میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کینیڈا میں بھارتیوں کے خلاف آپریشن

کینیڈا میں بھارتیوں کے خلاف آپریشن

جرات ڈیسک
پیر, ۳ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مودی حکومت کی کھلی چھوٹ کے باعث بھارتی جرائم پیشہ گروہ دنیا بھر کے لئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں اوربھارت کا مجرمانہ کردار بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریوں سے بھارت کا مجرمانہ کردارآشکار ہوگیا ہے۔ کینیڈا میں سرحد پار سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیور گرفتار کر لیے گئے۔گرفتار ملزمان سے کینیڈین حکام نے 139 ملین ڈالر مالیت کی 1.7 ٹن منشیات ضبط کرلیں۔ کینیڈا نے منشیات کی ترسیل کے خلاف اہم کارروائی کی اورتحقیقات میں بھارتی نژاد افراد سے منسلک تجارتی ٹرانسپورٹ کا غیر قانونی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔ کینیڈین ماہر ویڈ ڈیزمین کے مطابق بھارتی نژاد گروہ ایک بہت بڑی جرائم پیشہ تنظیم ہے جو دنیا بھر میں بہت سے سنگین جرائم میں ملوث ہے۔بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کا عالمی سطح پر پھیلاؤ مودی حکومت کی کمزور اور بدترین حکمت عملی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، بھارتی ایجنسی‘را‘ نے اجرتی قاتلوں اور افغانی ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں کم از کم 6 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی۔ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ میں مزید کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں 2 نقاب پوشوں نے لاہور میں عامر سرفراز (تانبا) کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے، یہ واقعہ بھی دوسرے ممالک کی طرح بھارت کی ‘خفیہ قتل مہم’ کا تسلسل تھا۔امریکی اخبار کے مطابق 2021 کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ نے پاکستان میں متعدد افراد کو قتل کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم چلائی، جس میں میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں بھی ماورائے عدالت قتل کروائے، کینیڈا اور امریکا میں بھارتی ‘را’ نے سکھ رہنماؤں کو قتل کیا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2014ء میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے، لیکن ہم اپنے مقاصد کے لیے خفیہ ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔امریکی جریدے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ‘‘را’’ کی ٹارگٹ کلنگ مہم کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے، بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ماروائے عدالت قتل کیے۔

بھارت نے کینیڈا اور امریکا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘‘را’’ نے سکھ رہنماؤں کو قتل کیا، نئی دہلی میں را کے افسر وکاش یادیو نے نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند راہنما پر قاتلانہ حملے کی ہدایت جاری کیں، را افسر نے اس قتل میں اپنے ایجنٹ کو ایک مقامی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ کینیڈین حکام نے بھی بھارتی سفارت کاروں اور ‘را’ کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستانی شہریوں محمد ریاض اور مولانا شاہد لطیف کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کے ملوث ہونے شواہد منظر عام پر آچکے ہیں، اس سے قبل بھی وزارت خارجہ شواہد کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کرچکی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہلاکتوں میں بھارت کے براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف کر چکے ہیں، بھارتی جارحیت، دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اقوام عالم کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں بھی بھارت کے خلاف دیگر ممالک میں خفیہ کارروائیوں کے دوران شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا انکشاف کیا جاچکا ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت نے 2020 سے اب تک پاکستانی سرزمین پر 20 افراد کو قتل کروایا۔

پاکستانی اور بھارتی خفیہ ایجنٹس سے ہوئی گفتگو اور پاکستانی تفتیش کاروں کی فراہم کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بھارت کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ (را) نے 2019 کے بعد سے قومی سلامتی کے نام پر مبینہ طور پر بیرون ملک قتل کرنا شروع کیے۔دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ کو براہ راست وزیراعظم نریندر مودی آفس کنٹرول کر رہا ہے، انٹیلی جنس اہلکاروں سے گفتگو سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت نے ایک ایسی پالیسی پر عملدرآمد کیا ہے، جس کے تحت وہ ایسی شخصیات کو بیرون ملک ٹارگٹ کر رہا ہے جسے وہ بھارت کا دشمن سمجھتا ہے۔پاکستان کا موقف واضح ہے، امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے، کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا، بھارت خود ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں