ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ
شیئر کریں
ب نقاب /ایم آر ملک
تیل کے بحران اور پیٹرولیم کمپنیوں کے مبینہ منافع خوری کے تحفظ پر ایک صنعتکار وزیر اعظم کے خلاف یہ طوفان کیوں ؟
پورے ملک کی عوام شدید غصے اور بے چینی کی اونچائیوں پر کھڑے حکومت کو کوس رہے ہیں ۔عوام نے اس حساس ترین معاملے پر مہر سکوت توڑتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عوام حق بجانب ہیں کہ جو آئل کمپنیاں آج عوام کے سامنے بیٹھ کر 104 ارب روپے کے مبینہ نقصان کا رونا رو رہی ہیں وہ پہلے ماضی کے اس ہولناک ظلم کا حساب دیں جب انہوں نے غریب عوام کی جیبوں پر سرعام ڈاکہ ڈالا تھا۔پیٹرولیم کی قیمت 137روپے لیٹر بڑھنے پر آئل کمپنیوں نے 72 ارب کمایا اور 74روپے قیمت کم ہونے پر نقصان 104ارب روپے یہ کیا منطق ہے ؟ یہ کونسی سائنس ہے ؟
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز پر جب عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال تھی تو ان کمپنیوں نے انتہائی سستے داموں تیل خریدا لیکن اس سستے تیل کو عوام تک پہنچانے کے بجائے راتوں رات پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا ریکارڈ توڑ اضافہ کر دیا گیا۔ یہ محض ایک اضافہ نہیں تھا بلکہ مہنگائی کی چکی میں پستی ہوئی معصوم عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نوچنے کا ایک منظم اور بے رحم منصوبہ تھا جس نے کروڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے۔
پاکستانی عوام کا مقدمہ میرے جیسے صحافی بھی نہایت جذباتی انداز میں لڑتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ جب پیٹرول کی قیمت میں یکمشت 55 روپے کا ظالمانہ اضافہ کر کے عوام کا خون نچوڑا گیا تھا تو اس وقت ان کمپنیوں کی تجوریوں میں کتنے سو ارب روپے کا ریکارڈ فائدہ منتقل ہوا ؟ اس اندھی کمائی اور بے حساب منافع کا حساب کون دے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب پیٹرولیم کمپنیاں اربوں روپے کا منافع کما کر عیاشیاں کر رہی ہوتی ہیں تو اس وقت وہ اپنا منافع عوام میں کیوں نہیں بانٹتیں لیکن جیسے ہی عالمی منڈی میں معمولی سی تبدیلی آتی ہے تو فورا 104 ارب روپے کے خسارے کا واویلا شروع کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ قیمتیں مزید بڑھا کر عوام کا کچومر نکالا جا سکے۔
عوامی حلقوں میں یہ بحث اب جواب مانگتی ہے ،اس سوال کی تائید کرتے ہوئے ایک عام پاکستانی کا غصہ قابل دید ہے کہ اب کمپنیوں کی
اس دوغلی پالیسی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ پہلے ہی بجلی کے بلوں اور بنیادی راشن کی قیمتوں کے بوجھ تلے دب کر سسکیاں لے رہا ہے اور ایسے میں تیل کمپنیوں کا یہ رویہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔کیا ان کمپنیوں کے پچھلے تمام ریکارڈز کا ازسرنو آڈٹ کیا جائیگا ؟ کیا سستے تیل پر کمائے گئے اس اربوں روپے کے فائدے کا حساب لے کر عوام کو ریلیف مل پائے گا۔ کیونکہ اب یہ مظلوم عوام مزید کسی نئے ظلم یا پیٹرول بم کو برداشت کرنے کی سکت بالکل نہیں جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 28 فروری پر واپس چلی گئی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول 252 روپے پر واپس کیوں نہیں آیا؟ چالیس پچاس روپے کا منافع کون کھا رہا ہے؟
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی ہوچکی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی سطح پر جنگی خطرات ٹلنے کے بعد منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی سطح پر آ چکی ہیں جہاں یہ 28 فروری کو تھیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے اس تاریخی ریلیف کا مکمل فائدہ اب بھی غریب اور پپسے ہوئے پاکستانی عوام تک منتقل نہیں کیا جا سکا۔
کیا یہ اعداد و شمار کا ہیر پھیر نہیں ؟
بالفرض فروری کے ریکارڈز اور موجودہ معاشی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو پیٹرول کی قیمت 250 سے 252 روپے کے آس پاس ہونی چاہیے تھی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں حالیہ کچھ کمی تو کی گئی لیکن یہ ریلیف ابھی تک ادھورا ہے۔کیا ایک صنعت کار وزیر اعظم آئل کمپنیوں کے منافع کے تحفظ میں لگا ہوا ہے جبکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ڈیولپمنٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی وصول کر رہی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اچانک قیمتیں کم کرنے سے انہیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن عوام کا سوال برقرار ہے کہ کیا ان کمپنیوں کے مبینہ نقصانات کا بوجھ ہمیشہ غریب عوام کی جیبوں پر ہی ڈالا جائے گا؟
عوامی جذبات کی سسکیاں کون سنے گا ؟
پیٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ غریب کے چولہے اور اسکول جاتے بچوں کے کرایوں اور روزمرہ کی دال روٹی کا نام ہے۔جب ایک عام موٹر سائیکل چلانے والا یا ایک رکشہ ڈرائیور یا ایک دیہاڑی دار مزدور پمپ پر کھڑا ہو کر اپنی خون پسینے کی کمائی سے مہنگا پیٹرول خریدتا ہے تو وہ حکمرانوں سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں گر چکی ہیں تو ہمارے نصیب میں یہ ریلیف کب آئے گا؟ کیا یہ چالیس پچاس روپے کا منافع ملکی خزانے کو بھرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا پھر مافیاز کی جیبوں میں جا رہا ہے؟ عوام اب صرف کھوکھلے دعوے نہیں بلکہ مکمل معاشی انصاف اور پٹرول کی قیمت میں ریلیف کے خواہاں ہیں ۔
٭٭٭


