میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اسرائیل میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی

اسرائیل میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام پر فلسطینی قیادت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔

کنیسٹ نے بل کی ابتدائی ریڈنگ میں اس کی منظوری دی۔ 120 رکنی ایوان میں ہونے والی رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 36 ووٹ ڈالے گئے۔ یہ بل انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت اوتزما یہودیت کی جانب سے پیش کیا گیا، جس کی قیادت اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کی جماعت یسرائیل بیتینو نے بھی اس بل کی حمایت کی۔بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر نشر ہونے والی اذان شور کا باعث بنتی ہے اس لیے اس پر مزید سخت ضوابط نافذ کیے جائیں۔ مجوزہ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی مسجد میں ساؤنڈ سسٹم نصب کرنے یا استعمال کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگی۔ دوسری جانب فلسطینی نیشنل کونسل کے سربراہ روحی فتوح نے اس اقدام کو جرم اور قانونی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اذان صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ مسلمانوں کو نماز کے اوقات سے آگاہ کرنے کا عملی ذریعہ بھی ہے، لہٰذا لاؤڈ اسپیکر پر پابندی اس کی بنیادی غرض و غایت کو متاثر کرے گی۔یہ بل ابھی قانون نہیں بنا۔ اسے نافذ ہونے کے لیے کنیسٹ میں مزید تین مراحل سے منظور ہونا ہوگا، جس کے بعد ہی یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔اس معاملے پر اسرائیل اور فلسطینی حلقوں میں ایک نئی سیاسی اور مذہبی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

حالیہ عرصے میں عرب پارٹیوں اور حریدی دھڑوں کے درمیان اس حوالے سے ہم آہنگی دیکھنے میں آئی تھی کہ عرب ارکان ‘‘تورات کے مطالعہ’’ کے بنیادی قانون پر ووٹ نہیں دیں گے، جس کے بدلے میں حریدی ‘‘اذان قانون’’ کو روکنے میں مدد کریں گے، لیکن شاس پارٹی کی جانب سے حمایت کے بعد یہ ہم آہنگی ختم ہو گئی ہے۔الرعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے شاس پارٹی کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ‘‘شاس پارٹی کا ایک نسل پرستانہ اور مذہب مخالف قانون کی حمایت کرنے کا فیصلہ مایوس کن اور شرمناک ہے’’۔ اگر یہ قانون حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے تو یہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرے گا، ان کے اوقات کار کا تعین کرے گا اور مساجد میں ان کے استعمال کے لیے خصوصی لائسنس لینا لازمی قرار دے گا۔ پولیس کو یہ وسیع اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر بند کروا سکے اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں ضبط کر سکے۔ماہرین قانون اور مذہبی حلقوں نے اس منصوبے کو ایک ایسی مذہبی جنگ کا اعلان قرار دیا ہے جو فلسطینی شناخت اور عبادت کی آزادی کو نشانہ بناتی ہے۔ وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ اسرائیل اذان کو اپنی یہودیت نواز پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، جبکہ اوقاف کے متولیوں نے اسے ایک نسل پرستانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے معاشرتی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچے گا۔یہ مسودہ قانون 2011ء سے جاری ان اسرائیلی کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد شور کی آلودگی کے بہانے اذان پر پابندی لگانا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے ایک ایسا متنازعہ مسودہ قانون منظورکیاہے، جس کے تحت دہشت گردی کے الزامات میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔اس اقدام پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے امتیازی قرار دیا ہے۔قانون کے حق میں 62 ارکان جن میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی شامل تھے، نے ووٹ دیا، جبکہ 48 ارکان نے مخالفت کی، ایک نے ووٹ نہیں دیا اور باقی غیر حاضر رہے۔یہ مسودہ جو شدت پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، اس سے قبل نومبر میں پہلی بار منظور ہوا تھا۔جرمنی، برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ قانون اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے انحراف کا باعث بن سکتا ہے۔

انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اس قانون کا دفاع کیا اور ووٹنگ سے قبل پھانسی کے پھندے کی شکل کا بیج لگا کر اپنی حمایت ظاہر کی ووٹنگ کے بعد انہوں نے ”ایکس ”پر لکھا: ہم نے تاریخ بنا دی! ہم نے وعدہ کیا تھا اور پورا کر دیا۔ قانون کے مطابق جو بھی شخص جان بوجھ کر کسی اسرائیلی شہری یا رہائشی کو نقصان پہنچانے یا اسرائیل کے وجود کو ختم کرنے کی نیت سے قتل کرے، اسے سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی ہے۔تاہم مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے اس قانون میں یہ شق شامل ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی عدالت کسی قتل کو "دہشت گردی” قرار دے، تو سزائے موت بطور ڈیفالٹ لاگو ہوگی۔اس طرح یہ قانون فلسطینیوں پر تو سزائے موت کے اطلاق کی اجازت دیتا ہے، لیکن کسی اسرائیلی کی جانب سے فلسطینی کے قتل کی صورت میں اس کا اطلاق ممکن نہیں ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں