حکومت سمٹ رہی ہے!
شیئر کریں
اقتدارکی راہداریوں میں حشرات الارض کی طرح کچھ صحافی بھی رینگتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ایک نہیں ہوتے، بدلتے رہتے ہیں۔ وقت بہ وقت ، موقع بہ موقع، صلاحیت اور سرایت کی بناء پر۔
دنیائے صحافت میں ایک اصطلاح ‘‘embedded journalism’’ کی رائج ہے۔ بابائے صحافت ضمیر نیازی مرحوم ، صاحب ِ فراش تھے، جب یہ خاکسار ایوب خان کے عہد کی صحافت اور معروف صحافیوں کے کردار کو سمجھنے کے لیے اُن کی خدمت میں حاضر رہتا۔ وہ صحافتی معلومات کو دستاویزی انداز میں سنبھالے رکھتے۔ ایک روز اسی اصطلاح پر بحث شروع ہو گئی۔انگریزی اصطلاح میں ‘‘embedded journalism’’ سے مراد ایسی صحافت ہے جس میں صحافی کسی فوجی دستے ، جنگی یونٹ یا کسی مخصوص ادارے یا طاقت ور گروہ کے ساتھ ہم سفررہتے ہوئے ‘‘وقائع نگاری’’ کرتا ہے ۔دنیا میں یہ صحافتی شکل ایک‘ وابستہ صحافت’ سمجھے جانے کے باوجود کچھ اتنی بے ساکھ بھی نہیں ۔ ہر ‘‘Embedded journalist’’ ضروری نہیں کہ کچھ اتنا غیر معتبر بھی ہو۔ مگراس میں ایک ساختیاتی مسئلہ یہ ہے کہ کوئی صحافی کسی طاقت ور فریق سے وابستہ ہو، تو اس کی رسائی اور تناظر دونوں ہی ‘‘متعصبانہ’’ ہو سکتے ہیں۔ وہ رسائی کا ‘‘لطف’’ بھی لے سکتا ہے اور‘‘ مہربانیاں’’بھی سمیٹ سکتا ہے۔ جس کے باعث اُس کے ‘‘ذرائع’’ پرکامل انحصار کی روش ‘معروضیت’’کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ اور اس کی دوسری تصدیق کی ذمہ داری کو کج مج کر سکتی ہے۔ انتہائی احتیاط سے اِسے ‘‘جھوٹی صحافت ’’ نہ کہا جائے تو بھی یہ آزاد صحافت کے لیے انتہائی کمزور انتظام سمجھا جائے گا۔ یہ ساختی مسئلہ اس کی بنیادوں میں برقرار رہے گا۔
مرحوم ضمیر نیازی پاکستان کے مخصوص حالات میں اسے محض ‘‘وابستہ صحافت’’ سمجھنے پر مکتفی نہ تھے، چنانچہ اُنہوں نے اس کا اردو ترجمہ ‘‘ہم بستر’’ صحافت قرار دیا۔ اس اصطلاح کے اندر اس نوع کی پاکستانی صحافت کا پورا کردار ہی سمٹ آتا ہے۔ پاکستان میں اِن دنوں یہ صحافت اپنے جوبن پر ہے۔‘‘یہ کمپنی نہیں چلے گی ’ ’ سے‘‘ حکومت سمٹ رہی ہے’ ’تک ایک ہی کہانی ہے جو چلتی چلی آتی ہے۔ حکومتوں میں رہتے ہوئے عارضی حکومت اور مستقل حکومت میں فرق سمجھنا کچھ اتنا دشوار بھی نہیں۔ ‘‘ہم بستر’’ صحافی کے لیے ایسے موقع پر اپنے‘ بستر’ کا انتخاب کچھ اتنا مشکل نہیں ہوتا، تاکہ بوریا بستر گول نہ ہو جائے۔ جولائی سے حکومت کمزور ہونے کی خبر دینے والا کوئی ایک صحافی نہ تھا۔کتنے ہی صحافی تھے جو بستر جھاڑ کر اُٹھے۔ مگر ‘‘یہ کمپنی نہیں چلے گی’’ والے کی بات ہی کچھ اور ہے!!اب نیا منترا ہے کہ ‘‘حکومت سمٹ رہی ہے’’۔ ہم بستر صحافی نے ہدف بالکل واضح کر دیاہے کہ ‘‘زیادہ امکان تو یہی ہے کہ طاقتور مادر ملکہ چیونٹیوں سے اپنی مرضی منوا لے گی’’۔ ‘‘طاقت ور مادر ملکہ ’’سے مراد طاقت ور حلقے ہیں۔ چیونٹیاں دراصل پیپلزپارٹی ہے۔ یہاں معاملہ کوئی ‘‘اود بلاؤ کی ڈھیری’’ نہیں ۔ عوام سے جونک کی طرح چمٹی پیپلزپارٹی کو ‘‘چیونٹی’’ کے اتحاد اور نظم کی پابند کے طور پر پیش کرنا بھی ‘‘ہم بستر صحافت ’’کی ایک رعایت ہے۔ عوام کی رگوں سے آخری قطرۂ خون تک چوس لینے والی جونکیں کہاں ‘چیونٹی’ کی عزت پانے کی بھی مستحق ہیں۔ مگر صنف ِادب میں علامت نگاری کے فن کے ساتھ اس ذلت آمیز برتاؤ میں بھی زاویہ یہی ہے کہ مادر ملکہ اور چیونٹیاں شیر وشکر رہیں۔ہم بستر صحافی مادر ملکہ کو بھی ڈرا رہا ہے کہ ‘‘خطرہ اور خدشہ یہ ہے کہ اقتدار کی نونی اور پیپلی جوڑی ٹوٹی تو پھر سب کچھ ہاتھ سے جابھی سکتا ہے ، گرفتار کیڑی اور مادر ملکہ میں جو مرضی معاہدہ ہوجائے ، جو مرضی ضامن پڑجائے یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے ’’۔ یہی نہیں، ڈراوا، اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ‘‘تاریخ گواہ ہے کہ یہی کیڑیاں اکٹھی ہوجائیں تو زہریلے ترین سانپ کوبھی کچا کھاجاتی ہیں’’۔اس فقرے میں ‘‘زہریلے ترین سانپ’’ سے کیا مراد ہے، یہ سمجھنا اتنا کٹھن نہیں۔‘‘مادر ملکہ’’ علامتی فہم نہ بھی رکھتی ہوتو فہم رکھنے والے تمام فنون کے دماغوں کو اپنی خدمت پر مامور ضرور رکھتی ہے۔ زہریلے ترین سانپ سے مراد کی فنی تشریح اُن پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
یہاں ہم بستر صحافی نے جو مجموعی فضا بنائی ہے ، اس میں یہ تنبیہ موجود ہے کہ تحریک انصاف کا جو خوف پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے اندر سرایت ہے، اور جسے طاقت ور حلقے استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کے ایجنڈے پر دھکیل رہے ہیں، وہ خوف جادو نہ جگا سکے گا۔ اور ایسی کوئی تال میل خود ‘‘مادر ملکہ’’ کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ ظاہر ہے یہ خدشہ کسی ایک کا ہم بستر رہنے والا نہیں پال سکتا۔ ایک سے زیادہ بستر کا ‘‘شوق آوارگی’’ ہی کسی کو، ایسے خدشات کے انگاروں پر لوٹائے رکھتا ہے۔
یہ کیسی صحافت ہے جس میں فارم 47 کی حکومت بنتے ہوئے دیکھی گئی۔ جس میں انتخابات کی جعلسازی کو آئینی بندوبست میں ڈھالنے کی مشق کا نظارہ کیا گیا۔ جس میں مقننہ ،عاملہ اور عدلیہ کے اُدھیڑنے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا گیا۔ جس میں ملک کے مقبول ترین رہنما پر لغو الزامات کے چسکے لیے گئے۔ اُنہیں کال کوٹھری میں دھکیلنے پر خاموشی کی فضیلتیں یاد کی گئیں۔ ججز کلاس روم کے حاضر جناب بچے بنا دیے گئے۔ پارلیمنٹ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فیض یافتہ انگوٹھا چھاپ کسی دیہاتی عورت کی طرح بنا دی گئی۔ سرکاری ادارے انتقام کا تختہ مشق بنا دیے گئے۔ملک کے تمام اداروں کاواحد ہدف ایک شخص کو زندان میں رکھنے کے علاوہ باقی کچھ نہ رہ گیا۔اس میں نہ قیدی کے حقوق یاد رکھے گئے، نہ انسان کے بنیادی حقوق کا شعور زندہ رہا۔ جب ایک پورے ملک اور اس کے تمام اداروں کی قومی خدمت کی واحد تشریح ایک قیدی پر جبر کے پہاڑ توڑنے پر سمٹ جائے تو پھر ‘حکومت سمٹ رہی ہے’ کا واحد خوف ہی باقی رہ جاتا ہے۔ بس یہی خوف بول رہا ہے۔ یہ حکومت سمٹنے کا خوف نہیں، یہ منظم جبر سے وابستہ ہر حلقے اور فرد کے بوریا بستر گول ہونے کا خوف بھی ہے۔ یہ ظلم کے جوہڑ میں پلنے والے الفاظ کے خراچوں کے بول بچن کے مستقبل کا بھی خوف ہے۔مگر ابھی اس قدر خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں ابھی ‘‘ہم بستر’’ صحافت کا مستقبل اتنا تاریک بھی نہیں ہوا۔
یہ کسے معلوم نہیں کہ جب ملک میں دو تین برسوں بعد دھرنوں اور احتجاج کا موسم شروع ہوتا ہے تو یہ مقتدر راہداریوں میں‘‘ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں’’ کی سرگوشیوں کا ستم ظریف دور ہوتا ہے۔ دھرنے عوامی مسائل پر مگر مذاکرات اقتدار کے فارمولے پر ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہم بستر صحافیوں کے کان میں مومن کا شعر خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے کہ
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے


