28 ویں ترمیم آناً فاناً نہیں، مشاورت سے آئے گی، اعظم نذیر تارڑ
شیئر کریں
ہائیکورٹ ججزکی کارکردگی سے جوڈیشل کمیشن مطمئن نہیں ہو گا ان کا ریفرنس بھجوایا جائیگا
وزارت قانون کی طرف سے بار ووکیشنل کورس کے لیے بیس ملین روپے دینے کا اعلان
وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ 28 ویں ترمیم مشاورت سے آئے گئی آناً فاناً نہیں آئے گئی،
26 اور 27 ویں ترمیم پر بھی بات کونسلز سے مشاورت کی گئی تھی، ہائیکورٹ کے ججز کی سال بعد پرفارمینس دیکھی جائے گئی،
جن کی کارکردگی سے جوڈیشل کمیشن مطمئن نہیں ہو گا ان کا ریفرنس بھجوایا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے لاہور میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت قانون کی طرف سے بار ووکیشنل کورس کے لیے بیس ملین روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں، اعلان بہت کرتے ہیں مگر اس پر عملی تو پر کام ہونا چاہئے،
آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرنا چاہئے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ 26 جون اور 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ سمیت دیگر بارز نے بڑا ساتھ دیا، پہلی بار ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے انٹرویو کیے جائیں گے،
انٹرویو کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، سات رکنی کمیٹی تجویز کردہ ناموں پر انٹرویو کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سول جج اور ایڈیشنل سیشن جج کے لیے امتحان لیا جاتا ہے،
ہائیکورٹ کے ججز کے لیے انٹرویو کیوں نا ہوں؟ ججز کی تعیناتی کا عمل میرٹ پر ہونا چاہئے۔وفاقی وزیرقانون کا کہنا تھا کہ پہلی بار ججز کی کارکردگی جانچنے کے لیے آئینی نظام لا رہے ہیں،
ججز ایولیشن کمیٹی ہر سال کے اّخر میں ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی، جب شام کو کیسز کی کاز لسٹ نکلتی ہے تو وکیل کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے کیس کے ساتھ کیا ہوگا،
وکیل کو پتہ ہوتا ہے یا تو کیس کا فیصلہ ہوگا یا بال سفید ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی احاطے میں دو عدالتیں فیصلے دے رہی ہیں اور دو تاریخیں، سب ججز بہت قابل عزت ہیں مگر یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔


