خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز، دنیا بھر سے وفود کی تہران آمد
شیئر کریں
سپریم لیڈر کی آخری رسومات و تجہیز و تکفین کا آغاز 9 جولائی تک جاری رہے گا
تہران میں نماز جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز قبل از وقت کر دیا گیا ہے،
جبکہ آخری رسومات میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے وفود کی تہران آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کے اعلی حکام کے مطابق سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی آخری رسومات و تجہیز و تکفین کا آغاز 4 جولائی سے 9 جولائی تک جاری رہے گا اور اسی دن ان کی تدفین ہوگی،
اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ تجہیز و تکفین کی مرکزی تقریب کا آغاز جمعے کی شام سے شروع کیا جائے گا،
تاہم غیر ملکی مہمانوں کی آمد کے باعث امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں تعزیتی تقریبات کا آغاز صبح سے ہی کر دیا گیا۔
ایران کے سب سے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز جامع امام خمینی مصلیٰ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی میتیں پہنچا دی گئیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق افغانستان سے طالبان حکومت کے سینئر نمائندے، چین سے اعلیٰ سرکاری حکام، بھارتی نمائندے اور روس کے سابق صدر سمیت روسی سلامتی کونسل کے نائب چئرمین دیمتری میدویدیف کی قیادت میں اعلیٰ وفد بھی تہران پہنچا۔
آرمینیا کے وزیراعظم سمیت متعدد اسلامی اور پڑوسی ممالک کے سربراہان نے بھی تجہیز و تکفین کی تقریبات میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، چنانچہ غیرملکی وفد کے تہران آمد کا سلسلہ آج رات بھر بھی جاری رہے گا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق 100 سے زائد ممالک نے کسی نہ کسی سطح پر اپنے نمائندے بھیجنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ تقریباً 30 ممالک کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفود تہران پہنچ رہے ہیں یا پہنچ چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران نے سرکاری طور پر علی خامنہ ای کے عوامی جنازے اور چھ روزہ سوگ کی تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔ علی خامنہ ای کے تابوت کے جلوس عراق میں بھی نکالے جائیں گے، جس کے بعد انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔


