اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران ، بشریٰ کی قید تنہائی کی رپورٹ مانگ لی
شیئر کریں
جسٹس خادم حسین سومرو نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ سے رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کر لیا
بتایا جائے کہ اگر قید تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں رکھا گیا ؟ کس قانون کے تحت ؟ عدالت
بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی قید تنہائی متعلق کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نیسپریٹنڈنٹ اڈیالہ سے تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کر لیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے قید تنہائی کیس میں اہم حکم جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ سے تفصیلی رپورٹ اور جیل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ اگر قید تنہائی میں رکھا گیا تو کیوں رکھا گیا ؟ کس قانون کے تحت ؟ کتنی دیر کے لیے؟ اور کیا یہ سزا ہے؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں ؟ رپورٹس آنے کے بعد عدالت ہے کرے گی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جیل میں کیسی حالت ہے؟
سپریٹنڈنٹ رپورٹ جمع کروائے ، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو کیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ، اس متعلق بھی رپورٹ دیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ قید تنہائی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے؟
تفصیلات جمع کرائیں، قابل سماعت ہونا اور کیس کے میرٹ رپورٹس سامنے آنے کے بعد فیصلہ ہو گا، قید تنہائی متعلق تفصیلی رپورٹ اڈیالہ جیل سپرنٹینڈنٹ جمع کروائے۔
کس قانون کے تحت کتنے عرصے کے لیے کن حالات میں قید تنہائی میں رکھا گیا رپورٹ دیں، جیل ریکارڈ ، رجسٹر ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات دو قیدیوں کے حوالے سے ساتھ لیکر آئندہ سماعت پر آئیں ، آئی جی جیل خانہ جات سپریٹنڈنٹ جیل لیول کا افسر آئندہ سماعت پر عدالت پیش کریں،
ایسا افسر عدالت کے سامنے پیش ہو جس کو کیس کے حالات و واقعات متعلق آگاہی ہو۔عدالت نے 6 اگست کے لیے تمام فریقین سے رپورٹس طلب کر لیں۔


