقوی سے زیادہ کس کے لیے قابل فہم ہو سکتا ہے۔ محسن نقوی اپنی کوئی طاقت نہیں رکھتے، وہ مستعار طاقت کے بھروسے پر ہے۔ سہیل آفریدی ایک منتخب نمائندے ہیں، جو جانتے ہیں کہ عمران خان کے بغیر وہ سڑک پر کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ علی امین گنڈا پورجان نہ سکے اور مستعار طاقت کے تقاضوں پر اپنی حرص غالب کر بیٹھے، اب دربدر ہیں اور تحقیر کا نشانہ بھی۔

محسن نقوی بھی مستعار طاقت کے کناروں سے چھلک رہے ہیں۔

ایک بار پھر کنٹینر کھڑے ہیں۔ ایک بار پھر اسلام آباد کو بچانے کی تیاری ہے ۔ ایک بار پھر حکومت کہہ رہی ہے ،اس بار فیصلہ کن کارروائی ہوگی۔ اور ایک بار پھر خیبرپختونخوا سے قافلہ اسلام آباد کی طرف چل پڑا ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اس دفعہ مذاکرات کی میز بھی درمیان میں تھی ۔اور میز سے اٹھنے کے بعد سڑک دہک رہی ہے ۔

اس بار لکی مروت سے ۔

سہیل آفریدی نے 4؍اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی و شمالی وزیرستان اور بنوں کے قافلوں کو پہلے ہی وہاں پہنچنا تھا۔ رات تک قافلہ کرک میں داخل ہو چکا تھا۔ اگلا مرحلہ کوہاٹ، پھر ہنگو، کرم اور اورکزئی کے قافلوں کی شمولیت، اس کے بعد پشاور، چارسدہ انٹرچینج اور 8؍اکتوبر کو خیرآباد تک پہنچنے کا منصوبہ ہے ۔اسلام آباد جانے کا آخری مرحلہ وہی طے کیا جائے گا۔ یعنی ابھی اسلام آباد دور ہے ، مگر سیاست اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی شروع ہو چکی ہے ۔یہ اس مارچ کی حکمت عملی کا اہم نکتہ ہے۔ یہ سیدھا لکی مروت سے اسلام آباد جانے والا قافلہ نہیں، راستے کو ہی اجتماع میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ ایک ضلع سے دوسرا ضلع، ایک قافلے سے دوسرا قافلہ، پھر پورے صوبے کو خیرآباد پر اکٹھا کرنے کی کوشش۔ تحریک انصاف کے لیے سفر خود سیاسی حرکت ہے ۔اور وفاق کے لیے مسئلہ بھی یہی ہے ۔کیونکہ حکومت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ مارچ کہاں شروع ہوا، اس کا سوال یہ ہے کہ اسے اسلام آباد تک پہنچنے سے پہلے کہاں روکا جائے ۔

یہاں ‘‘مستعار طاقت’’ کا قصہ شروع ہوتا ہے ۔

طاقت موجود ہے ۔ پولیس موجود ہے ۔ وفاقی حکومت موجود ہے ۔ انتظامیہ موجود ہے ۔ قانون موجود ہے ۔ کنٹینر موجود ہیں۔ بیانات موجود ہیں۔ مگر سیاست کا اصل امتحان ان سب کے بعد شروع ہوتا ہے ۔نتیجہ کہاں ہے ؟محسن نقوی ریاستی لہجے کے سب سے نمایاں ترجمان ہیں۔ فرمایا: حکومت احتجاج کے مسئلے کا مستقل حل نکالے گی، ‘‘once and for all’’ اس صورت حال کو ختم کرے گی اور ملک کو دس بیس دن احتجاج کی وجہ سے بند نہیں رہنے دیا جائے گا۔اس جملے کو سنبھال کر رکھنا چاہیے ۔گاہے ایک جملہ اگلی خبر سے زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے ۔محسن نقوی کے سیاسی و انتظامی بیانات میں یہ تیورکوئی اجنبی نہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے بحران کے دوران ان کا ‘‘ایک ایس ایچ او کی مار’’ والا فقرہ خاصا مشہور ہوا۔ مسئلہ بلوچستان کا ہو تو ایک ایس ایچ او کافی۔مسئلہ احتجاج کا ہو تو ‘‘once and for all’’ کافی۔اور جب مذاکرات ناکام ہوں تو ایک شخص کو ذمہ دار قرار دے دینا کافی۔ریاستی مسائل مگر پریس کانفرنس کے جملوں سے چھوٹے نہیں ہوجاتے ۔

محسن نقوی اپنے کناروں سے نہ چھلکیں تو‘ مستعار طاقت’ ایسے دلچسپ سیاسی استعارے بھی وضع نہ ہوسکیں۔ مستعار طاقت سے مراد یہ نہیں کہ عہدے کے پاس طاقت نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس طاقت کی اپنی سیاسی ملکیت کتنی ہے اور اس کا نتیجہ پیدا کرنے کی صلاحیت کتنی؟ طاقت ادھار لی جا سکتی ہے ، منصب سے حاصل کی جا سکتی ہے ، آئینی اختیار سے آ سکتی ہے ، اداروں کے ذریعے استعمال ہو سکتی ہے ،مگر سیاسی قبولیت اور مستقل نتیجہ مستعار نہیں لیا جا سکتا۔

تحریک انصاف کا معاملہ اسی تضاد کو بار بار سامنے لاتا ہے ۔پارٹی کے بانی عمران خان 2023سے جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کی ایک طویل فہرست ہے ، تحریک انصاف ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے ۔دوسری طرف حکومت اور ریاستی ادارے ان مقدمات کو قانونی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ یہ تنازع اپنی جگہ، مگر ایک حقیقت بہرحال سامنے ہے ۔قید نے عمران خان کی سیاسی موجودگی ختم نہیں کی۔ آج کا لانگ مارچ اسی سوال کی نئی شکل ہے ۔اگر مقصد کسی سیاسی رہنما کو جسمانی طور پر محدود کرکے اس کی سیاست کو بھی محدود کرنا تھا تو کم از کم سڑک پر موجود تحریک انصاف اس مفروضے کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی ہے ۔25؍مئی 2022کا مارچ یاد کیجیے ۔ پھر اکتوبر؍ 2022کا حقیقی آزادی مارچ۔ پھر 2024میں اسلام آباد کی طرف آنے والے احتجاج۔ پھر 24؍نومبر کا مارچ۔ ہر بار حکومت نے انتظامی بندوبست کیا، راستے بند کیے ، کنٹینر لگائے ، سکیورٹی بڑھائی۔ مگر تحریک انصاف ہر بار کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سڑک پر آ گئی۔ بنیادی سوال ایک ہے ،ریاستی طاقت نے سیاسی مسئلہ ختم کیوں نہیں کیا؟یہی ‘‘پاور گیم’’ ہے ۔جس کی پاکستان میں ایک تاریخ ہے۔

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مارچ واپس لینے کا فیصلہ ممکن نہیں تھا، اور حکومت نے اس ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ یعنی مذاکرات کی میز پر اصل سوال آخرکار پھر عمران خان ہی بن گئے ۔وہ شخص جو جیل میں ہے ، مگر جس کی ایک ملاقات مذاکرات کے نتیجے کو بدل سکتی ہے ۔جسمانی طور پر محدود شخص سیاسی طور پر اتنا موجود ہے کہ اس سے ملاقات ایک پورے لانگ مارچ کی سمت طے کر سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لکی مروت سے اٹھنے والا قافلہ محض چند ہزار افراد کا سفر نہیں۔ یہ حکومت کی اس حکمت عملی کا بھی امتحان ہے جو کئی برس سے تحریک انصاف کو انتظامی اقدامات، مقدمات، گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے ذریعے محدود کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ حکومت کے پاس اختیار ہے ۔تحریک انصاف کے پاس سڑک ہے ۔حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں۔تحریک انصاف کے پاس سیاسی کارکن ہیں۔حکومت اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کنٹینر رکھ سکتی ہے ۔تحریک انصاف راستے میں نئے قافلے شامل کر سکتی ہے ۔اور دونوں کے درمیان عوام کھڑے ہیں۔

حکومت سمٹ رہی ہے!

اس منظر نامے میں فیصل کریم کنڈی کا یہ فقرہ کہ ‘‘میں اکیلا ہی کافی ہوں’’ایک عجیب سا مزاحیہ رنگ پیدا کرتا ہے ۔ ریاستی منصب اگر آئینی ہے تو اس کی طاقت ‘‘میں’’ میں نہیں، آئین میں ہونی چاہیے ۔ لیکن پاکستانی سیاست میں شاید ہر عہدہ سنبھالتے ہی آدمی کو کچھ دیر کے لیے یہ گمان ضرور ہونے لگتا ہے کہ ریاست کا حجم اس کے شانے جتنا ہے ۔اور پھر وقت آتا ہے جب ایک قافلہ گنڈی چوک سے چل پڑتا ہے ۔ایک طرف ‘‘میں اکیلا کافی ہوں’’۔دوسری طرف‘‘once and for all’’۔ درمیان میں لکی مروت، کرک، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ اور خیرآباد۔اور آگے اسلام آباد۔
پاکستان میں طاقت کا سب سے دلچسپ امتحان یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنی طاقت ہے ۔اصل امتحان یہ ہے کہ آپ اس طاقت سے کیا کروا سکتے ہیں۔اگر ہر چند ماہ بعد وہی سیاسی مسئلہ، وہی قافلہ، وہی کنٹینر اور وہی ‘‘اس بار آخری بار’’ واپس آ جائے تو پھر سوال طاقت کی مقدار کا نہیں رہتا۔سوال یہ ہوتا ہے کہیں طاقت واقعی آپ کی ہے بھی، یا آپ صرف اس کے سہارے کھڑے ہیں؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں